MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اردو ناول پر ترقی پسند تحریک کے اثرات تحریر ڈاکٹر محمد عبدالعزیز سہیل

اردو ناول پر ترقی پسند تحریک کے اثرات تحریر ڈاکٹر محمد عبدالعزیز سہیل سردار جعفری کی نظم نگاری کے دو تیور ہیں، ایک Prosaic یعنی نثری اور دوسرا اس کے بالکل برعکس انتہائی شاعرانہ، دلکش اور والہانہ، میرا ذاتی خیال ہے کہ جب وہ محسوس کرتے کہ انہیں صرف پیغام دینا ہے، اس سے زیادہ […]

اردو ناول پر ترقی پسند تحریک کے اثرات تحریر ڈاکٹر محمد عبدالعزیز سہیل Read More »

ناول میں سماجی شعور کی کارفرمائی

ثمر کبیر سرشار: فن اور شخصیت             ناول کا آغاز اس وقت ہوا جب انسانی سماج نے ترقی کی ایک خاص منزل طے کرنے کے بعد اصطلاحاً دور جدید میں قدم رکھا۔ افسانوی ادب کے نقوش اولین داستانیں اور قصے ہیں۔ ان کا زندگی کی حقیقت سے کوئی راست تعلق نہیں

ناول میں سماجی شعور کی کارفرمائی Read More »

پو پھٹتے ہی ٹرین کی سیٹی جب کانوں میں گونجتی ہے

غزل پو پھٹتے ہی ٹرین کی سیٹی جب کانوں میں گونجتی ہے ثروت تیری یاد مرے دل کے خانوں میں گونجتی ہے شہزادی کے ہجر میں لکھے کچھ لفظوں کی حیرانی شہزادی کے گھر تک آتے مے خانوں میں گونجتی ہے شہزادی کے کانوں میں جو بات کہی تھی اک تو نے بعد ترے وہ

پو پھٹتے ہی ٹرین کی سیٹی جب کانوں میں گونجتی ہے Read More »

خود میں دھونی رمائے بیٹھی ہوں

غزل خود میں دھونی رمائے بیٹھی ہوں آج خود کو بھلائے بیٹھی ہوں جانے والوں کا انتظار نہیں اپنے رستے میں آئے بیٹھی ہوں اس کی آنکھوں میں ہے طلسم کوئی اپنا چہرہ لٹائے بیٹھی ہوں چاند کو طیش آ رہا ہے کہ میں کیوں نظر کو ملائے بیٹھی ہوں پھول کھلتے ہیں مجھ میں

خود میں دھونی رمائے بیٹھی ہوں Read More »

اپنی آنکھیں جو بند کر دیکھوں

غزل اپنی آنکھیں جو بند کر دیکھوں سبز خوابوں کا میں سفر دیکھوں ڈوبنے کی نہ تیرنے کی خبر عشق دریا میں بس اتر دیکھوں بعد اس کے نہیں خبر کیا ہے آئنے تک تو چشم تر دیکھوں دل میں بجتا ہوا دھڑکتا ہوا اپنی تنہائی کا گجر دیکھوں بین کرتی ہوئی بہاروں میں خود

اپنی آنکھیں جو بند کر دیکھوں Read More »

یہ سوچا ہی نہیں تھا تشنگی میں

غزل یہ سوچا ہی نہیں تھا تشنگی میں کہاں رکھوں گی لب میں بے بسی میں تمہاری سمت آنے کی طلب میں میں رکتی ہی نہیں ہوں بے خودی میں دل خوش فہم تجھ سے کتنے ہوں گے نثار اس کی تمنا کی گلی میں نہیں وہ اتنا بھی پاگل نہیں تھا جو مر جاتا

یہ سوچا ہی نہیں تھا تشنگی میں Read More »

شام دل کو بجھائے جاتی ہے

غزل شام دل کو بجھائے جاتی ہے تیری باتیں سنائے جاتی ہے یہ اداسی بھی خوب صورت ہے مجھ کو رنگیں بنائے جاتی ہے رات کی آنکھ سے اسے دیکھو کیسے منظر دکھائے جاتی ہے ایک لمحے کی روشنی مجھ میں ایک دنیا بسائے جاتی ہے کتنی گمبھیر ہے یہ تاریکی میرے اندر سمائے جاتی

شام دل کو بجھائے جاتی ہے Read More »

لفظ خوشبو میں ڈھالتا منظر

غزل لفظ خوشبو میں ڈھالتا منظر لیجئے شعر بن گیا منظر کیسا سندر تھا اک زمانے میں تیری آنکھوں میں ڈوبتا منظر رنگ موسم سے اڑ گئے سارے کینوس پر پڑا رہا منظر آپ کا جسم بھی ہے مٹی کا ایک نازک سا بھربھرا منظر مجھ کو حیرت سے مار ڈالے گا آئنے میں سجا

لفظ خوشبو میں ڈھالتا منظر Read More »

کس کے ماتم میں رو رہی ہے رات

غزل کس کے ماتم میں رو رہی ہے رات چھپ کے بانہوں میں سو رہی ہے رات دکھ ہے ٹھہرا ہوا نگاہوں میں تیری یادیں بلو رہی ہے رات مجھ کو خوابوں کے باغ میں لا کر گھنے جنگل میں کھو رہی ہے رات روشنی نے لگائے جو الزام بہتی آنکھوں سے دھو رہی ہے

کس کے ماتم میں رو رہی ہے رات Read More »

اپنی حالت پہ آنسو بہانے لگے

غزل اپنی حالت پہ آنسو بہانے لگے سرد راتوں میں خود کو جگانے لگے سرخ تاروں کے ہم راہ کر کے سفر خواب زاروں سے کیوں آگے جانے لگے دور بجنے لگی ہے کہیں بانسری ہم بھی زندان میں گیت گانے لگے جو بصارت بصیرت سے محروم ہیں شہر کے آئنوں کو سجانے لگے ہم

اپنی حالت پہ آنسو بہانے لگے Read More »