MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

پو پھٹتے ہی ٹرین کی سیٹی جب کانوں میں گونجتی ہے

غزل

پو پھٹتے ہی ٹرین کی سیٹی جب کانوں میں گونجتی ہے
ثروت تیری یاد مرے دل کے خانوں میں گونجتی ہے

شہزادی کے ہجر میں لکھے کچھ لفظوں کی حیرانی
شہزادی کے گھر تک آتے مے خانوں میں گونجتی ہے

شہزادی کے کانوں میں جو بات کہی تھی اک تو نے
بعد ترے وہ بات ترے ہی افسانوں میں گونجتی ہے

جان سے جانے سے پہلے اک آہ بھری ہوگی تو نے
شام ڈھلے جو دور کہیں اب ویرانوں میں گونجتی ہے

عاصمہ طاہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم