MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

تیری یادیں بحال رکھتی ہے

غزل تیری یادیں بحال رکھتی ہے رات دل پر وبال رکھتی ہے شب غم کی یہ راگنی بن میں بانسری جیسی تال رکھتی ہے دل کی وادی سے اٹھنے والی کرن وحشتوں کو اجال رکھتی ہے بام و در پر اترنے والی دھوپ سبز رنگ ملال رکھتی ہے شام کھلتی ہے تیرے آنے سے لب […]

تیری یادیں بحال رکھتی ہے Read More »

صدیوں کو بے حال کیا تھا

غزل صدیوں کو بے حال کیا تھا اک لمحے نے سوال کیا تھا مٹی میں تصویریں بھر کے کوزہ گر نے کمال کیا تھا باہر بجتی شہنائی نے اندر کتنا نڈھال کیا تھا جرم فقط اتنا تھا میں نے اک رستے کو بحال کیا تھا خوشبو جیسی رات نے میرا اپنے جیسا حال کیا تھا

صدیوں کو بے حال کیا تھا Read More »

سنہری دھوپ سے چہرہ نکھار لیتی ہوں

غزل سنہری دھوپ سے چہرہ نکھار لیتی ہوں اداسیوں میں بھی خود کو سنوار لیتی ہوں مرے وجود کے اندر ہے اک قدیم مکان جہاں سے میں یہ اداسی ادھار لیتی ہوں کبھی کبھی مجھے خود پر یقیں نہیں ہوتا کبھی کبھی میں خدا کو پکار لیتی ہوں جنم جنم کی تھکاوٹ ہے میرے سینے

سنہری دھوپ سے چہرہ نکھار لیتی ہوں Read More »

ہمیں بھی مسکرانا چاہیے تھا

غزل ہمیں بھی مسکرانا چاہیے تھا مگر کوئی بہانہ چاہیے تھا محبت ریل کی پٹری نہیں تھی کہیں تو موڑ آنا چاہیے تھا ترے کاندھے پہ رکھ کر سر کسی دن ہمیں بھی بھول جانا چاہیے تھا مری لغزش خدا سے کیوں شکایت ارے مجھ کو بتانا چاہیے تھا یہ تم نے خود کو پتھر

ہمیں بھی مسکرانا چاہیے تھا Read More »

کر دیا زار غم عشق نے ایسا مجھ کو

غزل کر دیا زار غم عشق نے ایسا مجھ کو موت آئی بھی تو بستر پہ نہ پایا مجھ کو کبھی جنگل کبھی بستی میں پھرایا مجھ کو آہ کیا کیا نہ کیا عشق نے رسوا مجھ کو دشمن جاں ہوا در پردہ مرا جذبۂ عشق منہ چھپانے لگے وہ جان کے شیدا مجھ کو

کر دیا زار غم عشق نے ایسا مجھ کو Read More »

تیغ نگہ دیدۂ خوں خار نکالی

غزل تیغ نگہ دیدۂ خوں خار نکالی کیوں آپ نے عشاق پہ تلوار نکالی بھولے ہیں غزالان حرم راہ خطا سے تم نے عجب انداز کی رفتار نکالی دھڑکا مرے نالہ کا رہا مرغ سحر کو آواز شب وصل نہ زنہار نکالی ہر گھر میں کہے رکھتے ہیں کہرام پڑے گا گر لاش ہماری سر

تیغ نگہ دیدۂ خوں خار نکالی Read More »

واہ کیا حسن کیسا جوبن ہے

غزل واہ کیا حسن کیسا جوبن ہے کیسی ابرو ہیں کیسی چتون ہے جس کو دیکھو وہ نور کا بقعہ یے پرستان ہے کہ لندن ہے عبث ان کو مسیح کہتے ہیں مار رکھنے کا ان میں لچھن ہے حسن دکھلا رہا ہے جلوۂ حق روئے تاباں سے صاف روشن ہے رسم الٹی ہے خوب

واہ کیا حسن کیسا جوبن ہے Read More »

وہ مسیحا قبر پر آتا رہا

غزل وہ مسیحا قبر پر آتا رہا میں موے پر روز جی جاتا رہا زندگی کی ہم نے مر مر کے بصر وہ بت ترسا جو ترساتا رہا واہ بخت نارسا دیکھا تجھے نامہ بر سے خط کہیں جاتا رہا راہ تکتے تکتے آخر جاں گئی وہ تغافل کیش بس آتا رہا دل تو دینے

وہ مسیحا قبر پر آتا رہا Read More »

ہجر جاناں میں جی سے جانا ہے

غزل ہجر جاناں میں جی سے جانا ہے بس یہی موت کا بہانہ ہے کیوں نہ برسائیں اشک دیدۂ تر آتش عشق کا بجھانا ہے ہو عدو جس پہ کیجیئے احسان کچھ عجب طرح کا زمانہ ہے یاد دلوا کے داستان وصال عاشق زار کو رلانا ہے رکھ دلا روز و شب امید وصال رنج

ہجر جاناں میں جی سے جانا ہے Read More »

گئی جو طفلی تو پھر عالم شباب آیا

غزل گئی جو طفلی تو پھر عالم شباب آیا گیا شباب تو اب موسم خضاب آیا میں شوق وصل میں کیا ریل پر شتاب آیا کہ صبح ہند میں تھا شام پنچ آب آیا کٹا تھا روز مصیبت خدا خدا کر کے یہ رات آئی کہ سر پہ مرے عذاب آیا کہاں ہے دل کو

گئی جو طفلی تو پھر عالم شباب آیا Read More »