جس کو سب کہتے ہیں سمندر ہے
غزل جس کو سب کہتے ہیں سمندر ہے قطرۂ اشک دیدۂ تر ہے ابروئے یار دل کا خنجر ہے مژۂ یار نوک نشتر ہے چشم عاشق سے دو بہے دریا ایک تسنیم ایک کوثر ہے خانۂ دل ہے غیر سے خالی شوق سے آؤ آپکا گھر ہے قطعی آج فیصلہ ہوگا تیری تلوار ہے مرا […]
جس کو سب کہتے ہیں سمندر ہے Read More »