MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جس کو سب کہتے ہیں سمندر ہے

غزل جس کو سب کہتے ہیں سمندر ہے قطرۂ اشک دیدۂ تر ہے ابروئے یار دل کا خنجر ہے مژۂ یار نوک نشتر ہے چشم عاشق سے دو بہے دریا ایک تسنیم ایک کوثر ہے خانۂ دل ہے غیر سے خالی شوق سے آؤ آپکا گھر ہے قطعی آج فیصلہ ہوگا تیری تلوار ہے مرا […]

جس کو سب کہتے ہیں سمندر ہے Read More »

باشندے حقیقت میں ہیں ہم ملک بقا کے

غزل باشندے حقیقت میں ہیں ہم ملک بقا کے کچھ روز سے میہمان ہیں اس دار فنا کے دل خوں ہو شب وصل بھی حسرت میں نہ کیوں کر دیکھیں نہ وہ خلوت میں بھی جب آنکھ اٹھا کے فرمائیے ہم سے تھی یہی شرط محبت خوب آپ نے رسوا کیا غیروں میں بلا کے

باشندے حقیقت میں ہیں ہم ملک بقا کے Read More »

لے قضا احسان تجھ پر کر چلے

غزل لے قضا احسان تجھ پر کر چلے ہم ترے آنے سے پہلے مر چلے کوچۂ جاناں میں جانا ہے ضرور چاہے آرا سر پہ یا خنجر چلے بس یہ ہے کوئے بتاں کی سرگزشت سر پہ میرے سیکڑوں پتھر چلے کوئے جاناں کا نہ پایا کچھ نشان خضر کے ہمراہ ہم دن بھر چلے

لے قضا احسان تجھ پر کر چلے Read More »

کر چکا قید سے جس وقت کہ آزاد مجھے

غزل کر چکا قید سے جس وقت کہ آزاد مجھے ہاتھ ملتا ہی رہا دیکھ کے صیاد مجھے عمر بھر یوں تو کبھی لی بھی نہ کروٹ پس مرگ حیف رہ رہ کے کیا کرتے ہیں اب یاد مجھے حکم درباں کو ہے زنہار نہ آنے پائے غیر کے سامنے کرتے ہیں مگر یاد مجھے

کر چکا قید سے جس وقت کہ آزاد مجھے Read More »

پسے ہیں دل زیادہ تر حنا سے

غزل پسے ہیں دل زیادہ تر حنا سے چلا دو گام بھی جب وہ ادا سے وہ بت آئے ادھر بھی بھول کر راہ دعا یہ مانگتا ہوں میں خدا سے حجاب اس کا ہوا شب مانع دید نقاب الٹی نہ چہرے کی حیا سے اشارہ خنجر ابرو کا بس تھا مجھے مارا عبث تیغ

پسے ہیں دل زیادہ تر حنا سے Read More »

مثل دریا کے اگر اشک فشانی ہوتی

غزل مثل دریا کے اگر اشک فشانی ہوتی آنسوؤں میں صفت سیل روانی ہوتی گر اجل اور بہانوں سے بھی آنی ہوتی پھر شب ہجر نہ یوں دشمن جانی ہوتی یار تک کشتیٔ تن بہ کے پہنچتی میری قلزم اشک میں اتنی تو روانی ہوتی ان کے ابرو کے اگر وصف سراسر لکھتا صورت تیغ

مثل دریا کے اگر اشک فشانی ہوتی Read More »

ظاہر دو رنگیٔ چمن روزگار ہے

غزل ظاہر دو رنگیٔ چمن روزگار ہے دو دن خزاں ہے باغ میں دو دن بہار ہے جامہ گلوں کا ہجر میں شب تار تار ہے بلبل اسیر دام ہے قمری شکار ہے ان کی صفائیوں کا کسے اعتبار ہے دل میں بہ شکل آئنہ جن کے غبار ہے غنچے شگفتہ ہوتے ہیں نالاں ہزار

ظاہر دو رنگیٔ چمن روزگار ہے Read More »

کیا تا بہ زباں آئے دل زار کی آواز

غزل کیا تا بہ زباں آئے دل زار کی آواز بیمار کے مانند ہے بیمار کی آواز موسیٰ کی پسند آئی ہے تکرار کی آواز مطلوب ہوئی طالب دیدار کی آواز دونی نہ ہو کیوں آمد دل دار کی آواز خلخال کی آواز ہے رفتار کی آواز کہتے ہیں وہ سن سن کے دل زار

کیا تا بہ زباں آئے دل زار کی آواز Read More »

حوصلہ کوئی شب وصل نکلنے نہ دیا

غزل حوصلہ کوئی شب وصل نکلنے نہ دیا درد دل نے مجھے اک دم بھی سنبھلنے نہ دیا آسمانوں کو دلا ضبط نے جلنے نہ دیا آتشیں نالہ مرے منہ سے نکلنے نہ دیا ہم نے دل سوز تپ ہجر سے جلنے نہ دیا ساتھ آہوں کے دھواں منہ سے نکلنے نہ دیا باغیوں نے

حوصلہ کوئی شب وصل نکلنے نہ دیا Read More »

دل بھر آتا ہے جو وہ اس دل ناشاد کے ساتھ

غزل دل بھر آتا ہے جو وہ اس دل ناشاد کے ساتھ وہ بھی روتے ہیں مرے نالہ و فریاد کے ساتھ لب پہ جان آتی ہے آہ دل ناشاد کے ساتھ منہ کو آتا ہے جگر نالہ و فریاد کے ساتھ نام کیونکر نہ حسینوں کا ہو بیداد کے ساتھ بے وفائی بھی ہو

دل بھر آتا ہے جو وہ اس دل ناشاد کے ساتھ Read More »