اس کو ستم گری میں کسی دل سے کیا غرض
غزل اس کو ستم گری میں کسی دل سے کیا غرض قاتل کو بے قراریٔ بسمل سے کیا غرض جس میں نہ تیری یاد ہو اس دل سے کیا غرض لیلیٰ نہ ہو تو قیس کو محمل سے کیا غرض مشق ستم گری نہ کرے وہ محال ہے اس کو ہمارے اس دل بسمل سے […]
اس کو ستم گری میں کسی دل سے کیا غرض Read More »
