MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اس کو ستم گری میں کسی دل سے کیا غرض

غزل اس کو ستم گری میں کسی دل سے کیا غرض قاتل کو بے قراریٔ بسمل سے کیا غرض جس میں نہ تیری یاد ہو اس دل سے کیا غرض لیلیٰ نہ ہو تو قیس کو محمل سے کیا غرض مشق ستم گری نہ کرے وہ محال ہے اس کو ہمارے اس دل بسمل سے […]

اس کو ستم گری میں کسی دل سے کیا غرض Read More »

وصل منظور نہ ہو گر تو اجارا کیا ہے

غزل وصل منظور نہ ہو گر تو اجارا کیا ہے دوسرے دل پہ بھلا زور ہمارا کیا ہے رہزنوں کو یہ دیا راہ میں دھوکا میں نے مال و زر سب یہ تمہارا ہے ہمارا کیا ہے وصل اک رات کا یا خون بہانا میرا تم کو ان دونوں میں اے جان گوارا کیا ہے

وصل منظور نہ ہو گر تو اجارا کیا ہے Read More »

بجھتا چلا ہے شعلہ دل داغدار کا

غزل بجھتا چلا ہے شعلہ دل داغدار کا اب کوئی دم میں کوچ ہے شمع مزار کا ہے ایک طرح شعلہ دل داغدار کا بجھتا نہیں چراغ ہماری مزار کا دل کی شکستگی پس مردن بھی ہے عیاں شق سو جگہ سے سنگ ہے میری مزار کا نام آوروں کو ایسا فلک نے مٹا دیا

بجھتا چلا ہے شعلہ دل داغدار کا Read More »

نزع میں وہ مرے پہلو سے گئے دل کی طرح

غزل نزع میں وہ مرے پہلو سے گئے دل کی طرح میں تڑپتا ہی رہا فرش پہ بسمل کی طرح ایک پہلو میں رہے دل مرا بسمل کی طرح ایک پہلو میں رہیں آپ مرے دل کی طرح کچھ اگر جذب محبت کا اثر ہو جائے تم بھی بیتاب ہو پہلو میں مرے دل کی

نزع میں وہ مرے پہلو سے گئے دل کی طرح Read More »

آ گیا وصل میں ان کو جو پسینا ٹھنڈا

غزل آ گیا وصل میں ان کو جو پسینا ٹھنڈا مجھ سے بولے کہ ہوا اب تو کلیجا ٹھنڈا شعلۂ داغ کو آہوں سے بڑھا دیتے ہیں صورت شمع وہ کرتے ہیں کلیجا ٹھنڈا میں جو روتا ہوں تو ہنس ہنس کے یہ فرماتے ہیں تیری آہوں نے کیا میرا کلیجا ٹھنڈا خون مجھ پر

آ گیا وصل میں ان کو جو پسینا ٹھنڈا Read More »

آہیں منہ سے مرے نکلنے دو

غزل آہیں منہ سے مرے نکلنے دو درد میں کروٹیں بدلنے دو قفس جسم سے نکلنے دو مرغ جاں کا بھی دل بہلنے دو رونے والے جہان کے روتے ہیں میرے آنسو بھی کچھ نکلنے دو غصہ کے وقت غیظ بھی کرنا منہ سے کچھ بات تو نکلنے دو سب تو قیدیں تھیں زندگی کیسی

آہیں منہ سے مرے نکلنے دو Read More »

خواہش شربت دیدار کروں یا نہ نہ کروں

غزل خواہش شربت دیدار کروں یا نہ نہ کروں میں علاج دل بیمار کروں یا نہ کروں طلب وصل پہ اصرار کروں یا نہ کروں بوسے لے کر اسے بیزار کروں یا نہ کروں نالے شب کو پس دیوار کروں یا نہ کروں خواب سے یار کو بیدار کروں یا نہ کروں مجھ سے کہتے

خواہش شربت دیدار کروں یا نہ نہ کروں Read More »

اس سے پہلے کہیں امکان کے مینارے پر

غزل اس سے پہلے کہیں امکان کے مینارے پر ہم ملے ہوں گے کسی دوسرے سیارے پر یار لبریز نگاہوں سے زیارت تیری روشنی آئے گرے چشم کے اندھیارے پر آ تحیر کے کسی باغ اتر جاتے ہیں اور ملتے ہیں کمالات کے فوارے پر منظر مصر میں یعقوب کو یوسف دیکھے یوں رہے آنکھ

اس سے پہلے کہیں امکان کے مینارے پر Read More »

گیروے کپڑے بدن پر ہاتھ لوہے کے کڑے

غزل گیروے کپڑے بدن پر ہاتھ لوہے کے کڑے لے ملامت دار صوفی در پہ تیرے آ پڑے اختیارات دیار دہر حاصل ہوں مجھے مہر سے سونا کشیدوں ماہ سے چاندی جھڑے بھیج دے مجھ کو جہان حسیات و لمس میں شور سے الجھے سماعت آنکھ سے منظر لڑے سرخ اینٹوں کی گلی تک جائیں

گیروے کپڑے بدن پر ہاتھ لوہے کے کڑے Read More »