MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

لے قضا احسان تجھ پر کر چلے

غزل

لے قضا احسان تجھ پر کر چلے
ہم ترے آنے سے پہلے مر چلے

کوچۂ جاناں میں جانا ہے ضرور
چاہے آرا سر پہ یا خنجر چلے

بس یہ ہے کوئے بتاں کی سرگزشت
سر پہ میرے سیکڑوں پتھر چلے

کوئے جاناں کا نہ پایا کچھ نشان
خضر کے ہمراہ ہم دن بھر چلے

پائی تیرے در پہ آ کر زندگی
او مسیحا کھا کے ہم ٹھوکر چلے

دیکھیے دیکھیں گے کیا روز جزا
یاں بشر آئے وہاں با شر چلے

ہو خزاں کیوں کر نہ گلشن کی بہار
جب یہاں باد صبا سرسر چلے

بزم سے جاتے ہو دزدیدہ نظر
نیم بسمل کر چلے کیا کر چلے

قول واعظ نے نہ کچھ تاثیر کی
کشتۂ کاکل پہ کب منتر چلے

خوں تری ترچھی نگاہوں نے کیا
لاکھ خنجر ایک کشتہ پر چلے

فرش پر ہے یوں خراماں رشک ماہ
عرش پر جیسے کوئی اختر چلے

کب ہوئی سودائے مژگاں سے شفا
نشتروں پر سیکڑوں نشتر چلے

مردان علی خاں رانا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم