MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اک بار مل کے وہ مرے سب خواب لے گیا

غزل اک بار مل کے وہ مرے سب خواب لے گیا آنکھوں سے میری ساری تب و تاب لے گیا گہرے سمندروں میں جو اترا تھا ایک بار موتی وہ سارے ڈھونڈ کے نایاب لے گیا پہلے بجھائے اس نے مرے گھر کے سب چراغ پھر میرے آسمان سے مہتاب لے گیا آیا تو اس […]

اک بار مل کے وہ مرے سب خواب لے گیا Read More »

ہمارے سانحے ہم کو سنا رہے کیوں ہو

غزل ہمارے سانحے ہم کو سنا رہے کیوں ہو تم اتنا بوجھ بھی دل پر اٹھا رہے کیوں ہو تمہاری چھاؤں میں بیٹھے اٹھا دیا تم نے پھر اب پکار کے واپس بلا رہے کیوں ہو جو بات سب سے چھپائی تھی عمر بھر ہم نے وہ بات سارے جہاں کو بتا رہے کیوں ہو

ہمارے سانحے ہم کو سنا رہے کیوں ہو Read More »

بارش تھی اور ابر تھا دریا تھا اور بس

غزل بارش تھی اور ابر تھا دریا تھا اور بس جاگی تو میرے سامنے صحرا تھا اور بس آیا ہی تھا خیال کہ پھر دھوپ ڈھل گئی بادل تمہاری یاد کا برسا تھا اور بس ایسا بھی انتظار نہیں تھا کہ مر گئے ہاں اک دیا دریچے میں رکھا تھا اور بس تم تھے نہ

بارش تھی اور ابر تھا دریا تھا اور بس Read More »

اک قیامت کا گھاؤ آنکھیں تھیں

غزل اک قیامت کا گھاؤ آنکھیں تھیں عشق طوفاں میں ناؤ آنکھیں تھیں راستہ دل تلک تو جاتا تھا اس کا پہلا پڑاؤ آنکھیں تھیں ایک تہذیب تھا بدن اس کا اس پہ اک رکھ رکھاؤ آنکھیں تھیں جن کو اس نے چراغ سمجھا تھا اس کو یہ تو بتاؤ آنکھیں تھیں دل میں اترا

اک قیامت کا گھاؤ آنکھیں تھیں Read More »

کہاں ہے تو کہاں ہے اور میں ہوں

غزل کہاں ہے تو کہاں ہے اور میں ہوں انا الحق کا بیاں ہے اور میں ہوں لب جاں بخش جاناں کا ہوں کشتہ حیات جاوداں ہے اور میں ہوں وصال دائمی کا ہے تصور بہار بے خزاں ہے اور میں ہوں نہیں ہر اک کو اس میخانے میں بار بس اک پیر مغاں ہے

کہاں ہے تو کہاں ہے اور میں ہوں Read More »

ہم نے سو سو طرح بنائی بات

غزل ہم نے سو سو طرح بنائی بات سامنے اس کے بن نہ آئی بات سچ تو کہتا ہے دوست دشمن ہے ہم نے ناصح کی آزمائی بات بات کے کاٹنے کا شکوہ کیا ہو جہاں قطع آشنائی بات وعدے پر اس سے کیوں قسم مانگے مفت بگڑی بنی بنائی بات ہم کو دشمن سے

ہم نے سو سو طرح بنائی بات Read More »

ہم ان کی نظر میں سمانے لگے

غزل ہم ان کی نظر میں سمانے لگے مگر جب نظر بھی نہ آنے لگے یہ تیری سخن سازیاں ہیں ندیم کسی پر وہ کیوں رحم کھانے لگے نہ دی غیر نے داد طرز ستم ستم گر کو ہم یاد آنے لگے نہ دانش درست اور بینش بجا دل و دیدہ دونوں ٹھکانے لگے گیا

ہم ان کی نظر میں سمانے لگے Read More »

جاں فشانی کا واں حساب عبث

غزل جاں فشانی کا واں حساب عبث جو کہو اس کا ہے جواب عبث ماہتاب اور کتاں کا عالم ہے عارض دوست پر نقاب عبث قفل در کی کلید نا پیدا اب تمناے فتح باب عبث زلف پر خم ہوا سے کیوں نہ ہلے آپ کھاتے ہیں پیچ و تاب عبث خط اسے بھیجنا ضرور

جاں فشانی کا واں حساب عبث Read More »

میں نے کہا کہ دعوی‌ٔ الفت مگر غلط

غزل میں نے کہا کہ دعوی‌ٔ الفت مگر غلط کہنے لگے کہ ہاں غلط اور کس قدر غلط تاثیر آہ و زاریٔ شب ہائے تار جھوٹ آوازۂ قبول دعائے سحر غلط سوز جگر سے ہونٹ پہ تبخالہ‌ افترا شور فغاں سے جنبش دیوار و در غلط ہاں سینے سے نمائش داغ دروں دروغ ہاں آنکھ

میں نے کہا کہ دعوی‌ٔ الفت مگر غلط Read More »

قاضی کے منہ پہ ماری ہے بوتل شراب کی

غزل قاضی کے منہ پہ ماری ہے بوتل شراب کی یہ عمر بھر میں ایک ہوئی ہے ثواب کی اے یار تیرے لب پہ تبسم نہیں نمود پیدا ہے ماہ نو سے کرن آفتاب کی آیا مژہ پہ لخت دل بے قرار یاد گردش جو ہم نے سیخ پہ دیکھی کباب کی تیری کدورتوں نے

قاضی کے منہ پہ ماری ہے بوتل شراب کی Read More »