MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اس توقع پہ کہ دیکھوں کبھی آتے جاتے

غزل اس توقع پہ کہ دیکھوں کبھی آتے جاتے گھس گئے پاؤں رہ‌ دوست میں جاتے جاتے فکر دوزخ میں ہمیں رفع معاصی کی پڑی آگ پر دامن تر کو ہیں سکھاتے جاتے غیر کا زور چلے ان پہ اور ان کا مجھ پر کہتے ہیں منہ سے ہو کیوں رال اڑاتے جاتے غیر کو […]

اس توقع پہ کہ دیکھوں کبھی آتے جاتے Read More »

بے دیے لے اڑا کبوتر خط

غزل بے دیے لے اڑا کبوتر خط یوں پہنچتا ہے اوپر اوپر خط پرزے پرزے ہوا سراسر خط ایک خط کے بنے بہتر خط قتل ہوتے ہیں نامہ بر ہر روز لاش پر لاش اور خط پر خط روز اک نامہ بر کہاں سے آئے یوں ہی رکھ چھوڑتا ہوں لکھ کر خط کیا قلم

بے دیے لے اڑا کبوتر خط Read More »

اپنا اپنا رنگ دکھلاتی ہیں جانی چوڑیاں

غزل اپنا اپنا رنگ دکھلاتی ہیں جانی چوڑیاں آسمانی ارغوانی زعفرانی چوڑیاں اک ذرا رنگ نزاکت بھی رہی مد نظر دھان پان اے جان تم ہو پہنو دھانی چوڑیاں داغ کھا کھا کر ہزاروں دل لہو ہو ہو گئے کل کھلی پہنیں جو تم نے ارغوانی چوڑیاں ہاتھ کھینچے کیوں نہ آرائش سے وہ نازک

اپنا اپنا رنگ دکھلاتی ہیں جانی چوڑیاں Read More »

لے کے اپنی زلف کو وہ پیارے پیارے ہاتھ میں

غزل لے کے اپنی زلف کو وہ پیارے پیارے ہاتھ میں کہتے ہیں فتنوں کی چوٹی ہے ہمارے ہاتھ میں ساقیا دونوں جہاں سے پھر تو بیڑا پار ہے گر بط مے آئے دریا کے کنارے ہاتھ میں عاشقوں کی آنکھ سے ہر دم برستا ہے لہو رنگ پر ہے آج کل مہندی تمہارے ہاتھ

لے کے اپنی زلف کو وہ پیارے پیارے ہاتھ میں Read More »

انداز نرالا ہے ادا اور ہی کچھ ہے

غزل انداز نرالا ہے ادا اور ہی کچھ ہے یہ حسن نہیں نام خدا اور ہی کچھ ہے کہتے ہو ہم اب غیر کو آنے نہیں دیتے یا رب یہی سچ ہو پہ سنا اور ہی کچھ ہے پردہ نہ رکھا تیرے لب روح فزا نے ہم جانتے تھے آب بقا اور ہی کچھ ہے

انداز نرالا ہے ادا اور ہی کچھ ہے Read More »

وہی گل ہے گلستاں میں وہی ہے شمع محفل میں

غزل وہی گل ہے گلستاں میں وہی ہے شمع محفل میں وہی یوسف ہے زنداں میں وہی لیلیٰ ہے محمل میں ہزاروں بن گئی ہیں کشتگان خال کی قبریں جگہ تل بھر نہیں باقی زمین کوئے قاتل میں نہیں روشن دلوں کی قدر کچھ ارباب ظاہر کو اجازت بیٹھنے کی شمع کو دی کس نے

وہی گل ہے گلستاں میں وہی ہے شمع محفل میں Read More »

رونے کی یہ شدت ہے کہ گھبرا گئیں آنکھیں

غزل رونے کی یہ شدت ہے کہ گھبرا گئیں آنکھیں اشکوں کی یہ کثرت ہے کہ تنگ آ گئیں آنکھیں دل سخت ہی کافر کا پر آنکھوں میں حیا ہے سنتے ہی جفا کا گلہ شرما گئیں آنکھیں محراب میں ہوتا نہیں مستوں کا گزارہ ابرو کے تلے خوب جگہ پا گئیں آنکھیں وہ طالب

رونے کی یہ شدت ہے کہ گھبرا گئیں آنکھیں Read More »

مر گیا غم میں ترے ہائے میں روتا روتا

غزل مر گیا غم میں ترے ہائے میں روتا روتا جیب و دامن کے تئیں اشک سے دھوتا دھوتا غیر از خار ستم کچھ نہ اگا اور کہیں کشت الفت میں پھرا اشک میں بوتا بوتا رفتہ رفتہ ہوا آخر کے تئیں کو مفلس نقد کو عمر کی میں ہجر میں کھوتا کھوتا گرچہ فرہاد

مر گیا غم میں ترے ہائے میں روتا روتا Read More »

جس دم ترے کوچے سے ہم آن نکلتے ہیں

غزل جس دم ترے کوچے سے ہم آن نکلتے ہیں ہر گام پہ دہشت سے بے جان نکلتے ہیں یہ آن ہے اے یارو یا نوک ہے برچھی کی یا سینے سے تیروں کے پیکان نکلتے ہیں رندوں نے کہیں ان کی خدمت میں بے ادبی کی جو شیخ جی مجلس سے سرسان نکلتے ہیں

جس دم ترے کوچے سے ہم آن نکلتے ہیں Read More »

آتا ہے تیغ ہاتھ میں وہ جنگجو لیے

غزل آتا ہے تیغ ہاتھ میں وہ جنگجو لیے جاتا ہوں میں بھی سر کے تئیں روبرو لیے گلزار یک بہ یک جو مہکنے لگا ہے یوں سچ کہہ صبا تو پھرتی ہے یاں کس کی بو لیے سوئے کبھی نہ ساتھ ہمارے خوشی سے تم جاویں گے گور میں یہی ہم آرزو لیے دیتا

آتا ہے تیغ ہاتھ میں وہ جنگجو لیے Read More »