MOJ E SUKHAN

قاضی کے منہ پہ ماری ہے بوتل شراب کی

غزل

قاضی کے منہ پہ ماری ہے بوتل شراب کی
یہ عمر بھر میں ایک ہوئی ہے ثواب کی

اے یار تیرے لب پہ تبسم نہیں نمود
پیدا ہے ماہ نو سے کرن آفتاب کی

آیا مژہ پہ لخت دل بے قرار یاد
گردش جو ہم نے سیخ پہ دیکھی کباب کی

تیری کدورتوں نے مجھے خاک کر دیا
تیرے غبار نے مری مٹی خراب کی

میری خطائیں آ نہیں سکتی شمار میں
گنتی ہو کیا ترے کرم بے حساب کی

ساقی ترے کرم سے یہ امید ہے مجھے
ہو روز حشر ہاتھ میں بوتل شراب کی

مستان عشق آئے تعلی پر اے فلک
اب خیر مانگ تو قدح آفتاب کی

نشہ زمیں سے سوئے فلک لے اڑا مجھے
ساقی شراب نے مری مٹی خراب کی

دو روز جا کے آبنہ‌ رویوں کی بزم میں
کیا شکل ہو گئی دل خانہ خراب کی

بجلی نہیں تڑپتی ہے اے دل یہ آسمان
پرواز اڑا رہا ہے ترے اضطراب کی

ابرو کی تیغ سے جو بچا میں تو یار نے
برچھی لگائی بڑھ کے نگاہ عتاب کی

اللہ رے اثر مری بخت سیاہ کا
پیری میں احتیاج نہیں ہے خضاب کی

ناظمؔ مرے گناہ ہیں باہر حساب سے
تشویش کچھ نہیں مجھے روز حساب کی

نواب یوسف علی خاں ناظم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم