MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

آنکھوں سے اپنی آصفؔ تو احتراز کرنا

غزل آنکھوں سے اپنی آصفؔ تو احتراز کرنا یہ خو بری ہے ان کا افشائے راز کرنا جاتے تو ہو پیارے اکتا کے مجھ کنے سے پر واسطے خدا کے پھر سرفراز کرنا دو چار دن میں ظالم ہووے گی خط کی شدت یہ حسن عارضی ہے اس پر نہ ناز کرنا پھرتے ہو تم […]

آنکھوں سے اپنی آصفؔ تو احتراز کرنا Read More »

قاصد تو لیے جاتا ہے پیغام ہمارا

غزل قاصد تو لیے جاتا ہے پیغام ہمارا پر ڈرتے ہوئے لے جو وہاں نام ہمارا کیا تاب ہے جو سامنے ٹھہرے کوئی اس کے آفت ہے غضب ہے وہ دل آرام ہمارا آغاز نے تو عشق کے یہ حال دکھایا اب دیکھیے کیا ہووے گا انجام ہمارا اے چرخ اسی طرح تو گردش میں

قاصد تو لیے جاتا ہے پیغام ہمارا Read More »

سینے میں داغ ہے تپش انتظار کا

غزل سینے میں داغ ہے تپش انتظار کا اب کیا کروں علاج دل داغدار کا اس سے مجھے ملاؤ کہ مرتا ہوں ہجر میں باعث ہے زندگی کا مری وصل یار کا صیاد اب تو چھوڑ دے آتی ہے فصل گل دیکھوں گا ہائے کیوں کہ تماشا بہار کا شاید تمہارے دیں میں ہے اے

سینے میں داغ ہے تپش انتظار کا Read More »

دل دیا جی دیا خفا نہ کیا

غزل دل دیا جی دیا خفا نہ کیا بے وفا تجھ سے میں نے کیا نہ کیا غم دوری کو تیری دیکھ کے یار آج تک جان سے جدا نہ کیا فائدہ کیا ہے اب بگڑنے کا کون تھا جس سے تو ملا نہ کیا یہ ہمیں تھے کہ ان جفاؤں پر پھر کبھی تجھ

دل دیا جی دیا خفا نہ کیا Read More »

پوچھتے کیا ہو مرے تم دل‌ دیوانے سے

غزل پوچھتے کیا ہو مرے تم دل‌ دیوانے سے عشق کے رمز کو پوچھو کسی فرزانے سے جی نکل جاوے گا ظالم مرا اب جانے سے یاں نہ آنا ہی بھلا تھا ترے اس آنے سے روز کے دکھ سے چھٹا رات کے جلنے سے رہا دوستی شمع نے کی دوستو پروانے سے دل بجا

پوچھتے کیا ہو مرے تم دل‌ دیوانے سے Read More »

ہم نے قصہ بہت کہا دل کا

غزل ہم نے قصہ بہت کہا دل کا نہ سنا تم نے ماجرا دل کا اپنے مطلب کی سب ہی کہتے ہیں ہے نہیں کوئی آشنا دل کا عشق میں ایسی کھینچی رسوائی ہو گیا شور جا بجا دل کا اس قدر بے حواس رہتا ہے جیسے کچھ کوئی لے گیا دل کا ایک بوسے

ہم نے قصہ بہت کہا دل کا Read More »

دام الفت میں پھنسا دل ہائے دل افسوس دل

غزل دام الفت میں پھنسا دل ہائے دل افسوس دل اب نہ ہووے گا رہا دل ہائے دل افسوس دل وہ اسے کیا کیا کہے اور یہ سرکتا ہی نہیں ہو گیا یوں بے حیا دل ہائے دل افسوس دل ملتے ہی ظالم نے مجھ کو چھوڑ کر یوں یک بیک ہو گیا مجھ سے

دام الفت میں پھنسا دل ہائے دل افسوس دل Read More »

جس گھڑی تیرے آستاں سے گئے

غزل جس گھڑی تیرے آستاں سے گئے ہم نے جانا کہ دو جہاں سے گئے تیرے کوچے میں نقش پا کی طرح ایسے بیٹھے کہ پھر نہ واں سے گئے شمع کی طرح رفتہ رفتہ ہم ایسے گزرے کہ جسم و جاں سے گئے ایک دن میں نے یار سے یہ کہا اب تو ہم

جس گھڑی تیرے آستاں سے گئے Read More »

بسمل کسی کو رکھنا رسم وفا نہیں ہے

غزل بسمل کسی کو رکھنا رسم وفا نہیں ہے اور منہ چھپا کے چلنا شرط وفا نہیں ہے زلفوں کو شانہ کیجے یا بھوں بنا کے چلیے گر پاس دل نہ رکھیے تو یہ ادا نہیں ہے اک روز وہ ستم گر مجھ سے ہوا مخاطب میں نے کہا کہ پیارے اب یہ روا نہیں

بسمل کسی کو رکھنا رسم وفا نہیں ہے Read More »

اس ادا سے مجھے سلام کیا

غزل اس ادا سے مجھے سلام کیا ایک ہی آن میں غلام کیا لے گیا ننگ و نام اب مجھ سے عشق نے آخر اپنا کام کیا یارو اس گل بدن کے تئیں ہم نے کل صبا سے یہی پیام کیا ہم سے ملتے رہا کرو پیارے چاہ میں گرچہ اپنا نام کیا قصۂ جاں

اس ادا سے مجھے سلام کیا Read More »