MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ترا مزاج ہو برہم یہ کب گوارا ہے

غزل ترا مزاج ہو برہم یہ کب گوارا ہے یہی خوشی ہے ہماری کہ تو ہمارا ہے یہ چاند رات یہ جگنو یہ تیری یاد کی لو اس اہتمام محبت میں دن گزارا ہے جو بے سبب ہی کسی اور چل پڑے ہیں ہم تو زندگی کا بھلا کس طرف اشارہ ہے یہ کیا ہوا […]

ترا مزاج ہو برہم یہ کب گوارا ہے Read More »

کوئی خواب ہے نہ خیال ہے یہ عجیب صورت حال ہے

غزل کوئی خواب ہے نہ خیال ہے یہ عجیب صورت حال ہے وہی وحشت مہ و سال ہے یہ عجیب صورت حال ہے کبھی سوچتی ہوں کہ میں اگر تجھے بے نقاب کروں مگر ذرا دوستی کا خیال ہے یہ عجیب صورت حال ہے جو دل و نظر سے تو دور ہے کوئی مسئلہ تو

کوئی خواب ہے نہ خیال ہے یہ عجیب صورت حال ہے Read More »

زباں نے جو بھی کہا عرض حال تھوڑی ہے

غزل زباں نے جو بھی کہا عرض حال تھوڑی ہے تمہارے بن ہمیں جینا محال تھوڑی ہے جو اک جہاں کو تحیر میں مبتلا کر دے تمہارے جھوٹ میں اتنا کمال تھوڑی ہے نہ جانے کون سی سازش رچائے رہتے ہو مرا عروج تمہارا زوال تھوڑی ہے ترے سوال کے بدلے دیا جواب تجھے مرے

زباں نے جو بھی کہا عرض حال تھوڑی ہے Read More »

عشق میں تیرے جنگل بھی گھر لگتے ہیں

غزل عشق میں تیرے جنگل بھی گھر لگتے ہیں کانٹے اور ببول صنوبر لگتے ہیں بھور بھئے آکاش سے سورج جاگے تو چاند ستارے کتنے بے گھر لگتے ہیں چہرے کو چہرے سے ڈھانپے پھرتے لوگ بولتے ہیں تو لہجے بنجر لگتے ہیں خوشیوں کے بازار میں غم بھی بکتے ہیں اور غم کے بازار

عشق میں تیرے جنگل بھی گھر لگتے ہیں Read More »

بس اک ذرا خیال ہمیں دوستی کا ہے

غزل بس اک ذرا خیال ہمیں دوستی کا ہے ورنہ بہت ملال تری بے رخی کا ہے تو بھی ہے زندگی میں کہیں ہے مجھے یقین یا یہ بھی احتمال مری سادگی کا ہے ہے آج جسم و جاں پہ تری یاد کی تھکن اک خوف میرے دل کو کسی ان کہی کا ہے واقف

بس اک ذرا خیال ہمیں دوستی کا ہے Read More »

امانت میں خیانت ہو رہی ہے

غزل امانت میں خیانت ہو رہی ہے سلیقے سے تجارت ہو رہی ہے نہیں محفوظ کوئی اپنے گھر میں مگر گھر کی حفاظت ہو رہی ہے سبھی کے خواب کی تعبیر غم ہے تو پھر کس کو بشارت ہو رہی ہے ہمیں نے خون سے سینچا وطن کو ہمیں سے پھر شکایت ہو رہی ہے

امانت میں خیانت ہو رہی ہے Read More »

ہزار ٹوٹے ہوئے زاویوں میں بیٹھی ہوں

غزل ہزار ٹوٹے ہوئے زاویوں میں بیٹھی ہوں خیال و خواب کی پرچھائیوں میں بیٹھی ہوں تمہاری آس کی چادر سے منہ چھپائے ہوئے پکارتی ہوئی رسوائیوں میں بیٹھی ہوں ہر ایک سمت صدائیں ہیں چپ چٹخنے کی خلا میں چیختی تنہائیوں میں بیٹھی ہوں نگاہ و دل میں اگی دھوپ کو بجھاتی ہوئی تمہارے

ہزار ٹوٹے ہوئے زاویوں میں بیٹھی ہوں Read More »

سوال اندر سوال لے کر کہاں چلے ہو

غزل سوال اندر سوال لے کر کہاں چلے ہو یہ آسمانِ ملال لے کر کہاں چلے ہو جنوں کے رستے میں یہ خودی بھی عذاب ہوگی خرد کا کوہِ وبال لے کر کہاں چلے ہو کہاں پہ کھولو گے درد اپنا کسے کہوگے کہیں چھپاؤ، یہ حال لے کر کہاں چلے ہو نہا رہے ہو

سوال اندر سوال لے کر کہاں چلے ہو Read More »

تمہاری منتظر یوں تو ہزاروں گھر بناتی ہوں

غزل تمہاری منتظر یوں تو ہزاروں گھر بناتی ہوں وہ رستہ بنتے جاتے ہیں کچھ اتنے در بناتی ہوں جو سارا دن مرے خوابوں کو ریزہ ریزہ کرتے ہیں میں ان لمحوں کو سی کر رات کا بستر بناتی ہوں ہمارے دور میں رقاصہ کے پاؤں نہیں ہوتے ادھورے جسم لکھتی ہوں خمیدہ سر بناتی

تمہاری منتظر یوں تو ہزاروں گھر بناتی ہوں Read More »

وقت بھی اب مرا مرہم نہیں ہونے پاتا

غزل وقت بھی اب مرا مرہم نہیں ہونے پاتا درد کیسا ہے جو مدھم نہیں ہونے پاتا کیفیت کوئی ملے ہم نے سنبھالی ایسے غم کبھی غم سے بھی مدغم نہیں ہونے پاتا میرے الفاظ کے یہ ہاتھ بھی شل ہوں جیسے ہو رہا ہے جو وہ ماتم نہیں ہونے پاتا دل کے دریا نے

وقت بھی اب مرا مرہم نہیں ہونے پاتا Read More »