MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

سر بسر شاخ دل ہری رہے گی

غزل سر بسر شاخ دل ہری رہے گی تا ابد آنکھ میں تری رہے گی میں نے قصہ ہی پاک کر ڈالا عشق ہوگا نہ خود سری رہے گی عکس بنتے رہیں گے پیش نظر صورت آئینہ گری رہے گی سطر در سطر خوں جلایا ہے لفظ میں روشنی بھری رہے گی خامشی اوڑھ لی […]

سر بسر شاخ دل ہری رہے گی Read More »

سر تا پا حیرت میں گم ہو جائے گا

غزل سر تا پا حیرت میں گم ہو جائے گا تو بھی کیا حیرت میں گم ہو جائے گا آدمی بن جائے گا تخلیق کار اور خدا حیرت میں گم ہو جائے گا دیکھ کر مجھ آئینہ رو کا جمال آئینہ حیرت میں گم ہو جائے گا لاش کو وارث نہ پہچانیں گے اور سانحہ

سر تا پا حیرت میں گم ہو جائے گا Read More »

آنے والے سال کی ساری سندر شامیں تیرے نام

غزل آنے والے سال کی ساری سندر شامیں تیرے نام بنتی سنورتی اور بگڑتی کچی نیندیں تیرے نام گجروں جیسی ہوش اڑاتی خوشبو کے احساس میں گم ٹھنڈی میٹھی مست نشیلی ریشم بانہیں تیرے نام اجلے اجلے رنگ رسیلے روشن سبز سنہرے خواب اور ان خوابوں سے وابستہ وصل کی باتیں تیرے نام وجد میں

آنے والے سال کی ساری سندر شامیں تیرے نام Read More »

برداشت کیوں کرے گا ذرا سی بھی دیر دل

غزل برداشت کیوں کرے گا ذرا سی بھی دیر دل پھیری نظر تو روئے گا منہ پھیر پھیر دل محسوس یہ ہوا ہے تری آنکھ کے طفیل آئینہ ہے چراغ ہے مٹی کا ڈھیر دل شاید تری طرف سے ہو آغاز دل بری کم بخت اس لیے بھی تو کرتا ہے دیر دل ذکر وفا

برداشت کیوں کرے گا ذرا سی بھی دیر دل Read More »

سفر میں خاک ہوئے کارواں بناتے ہوئے

غزل سفر میں خاک ہوئے کارواں بناتے ہوئے زمین جلنے لگی آسماں بناتے ہوئے کوئی بھی حرف دعا رائیگاں نہیں جاتا میں اس یقین پہ پہنچی گماں بناتے ہوئے تحفظ در و دیوار کار مشکل ہے جھلس گیا ہے بدن سائباں بناتے ہوئے عجیب لوگ تھے نفرت میں پائمال ہوئے محبتوں کی زمیں بے نشاں

سفر میں خاک ہوئے کارواں بناتے ہوئے Read More »

ہوائے مست نے کانوں میں کچھ کہا ہے کیا

غزل ہوائے مست نے کانوں میں کچھ کہا ہے کیا ترے خیال نے دل کو میرے چھوا ہے کیا یہ کیسی روشنی دہلیز تک چلی آئی نیا چراغ کوئی راہ میں جلا ہے کیا یہ کیا ہوا ہے مجھے چین کیوں نہیں آتا کسی کی آنکھ سے آنسو کہیں گرا ہے کیا طلب ہو سچ

ہوائے مست نے کانوں میں کچھ کہا ہے کیا Read More »

جہاں بھی ظلم و تکبر مثال ہوتا ہے

غزل جہاں بھی ظلم و تکبر مثال ہوتا ہے عروج آدم خاکی زوال ہوتا ہے کسی کا دل جو دکھائے کسی کو تہمت دے بدیر جلد برا اس کا حال ہوتا ہے ہو گھاؤ خنجر و شمشیر کا تو بھر جائے زباں کا زخم کہیں اندمال ہوتا ہے ترے مزاج کے موسم سے کیا شکایت

جہاں بھی ظلم و تکبر مثال ہوتا ہے Read More »

ملال دل میں کسی درد کا نہیں رکھنا

غزل ملال دل میں کسی درد کا نہیں رکھنا کوئی برا جو کہے دل برا نہیں رکھنا یہ دشمنی تو بہت فاصلے بڑھا دے گی ہمارے بعد کسی سے گلہ نہیں رکھنا ہمارے دوست ہمیں بد گمان کر دیں گے اب التفات بہت برملا نہیں رکھنا یہ نسل نو تو ہمیں سے جواز مانگے گی

ملال دل میں کسی درد کا نہیں رکھنا Read More »

وہ جن کو خوب تھا اپنے ہنر کا اندازہ

غزل وہ جن کو خوب تھا اپنے ہنر کا اندازہ ہے اپنی مات کی ان کو خبر کا اندازہ نہ ہو فریق کوئی سامنے تو ہو کیسے کسی فریق کو اپنے ہنر کا اندازہ انہیں ہے زعم کہ ہم کو اسیر کر دیں گے مگر غلط ہے کسی بے خبر کا اندازہ ہمیں ڈرائے گا

وہ جن کو خوب تھا اپنے ہنر کا اندازہ Read More »

دل کو تازہ ملال کیسے ہو

غزل دل کو تازہ ملال کیسے ہو غم سے رشتہ بحال کیسے ہو اس سے پہلے کہ وہ نہ پہچانے کر دیا ہے سوال کیسے ہو ہم سفر تو نہیں تو دنیا میں گردش ماہ و سال کیسے ہو یاد خود ہی بنی ہو نشتر جب زخم کا اندمال کیسے ہو آپ کا جب گلہ

دل کو تازہ ملال کیسے ہو Read More »