ہر ایک خواب سو گیا خیال جاگتے رہے
غزل ہر ایک خواب سو گیا خیال جاگتے رہے جواب پی لیے مگر سوال جاگتے رہے ہماری پتلیوں پہ خواب اپنا بوجھ رکھ گئے ہم ایک شب نہیں کہ ماہ و سال جاگتے رہے گزار کے وہ ہجرتیں عجیب زخم دے گئیں ملے بھی اس کے بعد پر ملال جاگتے رہے بس ایک بار یاد […]
ہر ایک خواب سو گیا خیال جاگتے رہے Read More »