MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہر ایک خواب سو گیا خیال جاگتے رہے

غزل ہر ایک خواب سو گیا خیال جاگتے رہے جواب پی لیے مگر سوال جاگتے رہے ہماری پتلیوں پہ خواب اپنا بوجھ رکھ گئے ہم ایک شب نہیں کہ ماہ و سال جاگتے رہے گزار کے وہ ہجرتیں عجیب زخم دے گئیں ملے بھی اس کے بعد پر ملال جاگتے رہے بس ایک بار یاد […]

ہر ایک خواب سو گیا خیال جاگتے رہے Read More »

پھر آس دے کے آج کو کل کر دیا گیا

غزل پھر آس دے کے آج کو کل کر دیا گیا ہونٹوں کے بیچ بات کو شل کر دیا گیا صدیوں کا پھوک جسم سنبھالے تو کس طرح جب عمر کو نچوڑ کے پل کر دیا گیا اب تو سنوارنے کے لیے ہجر بھی نہیں سارا وبال لے کے غزل کر دیا گیا مجھ کو

پھر آس دے کے آج کو کل کر دیا گیا Read More »

ثواب کی دعاؤں نے گناہ کر دیا مجھے

غزل ثواب کی دعاؤں نے گناہ کر دیا مجھے بڑی ادا سے وقت نے تباہ کر دیا مجھے منافقت کے شہر میں سزائیں حرف کو ملیں قلم کی روشنائی نے سیاہ کر دیا مجھے مرے لیے ہر اک نظر ملامتوں میں ڈھل گئی نہ کچھ کیا تو حیرت نگاہ کر دیا مجھے خوشی جو غم

ثواب کی دعاؤں نے گناہ کر دیا مجھے Read More »

خالی خالی رستوں پہ بے کراں اداسی ہے

غزل خالی خالی رستوں پہ بے کراں اداسی ہے جسم کے تماشے میں روح پیاسی پیاسی ہے خواب اور تمنا کا کیا حساب رکھنا ہے خواہشیں ہیں صدیوں کی عمر تو ذرا سی ہے راہ و رسم رکھنے کے بعد ہم نے جانا ہے وہ جو آشنائی تھی وہ تو نا شناسی ہے ہم کسی

خالی خالی رستوں پہ بے کراں اداسی ہے Read More »

قطرہ قطرہ بکھر رہا ہے کوئی

غزل قطرہ قطرہ بکھر رہا ہے کوئی بس کرو ہجر مر رہا ہے کوئی کوئی اب کس طرح بتائے اسے تجھ سے امید کر رہا ہے کوئی اپنے زخموں کی بد مزاجی میں پٹریوں سا اکھڑ رہا ہے کوئی گرد ہوتی ہوئی صداؤں سے خامشی سے نتھر رہا ہے کوئی اپنی سانسوں کے خالی برتن

قطرہ قطرہ بکھر رہا ہے کوئی Read More »

بے تحاشہ اسے سوچا جائے

غزل بے تحاشہ اسے سوچا جائے زخم کو اور کریدا جائے جانے والے کو چلے جانا ہے پھر بھی رسماً ہی پکارا جائے ہم نے مانا کہ کبھی پی ہی نہیں پھر بھی خواہش کہ سنبھالا جائے آج تنہا نہیں جاگا جاتا رات کو ساتھ جگایا جائے حرف لکھنا ہی نہیں کافی ہے آؤ اب

بے تحاشہ اسے سوچا جائے Read More »

صبا اکرام کی شخصی و فنی زندگی ایک جائزہ

صبا اکرام کی شخصی و فنی زندگی ایک جائزہ موجودہ دورکے شاعر صبا اکرام کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں تحریر نسیم انجم کراچی موجودہ دورکے شاعر صبا اکرام کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں، وہ ادبی دنیا میں شاعرونقاد اور کالم نگارکی حیثیت سے اپنی علیحدہ شناخت رکھتے ہیں۔ انھوں نے علم و ادب

صبا اکرام کی شخصی و فنی زندگی ایک جائزہ Read More »

نظر جھکا کے کنویں میں وہ جھانک لے نہ کہیں

غزل نظر جھکا کے کنویں میں وہ جھانک لے نہ کہیں خود اپنے عکس پہ پاگل ہے مر مٹے نہ کہیں جسے سہارا دئے تم کھڑے ہو آندھی میں تمہارے سر پہ ہی دیوار وہ گرے نہ کہیں ہر ایک لمحہ تھا ڈر پیچھے چھوٹ جانے کا جو نکلے وقت کے ہم راہ تو رکے

نظر جھکا کے کنویں میں وہ جھانک لے نہ کہیں Read More »

ہوا نصیب بنایا سفر لکھا اس نے

غزل ہوا نصیب بنایا سفر لکھا اس نے تمام عمر پھروں در بدر لکھا اس نے سلگتی دھوپ کی مانند زیست دی لیکن نہ سائبان نہ کوئی شجر لکھا اس نے تمام شہر پہ بے نام خوف طاری ہے یہ جن کا بھوت کا کس کا اثر لکھا اس نے یہ اور بات کہ عنواں

ہوا نصیب بنایا سفر لکھا اس نے Read More »

اس کو دیکھوں تو کبھی میں بھی کہ وہ کیسی ہے

غزل اس کو دیکھوں تو کبھی میں بھی کہ وہ کیسی ہے میرے پیچھے جو صباؔ گھر میں مرے رہتی ہے جلتے سانسوں کے گھنے دشت میں جاری ہے سفر جاں ابھی قہر کے خطروں سے کہاں چھوٹی ہے اب کوئی خوابوں کا جھولا بھی لگائے تو کہاں شب کے پیڑوں کی ہر اک شاخ

اس کو دیکھوں تو کبھی میں بھی کہ وہ کیسی ہے Read More »