نگاہ دل کے لئے جال کے مساوی ہے
غزل نگاہ دل کے لئے جال کے مساوی ہے یہ آئینہ تری تمثال کے مساوی ہے گئے دنوں میں جسے بدترین کہتے تھے اب اچھا حال بھی اس حال کے مساوی ہے نظر جھکائے پڑا ہوں میں اپنے پاؤں میں یہ جا مرے لیے پاتال کے مساوی ہے قسم خدا کی کسی اور پر اگر […]
نگاہ دل کے لئے جال کے مساوی ہے Read More »