MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

نگاہ دل کے لئے جال کے مساوی ہے

غزل نگاہ دل کے لئے جال کے مساوی ہے یہ آئینہ تری تمثال کے مساوی ہے گئے دنوں میں جسے بدترین کہتے تھے اب اچھا حال بھی اس حال کے مساوی ہے نظر جھکائے پڑا ہوں میں اپنے پاؤں میں یہ جا مرے لیے پاتال کے مساوی ہے قسم خدا کی کسی اور پر اگر […]

نگاہ دل کے لئے جال کے مساوی ہے Read More »

مرے پس رو کو اندازہ نہیں تھا

غزل مرے پس رو کو اندازہ نہیں تھا میں رستہ تھا مگر سیدھا نہیں تھا مجھے سورج پہ یہ بھی برتری تھی میں روشن تھا مگر جلتا نہیں تھا سفر کی آرزو کچھ دیدنی تھی میں قطرہ تھا مگر رکتا نہیں تھا جڑیں تھیں سایہ تھا پھل پھول بھی تھے میں جتنا تھا فقط اتنا

مرے پس رو کو اندازہ نہیں تھا Read More »

چلا رہی ہیں جس پہ زبانیں لہو لگی

غزل چلا رہی ہیں جس پہ زبانیں لہو لگی یہ وہ صدا تھی جو مجھے بار گلو لگی کیا کیا نہ مس کیا تجھے میں نے فراق میں لیکن تری کمی جو ترے روبرو لگی میں تب قرار دوں گا تجھے اپنا ہم سخن جب میری خامشی بھی تجھے گفتگو لگی اب گھر کے رہ

چلا رہی ہیں جس پہ زبانیں لہو لگی Read More »

چراغ آنکھ کی سب بولیاں سمجھتے ہیں

غزل چراغ آنکھ کی سب بولیاں سمجھتے ہیں یہ ہم سے پوچھ جو ایسی زباں سمجھتے ہیں بہا کے لے گیا سب خد و خال عہد شباب ہم آئینے کو بھی آب رواں سمجھتے ہیں ہمیں ازل سے محبت سکھائی جاتی ہے ہم اہل حرف یہی اک زباں سمجھتے ہیں جہاں یقیں کے تجسس کی

چراغ آنکھ کی سب بولیاں سمجھتے ہیں Read More »

اڑاتے آئے ہیں آپ اپنے خواب زار کی خاک

غزل اڑاتے آئے ہیں آپ اپنے خواب زار کی خاک یہ اور خاک ہے اک دشت بے کنار کی خاک یہ میں نہیں ہوں تو پھر کس کی آمد آمد ہے خوشی سے ناچتی پھرتی ہے ریگزار کی خاک ہمیں بھی ایک ہی صحرا دیا گیا تھا مگر اڑا کے آئے ہیں وحشت میں بے

اڑاتے آئے ہیں آپ اپنے خواب زار کی خاک Read More »

آتا چلا گیا ہے وہ خوش فکر دھیان میں

غزل آتا چلا گیا ہے وہ خوش فکر دھیان میں بڑھتی چلی گئی ہے نفاست بیان میں یوں کھو گیا ہوں مثنوی سحر البیان میں شامل ہوں جیسے میں بھی اسی داستان میں اک پیر چھو گیا ہے کسی مہ جمال کا اب جشن کا سماں سا ہے کپڑے کے تھان میں تجھ تک تو

آتا چلا گیا ہے وہ خوش فکر دھیان میں Read More »

اگر آدمی وقت کا راز پا لے

غزل اگر آدمی وقت کا راز پا لے تو ممکن ہے لمحہ بھی صدیوں کو جا لے میں الفاظ کی کنجیاں ڈھالتا ہوں کھلیں گے کسی روز ابجد کے تالے گزرتا ہوا وقت رک سا گیا ہے پرندے ہیں دو چونچ میں چونچ ڈالے زمیں کی کمر تو ہے پہلے سے کوزہ وہی بوجھ رکھیو

اگر آدمی وقت کا راز پا لے Read More »

سائے کے حق میں کچھ نہیں میرے بیان میں

غزل سائے کے حق میں کچھ نہیں میرے بیان میں جو آپ چھپتا پھرتا ہے ہر سائبان میں یہ چھوٹے چھوٹے شوق بھی اس کو روا نہیں جس کو بڑا بنایا گیا خاندان میں مجھ کو ہے آدمی سے توقع خلوص کی سونا تلاش کرتا ہوں مٹی کی کان میں قد سے نہیں بنائی ہے

سائے کے حق میں کچھ نہیں میرے بیان میں Read More »

پھر جو کٹتی نہیں اس رات سے خوف آتا ہے

غزل پھر جو کٹتی نہیں اس رات سے خوف آتا ہے سو ہمیں شام ملاقات سے خوف آتا ہے مجھ کو ہی پھونک نہ ڈالیں کہیں یہ لفظ مرے اب تو اپنے ہی کمالات سے خوف آتا ہے کٹ ہی جاتا ہے سفر سہل ہو یا مشکل ہو پھر بھی ہر بار شروعات سے خوف

پھر جو کٹتی نہیں اس رات سے خوف آتا ہے Read More »

تو اپنے پھول سے ہونٹوں کو رائیگاں مت کر

غزل تو اپنے پھول سے ہونٹوں کو رائیگاں مت کر اگر وفا کا ارادہ نہیں تو ہاں مت کر تو میری شام کی پلکوں سے روشنی مت چھین جہاں چراغ جلائے وہاں دھواں مت کر پھر اس کے بعد تو آنکھوں کو سنگ ہونا ہے ملی ہے فرصت گریہ تو رائیگاں مت کر چھلک رہا

تو اپنے پھول سے ہونٹوں کو رائیگاں مت کر Read More »