لب پر مچلتے لفظوں کو چکھ کر نہ دیکھ لے
غزل لب پر مچلتے لفظوں کو چکھ کر نہ دیکھ لے وہ پیڑ نیم کا مرے اندر نہ دیکھ لے دل خواہشوں کے کوچے میں نکلا تو ہے مگر وہ طفل درد پھر کہیں پتھر نہ دیکھ لے رستے کئی بدل کے میں لوٹا ہوں شہر سے ڈر تھا کہ وہ عزیز کہیں گھر نہ […]
لب پر مچلتے لفظوں کو چکھ کر نہ دیکھ لے Read More »