MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

لب پر مچلتے لفظوں کو چکھ کر نہ دیکھ لے

غزل لب پر مچلتے لفظوں کو چکھ کر نہ دیکھ لے وہ پیڑ نیم کا مرے اندر نہ دیکھ لے دل خواہشوں کے کوچے میں نکلا تو ہے مگر وہ طفل درد پھر کہیں پتھر نہ دیکھ لے رستے کئی بدل کے میں لوٹا ہوں شہر سے ڈر تھا کہ وہ عزیز کہیں گھر نہ […]

لب پر مچلتے لفظوں کو چکھ کر نہ دیکھ لے Read More »

لمحوں کے پرندے ہیں لئے چونچ میں کنکر

غزل لمحوں کے پرندے ہیں لئے چونچ میں کنکر سہما سا ڈرا سا ہے کھڑا زیست کا لشکر اک پھول لب دریا جو ڈالی سے گرا تھا پانی میں گیا جانئے کس سمت وہ بہہ کر چبھتا ہے ہر اک لمحہ جو اک خار کی صورت آنکھوں سے مری چھین لے اب کوئی وہ منظر

لمحوں کے پرندے ہیں لئے چونچ میں کنکر Read More »

ہر پل جو کاٹتی ہے مجھے دھار ہی تو ہے

غزل ہر پل جو کاٹتی ہے مجھے دھار ہی تو ہے اکرامؔ اپنی سانس بھی تلوار ہی تو ہے اونچی عمارتوں کے نگر میں مرے لئے جائے پناہ سایۂ دیوار ہی تو ہے ہٹتی ہے سامنے سے مرے کب یہ دیکھیے اپنی انا بھی راہ کی دیوار ہی تو ہے ردی کے بھاؤ بیچنے نکلے

ہر پل جو کاٹتی ہے مجھے دھار ہی تو ہے Read More »

چکھو گے اگر پیاس بڑھا دے گا یہ پانی

غزل چکھو گے اگر پیاس بڑھا دے گا یہ پانی پانی تمہیں ہرگز نہ صباؔ دے گا یہ پانی اک روز ڈبو دے گا مرے جسم کی کشتی مجھ سے مجھے آزاد کرا دے گا یہ پانی پہنچے گا سرابوں کا وہاں بھیس بدل کر صحرا میں بھی ہر لمحہ صدا دے گا یہ پانی

چکھو گے اگر پیاس بڑھا دے گا یہ پانی Read More »

دشت احساس میں ہم اتنے اکیلے کب تھے

غزل دشت احساس میں ہم اتنے اکیلے کب تھے دکھ تو پہلے بھی تھے پر اتنے گھنیرے کب تھے ہم تو نکلے تھے ہواؤں کا مقدر لے کر ہم کسی موڑ پہ دم لینے کو ٹھہرے کب تھے جیسے انجان کوئی جیسے کوئی بیگانہ خود سے کترا کے ہم ایسے بھی نکلتے کب تھے بغض

دشت احساس میں ہم اتنے اکیلے کب تھے Read More »

زندگانی ہنس کے طے اپنا سفر کر جائے گی

غزل زندگانی ہنس کے طے اپنا سفر کر جائے گی یوں اجل کا معجزہ اک روز سر کر جائے گی کیا خبر تھی چاہ اس کی دل میں گھر کر جائے گی مجھ کو خود میرے ہی اندر در بدر کر جائے گی پہلے اپنا خوں تو بھر دوں زندگی کی مانگ میں جب اسے

زندگانی ہنس کے طے اپنا سفر کر جائے گی Read More »

تھک کر جب بھی بیٹھ گیا ہوں میں پیپل کی چھاؤں میں

غزل تھک کر جب بھی بیٹھ گیا ہوں میں پیپل کی چھاؤں میں گوتم آیا گوتم آیا شور مچا ہے گاؤں میں کھوج میں اس کی شہروں شہروں گھوم رہا ہوں صدیوں سے جس کا نام لکھا ہے میرے ہاتھوں کی ریکھاؤں میں مت لے جاؤ دھوپ کے اس جنگل میں بوجھل آنکھوں کو چبھ

تھک کر جب بھی بیٹھ گیا ہوں میں پیپل کی چھاؤں میں Read More »

ان پتھروں کے شہر میں دل کا گزر کہاں

غزل ان پتھروں کے شہر میں دل کا گزر کہاں لے جائیں ہم اٹھا کے یہ شیشے کا گھر کہاں ہم اپنا نام لے کے خود اپنے ہی شہر میں گھر گھر پکار آئے کھلا کوئی در کہاں جیسے ہر ایک در پہ خموشی کا قفل ہو اب گونجتی ہے شہر میں زنجیر در کہاں

ان پتھروں کے شہر میں دل کا گزر کہاں Read More »

آواز کے پتھر جو کبھی گھر میں گرے ہیں

غزل آواز کے پتھر جو کبھی گھر میں گرے ہیں آسیب خموشی کے صباؔ چیخ پڑے ہیں پازیب کے نغموں کی وہ رت بیت چکی ہے اب سوکھے ہوئے پتے اس آنگن میں پڑے ہیں چھپ جائیں کہیں آ کہ بہت تیز ہے بارش یہ میرے ترے جسم تو مٹی کے بنے ہیں اس دل

آواز کے پتھر جو کبھی گھر میں گرے ہیں Read More »

یہ عمل موجۂ انفاس کا دھوکا ہی نہ ہو

غزل یہ عمل موجۂ انفاس کا دھوکا ہی نہ ہو زندگی عشرت احساس کا دھوکا ہی نہ ہو جیسے اک خواب ہوا عہد گزشتہ کا ثبات دم آئندہ مری آس کا دھوکا ہی نہ ہو یہ نگیں بھی نہ ہو بس معجزۂ تار نظر یہ ہنر شیشہ و الماس کا دھوکا ہی نہ ہو مرے

یہ عمل موجۂ انفاس کا دھوکا ہی نہ ہو Read More »