MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

پھر جو کٹتی نہیں اس رات سے خوف آتا ہے

غزل

پھر جو کٹتی نہیں اس رات سے خوف آتا ہے
سو ہمیں شام ملاقات سے خوف آتا ہے

مجھ کو ہی پھونک نہ ڈالیں کہیں یہ لفظ مرے
اب تو اپنے ہی کمالات سے خوف آتا ہے

کٹ ہی جاتا ہے سفر سہل ہو یا مشکل ہو
پھر بھی ہر بار شروعات سے خوف آتا ہے

وہم کی گرد میں لپٹے ہیں سوال اور ہمیں
کبھی نفی کبھی اثبات سے خوف آتا ہے

ایسے ٹھہرے ہوئے ماحول میں رحمانؔ حفیظ
ان گزرتے ہوئے لمحات سے خوف آتا ہے

رحمان حفیظ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم