MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اپنی تنہائی کی پلکوں کو بھگو لوں پہلے

غزل اپنی تنہائی کی پلکوں کو بھگو لوں پہلے پھر غزل تجھ پہ لکھوں بیٹھ کے رو لوں پہلے خواب کے ساتھ کہیں کھو نہ گئی ہو آنکھیں جب اٹھوں سو کے تو چہرے کو ٹٹولوں پہلے میرے خوابوں کو ہے موسم پہ بھروسہ کتنا بعد میں پھول کھلیں ہار پرو لوں پہلے دیکھنا ہے […]

اپنی تنہائی کی پلکوں کو بھگو لوں پہلے Read More »

برسوں کے رت جگوں کی تھکن کھا گئی مجھے

غزل برسوں کے رت جگوں کی تھکن کھا گئی مجھے سورج نکل رہا تھا کہ نیند آ گئی مجھے رکھی نہ زندگی نے مری مفلسی کی شرم چادر بنا کے راہ میں پھیلا گئی مجھے میں بک گیا تھا بعد میں بے صرفہ جان کر دنیا مری دکان پہ لوٹا گئی مجھے دریا پہ ایک

برسوں کے رت جگوں کی تھکن کھا گئی مجھے Read More »

گھر بسا کر بھی مسافر کے مسافر ٹھہرے

غزل گھر بسا کر بھی مسافر کے مسافر ٹھہرے لوگ دروازوں سے نکلے کہ مہاجر ٹھہرے دل کے مدفن پہ نہیں کوئی بھی رونے والا اپنی درگاہ کے ہم خود ہی مجاور ٹھہرے اس بیاباں کی نگاہوں میں مروت نہ رہی کون جانے کہ کوئی شرط سفر پھر ٹھہرے پتیاں ٹوٹ کے پتھر کی طرح

گھر بسا کر بھی مسافر کے مسافر ٹھہرے Read More »

آج برسوں میں تو قسمت سے ملاقات ہوئی

غزل آج برسوں میں تو قسمت سے ملاقات ہوئی آپ منہ پھیر کے بیٹھے ہیں یہ کیا بات ہوئی اڑ گئی خاک دل و جاں تو وہ رونے بیٹھے بستیاں جل گئیں جب ٹوٹ کے برسات ہوئی تم مرے ساتھ تھے جب تک تو سفر روشن تھا شمع جس موڑ پہ چھوٹی ہے وہیں رات

آج برسوں میں تو قسمت سے ملاقات ہوئی Read More »

مسافروں کا کبھی اعتبار مت کرنا

غزل مسافروں کا کبھی اعتبار مت کرنا جہاں کہا تھا وہاں انتظار مت کرنا میں نیند ہوں مری حد ہے تمہاری پلکوں تک بدن جلا کے مرا انتظار مت کرنا میں بچ گیا ہوں مگر سارے خواب ڈوب گئے مری طرح بھی سمندر کو پار مت کرنا بہا لو اپنے شہیدوں کی قبر پر آنسو

مسافروں کا کبھی اعتبار مت کرنا Read More »

بستی میں ہے وہ سناٹا جنگل مات لگے

غزل بستی میں ہے وہ سناٹا جنگل مات لگے شام ڈھلے بھی گھر پہنچوں تو آدھی رات لگے مٹھی بند کئے بیٹھا ہوں کوئی دیکھ نہ لے چاند پکڑنے گھر سے نکلا جگنو ہات لگے تم سے بچھڑے دل کو اجڑے برسوں بیت گئے آنکھوں کا یہ حال ہے اب تک کل کی بات لگے

بستی میں ہے وہ سناٹا جنگل مات لگے Read More »

تری گلی میں تماشا کیے زمانہ ہوا

غزل تری گلی میں تماشا کیے زمانہ ہوا پھر اس کے بعد نہ آنا ہوا نہ جانا ہوا کچھ اتنا ٹوٹ کے چاہا تھا میرے دل نے اسے وہ شخص میری مروت میں بے وفا نہ ہوا ہوا خفا تھی مگر اتنی سنگ دل بھی نہ تھی ہمیں کو شمع جلانے کا حوصلہ نہ ہوا

تری گلی میں تماشا کیے زمانہ ہوا Read More »

ٹوٹے ہوئے خوابوں کی چبھن کم نہیں ہوتی

غزل ٹوٹے ہوئے خوابوں کی چبھن کم نہیں ہوتی اب رو کے بھی آنکھوں کی جلن کم نہیں ہوتی کتنے بھی گھنیرے ہوں تری زلف کے سائے اک رات میں صدیوں کی تھکن کم نہیں ہوتی ہونٹوں سے پئیں چاہے نگاہوں سے چرائیں ظالم تری خوشبوئے بدن کم نہیں ہوتی ملنا ہے تو مل جاؤ

ٹوٹے ہوئے خوابوں کی چبھن کم نہیں ہوتی Read More »

یوں بڑی دیر سے پیمانہ لیے بیٹھا ہوں

غزل یوں بڑی دیر سے پیمانہ لیے بیٹھا ہوں کوئی دیکھے تو یہ سمجھے کہ پئے بیٹھا ہوں آخری ناؤ نہ آئی تو کہاں جاؤں گا شام سے پار اترنے کے لیے بیٹھا ہوں مجھ کو معلوم ہے سچ زہر لگے ہے سب کو بول سکتا ہوں مگر ہونٹ سیے بیٹھا ہوں لوگ بھی اب

یوں بڑی دیر سے پیمانہ لیے بیٹھا ہوں Read More »

دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہے

غزل دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہے ہم بھی پاگل ہو جائیں گے ایسا لگتا ہے کتنے دنوں کے پیاسے ہوں گے یارو سوچو تو شریبنم کا قطرہ بھی جن کو دریا لگتا ہے آنکھوں کو بھی لے ڈوبا یہ دل کا پاگل پن آتے جاتے جو ملتا ہے تم سا لگتا ہے

دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہے Read More »