اپنی تنہائی کی پلکوں کو بھگو لوں پہلے
غزل اپنی تنہائی کی پلکوں کو بھگو لوں پہلے پھر غزل تجھ پہ لکھوں بیٹھ کے رو لوں پہلے خواب کے ساتھ کہیں کھو نہ گئی ہو آنکھیں جب اٹھوں سو کے تو چہرے کو ٹٹولوں پہلے میرے خوابوں کو ہے موسم پہ بھروسہ کتنا بعد میں پھول کھلیں ہار پرو لوں پہلے دیکھنا ہے […]
اپنی تنہائی کی پلکوں کو بھگو لوں پہلے Read More »