MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

باتیں تو کچھ ایسی ہیں کہ خود سے بھی نہ کی جائیں

غزل باتیں تو کچھ ایسی ہیں کہ خود سے بھی نہ کی جائیں سوچا ہے خموشی سے ہر اک زہر کو پی جائیں اپنا تو نہیں کوئی وہاں پوچھنے والا اس بزم میں جانا ہے جنہیں اب تو وہی جائیں اب تجھ سے ہمیں کوئی تعلق نہیں رکھنا اچھا ہو کہ دل سے تری یادیں […]

باتیں تو کچھ ایسی ہیں کہ خود سے بھی نہ کی جائیں Read More »

تنقید اور ادبی تنقید کلیم الدین احمد

تنقید اور ادبی تنقید کلیم الدین احمد (۱) اس میں ایک بات یہاں اور جوڑ لیجئے کہ بچے کی تنقیدی صلاحیت واستعداد بھی اسی طرح بالکل فطری اور طبعی انداز سے خود بخود بڑھتی اور ابھرتی ہے، یہ صلاحیت بڑی دھیمی رفتار سے ابھرتی ہے اور بالکل غیرمرئی ہوتی ہے۔ اگرچہ ایک مرحلہ ایسا بھی

تنقید اور ادبی تنقید کلیم الدین احمد Read More »

تنقید کیا ہے تحریر کلیم الدین احمد

تنقید کیا ہے؟ کلیم الدین احمد (۱) تمہید یوں کہنے کو تو تنقید کا سرمایہ بہت کچھ ہے، لیکن یہ سرمایہ کچھ یوں ہی سا ہے، اندر سے کھوکھلا۔ آپ نے سینٹسؔ بری کی بھاری بھرکم کتاب ’’تنقید کی تاریخ‘‘ دیکھی ہوگی اور نقادوں کی لمبی چوڑی فہرست دیکھ کر مرعوب بھی ہوں گے۔ ایسے

تنقید کیا ہے تحریر کلیم الدین احمد Read More »

اردو ادب میں طنز و ظرافت

اردو ادب میں طنز و ظرافت تحریر کلیم الدین احمد   (۱) زندگی درد و غم کا دوسرا نام ہے۔ ہماری زندگی ہی ہماری مصیبتوں کا پیش خیمہ ہے۔ ہم اس دنیا میں ستائے جانے کے لئے لائے گئے ہیں۔ انسان کمزور ہے اور اس کا ماحول لاپروا۔ انسان حساس ہے اس لئے اس کادل

اردو ادب میں طنز و ظرافت Read More »

سوئے دریا خندہ زن وہ یار جانی پھر گیا

غزل سوئے دریا خندہ زن وہ یار جانی پھر گیا موتیوں کی آبرو پر آج پانی پھر گیا سوئیاں سی کچھ دل وحشی میں پھر چبھنے لگیں ٹھیک ہونے کو لباس ارغوانی پھر گیا ہتھکڑی بھاری ہے میرے ہاتھ کی آج اے جنوں دست جاناں کا کہیں چھلا نشانی پھر گیا زور پیدا کر کہ

سوئے دریا خندہ زن وہ یار جانی پھر گیا Read More »

تا سحر کی ہے فغاں جان کے غافل مجھ کو

غزل تا سحر کی ہے فغاں جان کے غافل مجھ کو رات بھر آج پکارا ہے مرا دل مجھ کو درد و غم سے جو تپاں تھا وہ ملا دل مجھ کو اس لیے دفن کیا ہے لب ساحل مجھ کو بار حسن آپ سے لیلیٰ کا اٹھایا نہ گیا نہ لیا قیس نے جس

تا سحر کی ہے فغاں جان کے غافل مجھ کو Read More »

نہ ڈرے برق سے دل کی ہے کڑی میری آنکھ

غزل نہ ڈرے برق سے دل کی ہے کڑی میری آنکھ اس کی زنجیر طلائی سے لڑی میری آنکھ اپنے بیمار کو رکھتی ہے چھپا کر تہ خاک کہتے ہیں صاحب غیرت ہے بڑی میری آنکھ خاک میں مل کے عیاں ہوں گل نرگس بن کر دیکھ لے گر تری پھولوں کی چھڑی میری آنکھ

نہ ڈرے برق سے دل کی ہے کڑی میری آنکھ Read More »

یاد ایام کہ ہم رتبۂ رضواں ہم تھے

غزل یاد ایام کہ ہم رتبۂ رضواں ہم تھے باغبان چمن محفل جاناں ہم تھے قابل قتل نہ اے لشکر مژگاں ہم تھے دل کی اجڑی ہوئی بستی کے نگہباں ہم تھے دھجیاں جیب کی ہاتھوں میں ہیں آج اے وحشت جامہ زیبوں سے کبھی دست و گریباں ہم تھے جان لی گیسوؤں نے الفت

یاد ایام کہ ہم رتبۂ رضواں ہم تھے Read More »

انس ہے خانۂ صیاد سے گلشن کیسا

غزل انس ہے خانۂ صیاد سے گلشن کیسا ناز پرورد قفس ہوں میں نشیمن کیسا ہم وہ عریاں ہیں کہ واقف نہیں اے جوش جنوں نام کس شے کا گریبان ہے دامن کیسا اپنی آزردہ دلی بعد فنا کام آئی ڈھیر یہاں گرد کدورت کے ہیں مدفن کیسا کہہ دیا بس کہ تری آہ میں

انس ہے خانۂ صیاد سے گلشن کیسا Read More »

دو دموں سے ہے فقط گور غریباں آباد

غزل دو دموں سے ہے فقط گور غریباں آباد تم ہمیشہ رہو اے حسرت و ارماں آباد تجھ سے اے درد ہے قصر دل ویراں آباد کیا سرافراز کیا خانہ ویراں آباد جس جگہ بیٹھ کے روئے وہ مکاں ڈوب گئے شہر ہونے نہیں دیتے ترے گریاں آباد قیس و فرہاد کے دم سے بھی

دو دموں سے ہے فقط گور غریباں آباد Read More »