باتیں تو کچھ ایسی ہیں کہ خود سے بھی نہ کی جائیں
غزل باتیں تو کچھ ایسی ہیں کہ خود سے بھی نہ کی جائیں سوچا ہے خموشی سے ہر اک زہر کو پی جائیں اپنا تو نہیں کوئی وہاں پوچھنے والا اس بزم میں جانا ہے جنہیں اب تو وہی جائیں اب تجھ سے ہمیں کوئی تعلق نہیں رکھنا اچھا ہو کہ دل سے تری یادیں […]
باتیں تو کچھ ایسی ہیں کہ خود سے بھی نہ کی جائیں Read More »