MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دل جل کے رہ گئے ذقن رشک ماہ پر

غزل دل جل کے رہ گئے ذقن رشک ماہ پر اس قافلہ کو پیاس نے مارا ہے چاہ پر گیسو کو ناز ہے دل روشن کی چاہ پر پروانہ یہ چراغ ہے مار سیاہ پر نیند اڑ گئی گراں ہے یہ شب رشک ماہ پر بجلی نہ کیوں فلک سے گرے میری آہ پر ہے […]

دل جل کے رہ گئے ذقن رشک ماہ پر Read More »

باغ میں پھولوں کو روند آئی سواری آپ کی

غزل باغ میں پھولوں کو روند آئی سواری آپ کی کس قدر ممنون ہے باد بہاری آپ کی بے وفائی آپ کی غفلت شعاری آپ کی میرے دل نے عادتیں سیکھی ہیں ساری آپ کی ہے یقیں باہم گلے ملنے کو اٹھیں دست شوق ہو اگر تصویر بھی یکجا ہماری آپ کی میکدے میں ٹوٹے

باغ میں پھولوں کو روند آئی سواری آپ کی Read More »

اپنی فرحت کے دن اے یار چلے آتے ہیں

غزل اپنی فرحت کے دن اے یار چلے آتے ہیں کیفیت پر گل رخسار چلے آتے ہیں پڑ گئی کیا نگہ مست ترے ساقی کی لڑکھڑاتے ہوئے مے خوار چلے آتے ہیں یاد کیں نشہ میں ڈوبی ہوئی آنکھیں کس کی غش تجھے اے دل بیمار چلے آتے ہیں راہ میں صاحب اکسیر کھڑے ہیں

اپنی فرحت کے دن اے یار چلے آتے ہیں Read More »

منہ جو فرقت میں زرد رہتا ہے

غزل منہ جو فرقت میں زرد رہتا ہے کچھ کلیجہ میں درد رہتا ہے تھی کبھی رشک مہر کے عاشق دھوپ کا رنگ زرد رہتا ہے کس کے سنتے ہو رات کو نالے کہتے ہو سر میں درد رہتا ہے کبھی پوچھا نہ میرے کوچہ میں کون صحرا نورد رہتا ہے شور ہے زرد آئی

منہ جو فرقت میں زرد رہتا ہے Read More »

جوش پر تھیں صفت ابر بہاری آنکھیں

غزل جوش پر تھیں صفت ابر بہاری آنکھیں بہ گئیں آنسوؤں کے ساتھ ہماری آنکھیں ہیں جلو میں صفت ابر بہاری آنکھیں اٹھنے دیتی ہیں کہاں گرد سواری آنکھیں کیوں اسیران قفس کی طرف آنا چھوڑا پھیر لیں تو نے بھی اے باد بہاری آنکھیں سامنے آ گئی گلگشت میں نرگس شاید پلکوں سے چیں

جوش پر تھیں صفت ابر بہاری آنکھیں Read More »

کب اپنی خوشی سے وہ آئے ہوئے ہیں

غزل کب اپنی خوشی سے وہ آئے ہوئے ہیں مرے جذب دل کے بلائے ہوئے ہیں کجی پر جو افلاک آئے ہوئے ہیں ان آنکھوں کے شاید سکھائے ہوئے ہیں کبھی تو شہیدوں کی قبروں پہ آؤ یہ سب گھر تمہارے بسائے ہوئے ہیں کیا ہے جو کچھ ذکر مجھ دل جلے کا پسینہ میں

کب اپنی خوشی سے وہ آئے ہوئے ہیں Read More »

محفل سے اٹھانے کے سزا وار ہمیں تھے

غزل محفل سے اٹھانے کے سزا وار ہمیں تھے سب پھول ترے باغ تھے اک خار ہمیں تھے ہم کس کو دکھاتے شب فرقت کی اداسی سب خواب میں تھے رات کو بیدار ہمیں تھے سودا تری زلفوں کا گیا ساتھ ہمارے مر کر بھی نہ چھوٹے وہ گرفتار ہمیں تھے کل رات کو دیکھا

محفل سے اٹھانے کے سزا وار ہمیں تھے Read More »

تمہارے لب پہ میرا نام خواب لگتا ہے

غزل تمہارے لب پہ میرا نام خواب لگتا ہے مگر یہ لمحہ بڑا کامیاب لگتا ہے میں اپنے یار کی تاب و تپش بتاؤں کیا زمیں پہ اترا ہوا آفتاب لگتا ہے مہک تو ہے ہی نہیں رنگ بھی عبوری ہیں وہ دیکھنے میں سبھی کو گلاب لگتا ہے بھلے کے کام تو ہم کرتے

تمہارے لب پہ میرا نام خواب لگتا ہے Read More »

ترے ہی ساتھ مرے یار ہے مری دنیا

غزل ترے ہی ساتھ مرے یار ہے مری دنیا ترے بغیر تو بے کار ہے مری دنیا نشہ شراب کا بالکل مجھے پسند نہیں سرور عشق سے سرشار ہے مری دنیا دکھائی دیتے نہیں ان کو میرے ویرانے وہ سوچتے ہیں کہ گلزار ہے مری دنیا میں نفرتوں میں رہوں گا تو مر ہی جاؤں

ترے ہی ساتھ مرے یار ہے مری دنیا Read More »

بڑی حسین تھی وہ رات کیسے نیند آتی

غزل بڑی حسین تھی وہ رات کیسے نیند آتی تو مجھ سے دور تھی دو ہاتھ کیسے نیند آتی تری جدائی کے جیسے کئی جگوں کے بعد مجھے ملی تھی وہ اک رات کیسے نیند آتی نگاہیں بول رہی تھیں دلوں کے افسانے یوں اپنی ہو رہی تھی بات کیسے نیند آتی ترے لبوں کو

بڑی حسین تھی وہ رات کیسے نیند آتی Read More »