MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

گم صم ہوا کے پیڑ سے لپٹا ہوا ہوں میں

غزل گم صم ہوا کے پیڑ سے لپٹا ہوا ہوں میں کتبے پہ اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا ہوں میں آنکھوں میں وسوسوں کی نئی نیند بس گئی سو جاؤں ایک عمر سے جاگا ہوا ہوں میں یا رب رگوں میں خون کی حدت نہیں رہی یا کرب کی صلیب پہ لٹکا ہوا ہوں میں […]

گم صم ہوا کے پیڑ سے لپٹا ہوا ہوں میں Read More »

جو شخص بھی ملا ہے وہ اک زندہ لاش ہے

غزل جو شخص بھی ملا ہے وہ اک زندہ لاش ہے انساں کی داستان بڑی دل خراش ہے دامن دریدہ قلب و نظر زخم زخم ہیں اب شہر آرزو میں یہی بود و باش ہے بس اب تو رہ گئی ہے دکھاوے کی زندگی سانسوں کے تار تار میں ایک ارتعاش ہے مٹی نے پی

جو شخص بھی ملا ہے وہ اک زندہ لاش ہے Read More »

جنوں نے فاصلہ رکھا نہ کوئی عشق و عرفاں میں

غزل جنوں نے فاصلہ رکھا نہ کوئی عشق و عرفاں میں گریباں کے عوض اب ہاتھ الجھتا ہے گریباں میں   کہاں کا ہوش کیسی آگہی اس بزم امکاں میں مگر اک نیم بیداری سی ہے خواب پریشاں میں   مزہ تو تب ہے جب اترے فلک سے آہ سن کر چاند مچے کچھ خاص

جنوں نے فاصلہ رکھا نہ کوئی عشق و عرفاں میں Read More »

زندگی کا طے سفر کرنا ہے حیرانی کے ساتھ

غزل زندگی کا طے سفر کرنا ہے حیرانی کے ساتھ زندگی کیونکہ ملی ہے مجھ کو آسانی کے ساتھ زندگی کیا ہے جو دل ہو تشنۂ ذوق فنا یعنی یہ پردہ تو اٹھ سکتا ہے آسانی کے ساتھ گفتگوئے صورت و معنی ہے عنوان حیات کھیلتے ہیں وہ مری فطرت کی حیرانی کے ساتھ ہم

زندگی کا طے سفر کرنا ہے حیرانی کے ساتھ Read More »

یہ بھی نظر کا دھوکا ہے یا کار نظر ہے کیا معلوم

غزل یہ بھی نظر کا دھوکا ہے یا کار نظر ہے کیا معلوم سطح پہ ذرے رقصاں ہیں یا موج گہر ہے کیا معلوم کون نہ جانے محو ستم ہے نا حق شکوہ کیوں کیجیے چرخ ہے یا اس پردے میں وہ عربدہ گر ہے کیا معلوم وہ بھی ہیں کچھ کھوئے ہوئے سے جن

یہ بھی نظر کا دھوکا ہے یا کار نظر ہے کیا معلوم Read More »

حریم کعبہ بنا دی وہ سر زمیں میں نے

غزل حریم کعبہ بنا دی وہ سر زمیں میں نے ترے خیال میں رکھ دی جہاں جبیں میں نے   مجھی کو پردۂ ہستی میں دے رہا ہے فریب وہ حسن جس کو کیا جلوہ آفریں میں نے   چٹک میں غنچے کی وہ صوت جاں فزا تو نہیں سنی ہے پہلے بھی آواز یہ

حریم کعبہ بنا دی وہ سر زمیں میں نے Read More »

جیون مجھ سے میں جیون سے شرماتا ہوں

غزل جیون مجھ سے میں جیون سے شرماتا ہوں مجھ سے آگے جانے والو میں آتا ہوں جن کی یادوں سے روشن ہیں میری آنکھیں دل کہتا ہے ان کو بھی میں یاد آتا ہوں سر سے سانسوں کا ناتا ہے توڑوں کیسے تم جلتے ہو کیوں جیتا ہوں کیوں گاتا ہوں تم اپنے دامن

جیون مجھ سے میں جیون سے شرماتا ہوں Read More »

آگ ہے پھیلی ہوئی کالی گھٹاؤں کی جگہ

غزل آگ ہے پھیلی ہوئی کالی گھٹاؤں کی جگہ بد دعائیں ہیں لبوں پر اب دعاؤں کی جگہ انتخاب اہل گلشن پر بہت روتا ہے دل دیکھ کر زاغ و زغن کو خوش نواؤں کی جگہ کچھ بھی ہوتا پر نہ ہوتے پارہ پارہ جسم و جاں راہزن ہوتے اگر ان رہنماؤں کی جگہ لٹ

آگ ہے پھیلی ہوئی کالی گھٹاؤں کی جگہ Read More »

افسوس تمہیں کار کے شیشے کا ہوا ہے

غزل افسوس تمہیں کار کے شیشے کا ہوا ہے پروا نہیں اک ماں کا جو دل ٹوٹ گیا ہے ہوتا ہے اثر تم پہ کہاں نالۂ غم کا برہم جو ہوئی بزم طرب اس کا گلا ہے فرعون بھی نمرود بھی گزرے ہیں جہاں میں رہتا ہے یہاں کون یہاں کون رہا ہے تم ظلم

افسوس تمہیں کار کے شیشے کا ہوا ہے Read More »

اس رعونت سے وہ جیتے ہیں کہ مرنا ہی نہیں

غزل اس رعونت سے وہ جیتے ہیں کہ مرنا ہی نہیں تخت پر بیٹھے ہیں یوں جیسے اترنا ہی نہیں یوں مہ و انجم کی وادی میں اڑے پھرتے ہیں وہ خاک کے ذروں پہ جیسے پاؤں دھرنا ہی نہیں ان کا دعویٰ ہے کہ سورج بھی انہی کا ہے غلام شب جو ہم پر

اس رعونت سے وہ جیتے ہیں کہ مرنا ہی نہیں Read More »