MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

آنکھوں کا تھا قصور چھری دل پہ چل گئی

غزل دیکھا جو حسن یار طبیعت مچل گئی آنکھوں کا تھا قصور چھری دل پہ چل گئی ہم تم ملے نہ تھے تو جدائی کا تھا ملال اب یہ ملال ہے کہ تمنا نکل گئی ساقی تری شراب جو شیشے میں تھی پڑی ساغر میں آ کے اور بھی سانچے میں ڈھل گئی دشمن سے […]

آنکھوں کا تھا قصور چھری دل پہ چل گئی Read More »

بات ساقی کی نہ ٹالی جائے گی

غزل بات ساقی کی نہ ٹالی جائے گی کر کے توبہ توڑ ڈالی جائے گی وہ سنورتے ہیں مجھے اس کی ہے فکر آرزو کس کی نکالی جائے گی دل لیا پہلی نظر میں آپ نے اب ادا کوئی نہ خالی جائے گی آتے آتے آئے گا ان کو خیال جاتے جاتے بے خیالی جائے

بات ساقی کی نہ ٹالی جائے گی Read More »

نہ خوشی اچھی ہے اے دل نہ ملال اچھا ہے

غزل نہ خوشی اچھی ہے اے دل نہ ملال اچھا ہے یار جس حال میں رکھے وہی حال اچھا ہے دل بیتاب کو پہلو میں مچلتے کیا دیر سن لے اتنا کسی کافر کا جمال اچھا ہے بات الٹی وہ سمجھتے ہیں جو کچھ کہتا ہوں اب کے پوچھا تو یہ کہہ دوں گا کہ

نہ خوشی اچھی ہے اے دل نہ ملال اچھا ہے Read More »

آج تک دل کی آرزو ہے وہی

غزل آج تک دل کی آرزو ہے وہی پھول مرجھا گیا ہے بو ہے وہی سو بہاریں جہاں میں آئی گئیں مایۂ صد بہار تو ہے وہی جو ہو پوری وہ آرزو ہی نہیں جو نہ پوری ہو آرزو ہے وہی مان لیتا ہوں تیرے وعدے کو بھول جاتا ہوں میں کہ تو ہے وہی

آج تک دل کی آرزو ہے وہی Read More »

محبت رنگ دے جاتی ہے جب دل دل سے ملتا ہے

غزل محبت رنگ دے جاتی ہے جب دل دل سے ملتا ہے مگر مشکل تو یہ ہے دل بڑی مشکل سے ملتا ہے کشش سے کب ہے خالی تشنہ کامی تشنہ کاموں کی کہ بڑھ کر موجۂ دریا لب ساحل سے ملتا ہے لٹاتے ہیں وہ دولت حسن کی باور نہیں آتا ہمیں تو ایک

محبت رنگ دے جاتی ہے جب دل دل سے ملتا ہے Read More »

پلا اے گروہ سخنوراں کوئی شعر تر گل تازہ رس

غزل پلا اے گروہ سخنوراں کوئی شعر تر گل تازہ رس یہ بہار میں بھی خموشیاں نہ سر جنوں نہ پئے ہوس یہ ہے مے کدہ جو بڑھا کے ہاتھ اٹھا لے جام اسی کا ہے نہ یہاں پہ کاوش بیش و کم نہ یہاں پہ تہمت پیش و پس شرر طبیعت عاشقاں سبب تجلیٔ

پلا اے گروہ سخنوراں کوئی شعر تر گل تازہ رس Read More »

کہنے کو یوں تو ابر کرم قطرہ زن ہوا

غزل کہنے کو یوں تو ابر کرم قطرہ زن ہوا وہ گل کھلے ندیم کہ خون چمن ہوا یہ داغ دل کہ جن سے رواج سحر چلا نوک مژہ پہ اشک جو ابھرا کرن ہوا پتھر کی مورتیں نظر آتی ہیں چار سو یا رب ترے جہاں کو یہ کیا دفعتاً ہوا دونوں میں گونجتی

کہنے کو یوں تو ابر کرم قطرہ زن ہوا Read More »

ہر شے جہاں کی گرد و غبار خیال ہے

غزل ہر شے جہاں کی گرد و غبار خیال ہے آشوب گاہ دہر میں جینا محال ہے یہ گلشن یقیں بھی بجز وہم کچھ نہیں عالم جسے کہیں وہ طلسم خیال ہے نیرنگئی نظر کے سوا اور کچھ نہیں دود فراق جلوۂ شام وصال ہے یہ نغمۂ وجود کسی راگنی کی راکھ اک چیخ ساز

ہر شے جہاں کی گرد و غبار خیال ہے Read More »

نشے میں چشم ناز جو ہنستی نظر پڑی

غزل نشے میں چشم ناز جو ہنستی نظر پڑی تصویر ہوشیاری و مستی نظر پڑی لہرائی ایک بار وہ زلف خرد شکار کوئی نہ پھر بلندی و پستی نظر پڑی اٹھی تھی پہلی بار جدھر چشم آرزو وہ لوگ پھر ملے نہ وہ بستی نظر پڑی حسن بتاں تو آئینۂ حسن ذات ہے زاہد کو

نشے میں چشم ناز جو ہنستی نظر پڑی Read More »

کوئے حرم سے نکلی ہے کوئے بتاں کی راہ

غزل کوئے حرم سے نکلی ہے کوئے بتاں کی راہ ہائے کہاں پہ آ کے ملی ہے کہاں کی راہ صد آسماں بہ دامن و صد کہکشاں بہ دوش بام بلند یار ترے آستاں کی راہ ملک عدم میں قافلۂ روح جا بسا ہم دیکھتے ہی رہ گئے اس بد گماں کی راہ لٹتا رہا

کوئے حرم سے نکلی ہے کوئے بتاں کی راہ Read More »