MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کہنے کو یوں تو ابر کرم قطرہ زن ہوا

غزل

کہنے کو یوں تو ابر کرم قطرہ زن ہوا
وہ گل کھلے ندیم کہ خون چمن ہوا

یہ داغ دل کہ جن سے رواج سحر چلا
نوک مژہ پہ اشک جو ابھرا کرن ہوا

پتھر کی مورتیں نظر آتی ہیں چار سو
یا رب ترے جہاں کو یہ کیا دفعتاً ہوا

دونوں میں گونجتی ہیں بہاروں کی دھڑکنیں
میری غزل ہوئی کہ تمہارا بدن ہوا

دونوں سے ہو رہا ہے نئی صبح کا ظہور
تیری قبا ہوئی کہ ہمارا کفن ہوا

طاہرؔ سیاہ فام ہوئے ہم تو غم نہیں
روشن ہمارے نام سے نام سخن ہوا

جعفر طاہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم