پھر وہی قتل محبت زدگاں ہے کہ جو تھا
غزل پھر وہی قتل محبت زدگاں ہے کہ جو تھا رسن و دار کا عالم میں سماں ہے کہ جو تھا ان کے ہاتھوں میں وہی تیغ ستم ہے کہ جو تھی دہر ماتم کدۂ بے گنہاں ہے کہ جو تھا چشم پر خون وفا لالہ نشاں ہے کہ جو تھی قسمت بو الہوساں عیش […]
پھر وہی قتل محبت زدگاں ہے کہ جو تھا Read More »