MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

پھر وہی قتل محبت زدگاں ہے کہ جو تھا

غزل پھر وہی قتل محبت زدگاں ہے کہ جو تھا رسن و دار کا عالم میں سماں ہے کہ جو تھا ان کے ہاتھوں میں وہی تیغ ستم ہے کہ جو تھی دہر ماتم کدۂ بے گنہاں ہے کہ جو تھا چشم پر خون وفا لالہ نشاں ہے کہ جو تھی قسمت بو الہوساں عیش […]

پھر وہی قتل محبت زدگاں ہے کہ جو تھا Read More »

تشنہ لبوں کی نذر کو سوغات چاہئے

غزل تشنہ لبوں کی نذر کو سوغات چاہئے تیرے نثار تھوڑی سی برسات چاہئے اتنا بھی میکدے پہ نہ پہرے بٹھائیے کچھ تو خیال اہل خرابات چاہئے آپس کی گفتگو میں بھی کٹنے لگی زباں اب دوستوں سے ترک ملاقات چاہئے مدت سے چشم و دل میں کوئی رابطہ نہیں کیا اور تجھ کو گردش

تشنہ لبوں کی نذر کو سوغات چاہئے Read More »

یہ تمنا تھی کہ ہم اتنے سخنور ہوتے

غزل یہ تمنا تھی کہ ہم اتنے سخنور ہوتے اک غزل کہتے تو آباد کئی گھر ہوتے دوریاں اتنی دلوں میں تو نہ ہوتیں یا رب پھیل جاتے یہ جزیرے تو سمندر ہوتے اپنے ہاتھوں پہ مقدر کے نوشتے بھی پڑھ نہ سہی معنی ذرا لفظ تو بہتر ہوتے دل پہ اک وحی اور الہام

یہ تمنا تھی کہ ہم اتنے سخنور ہوتے Read More »

غم دوراں غم جاناں غم جاں ہے کہ نہیں

غزل غم دوراں غم جاناں غم جاں ہے کہ نہیں دل ستاں سلسلۂ‌ غم زدگاں ہے کہ نہیں ہر نفس بزم گلستاں میں غزل خواں تھا کبھی ہر نفس نالہ کشاں نوحہ کناں ہے کہ نہیں ہر نظر نغمہ سرا انجمن آرا تھی کبھی ہر نظر حیرتیٔ رنگ جہاں ہے کہ نہیں ہر زباں پر

غم دوراں غم جاناں غم جاں ہے کہ نہیں Read More »

کہنے کو تو کیا کیا نہ دل زار میں آئے

غزل کہنے کو تو کیا کیا نہ دل زار میں آئے ہر بات کہاں قالب‌‌ اظہار میں آئے نزدیک جو پہنچے تو وہ آہوں کا دھواں تھا کہنے کو تو ہم سایۂ دیوار میں آئے ہر موجۂ خوں سر سے گزر جائے تو اچھا ہر پھول مرے حلقۂ دستار میں آئے ہم اپنی صلیبوں کی

کہنے کو تو کیا کیا نہ دل زار میں آئے Read More »

یہ تو نہیں کہ ہم پہ ستم ہی کبھی نہ تھے

غزل یہ تو نہیں کہ ہم پہ ستم ہی کبھی نہ تھے اتنا ضرور تھا کہ وہ نا گفتنی نہ تھے اے چشم التفات یہ کیا ہو گیا تجھے تیری نظر میں ہم تو کبھی اجنبی نہ تھے پھرتے ہیں آفتاب زدہ کائنات میں ہم پر کسی کی زلف کے احساں کبھی نہ تھے پامال

یہ تو نہیں کہ ہم پہ ستم ہی کبھی نہ تھے Read More »

دونوں ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے بھاری پتھر

غزل دونوں ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے بھاری پتھر مارنے آئے ہیں عیسیٰ کو حواری پتھر میں نے جو تیرے تصور میں تراشے تھے کبھی لے گئے وہ بھی مرے گھر سے پجاری پتھر آدمی آج کہیں جائے تو کیوں کر جائے سر پہ صحرا تو زمیں ساری کی ساری پتھر سب سے پہلے مرے بھائی

دونوں ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے بھاری پتھر Read More »

یہ اور بات کہ یہ سحر بیش و کم پہ چلا

غزل یہ اور بات کہ یہ سحر بیش و کم پہ چلا سیاہ رات کا جادو مگر نہ ہم پہ چلا ادھر سے پہلے بھی کچھ سرفروش گزارے تھے رہ طلب میں نشان قدم قدم پہ چلا یہ طائران چمن کا نصیب کیا کہئے وہ تیر ان کے لیے وقف ہے جو کم پہ چلا

یہ اور بات کہ یہ سحر بیش و کم پہ چلا Read More »

چھیڑ کر تذکرۂ دور جوانی رویا

غزل چھیڑ کر تذکرۂ دور جوانی رویا رات یاروں کو سنا کر میں کہانی رویا ذکر تھا کوچہ و بازار کے ہنگاموں کا جانے کیا سوچ کے وہ یوسف ثانی رویا غیرت عشق نے کیا کیا نہ بہائے آنسو سن کے باتیں تری غیروں کی زبانی رویا جب بھی دیکھی ہے کسی چہرے پہ اک

چھیڑ کر تذکرۂ دور جوانی رویا Read More »

راستوں میں ڈھیر ہو کر پھول سے پیکر گرے

غزل راستوں میں ڈھیر ہو کر پھول سے پیکر گرے برگ کتنے آندھیوں کے پاؤں میں آ کر گرے اے جنوں کی ساعتو آمد بہاروں کی ہوئی دیکھنا وہ شاخچوں سے تتلیوں کے پر گرے تم نہ سن پائے صدا دل ٹوٹنے کی اور یہاں شور وہ اٹھا زمیں پر جس طرح امبر گرے کون

راستوں میں ڈھیر ہو کر پھول سے پیکر گرے Read More »