MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

آسماں سرخ ہوا نالۂ شب گیر کے بعد

غزل آسماں سرخ ہوا نالۂ شب گیر کے بعد حال دل اس پہ کھلا ہے بڑی تاخیر کے بعد طلب خواب میں کتنی تھیں پریشاں آنکھیں کتنی حیران ہیں اب خواب کی تعبیر کے بعد کھل تو سکتے تھے مری آنکھ پہ منظر کئی اور میں نے دیکھا ہی نہیں کچھ تری تصویر کے بعد […]

آسماں سرخ ہوا نالۂ شب گیر کے بعد Read More »

بڑھے ذرا جو یہ موج وحشت تو ہم بھی کوئی کمال کر لیں

غزل بڑھے ذرا جو یہ موج وحشت تو ہم بھی کوئی کمال کر لیں کسی کو کوئی جواب دے دیں کسی سے کوئی سوال کر لیں اس ایک سونے سے گھر کے اے دل رکھا ہی کیا ہے اب اس گلی میں کہ جائیں کرنے کو زخم تازہ اور اپنی آنکھوں کو لال کر لیں

بڑھے ذرا جو یہ موج وحشت تو ہم بھی کوئی کمال کر لیں Read More »

رنگ اس کا نیا نظر آیا

غزل رنگ اس کا نیا نظر آیا شام تھا دھوپ سا نظر آیا وہی کمرہ وہی تھا سب سامان وہ مگر دوسرا نظر آیا راستے میں وہ آ گیا تھا نظر پھر کہاں راستہ نظر آیا وہ گلی دوسری نظر آئی در و دیوار سا نظر آیا وہ جو تعبیر تھا مجھے اک دن خواب

رنگ اس کا نیا نظر آیا Read More »

تم جہاں تھے وہاں کے تھے ہی نہیں

غزل تم جہاں تھے وہاں کے تھے ہی نہیں یعنی تم اس جہاں کے تھے ہی نہیں کیسے الجھے ہیں کار دنیا میں ہم جو سود و زیاں کے تھے ہی نہیں میں تو اک وحشت دگر میں تھا مسئلے جسم و جاں کے تھے ہی نہیں دشت جاں سے نگاہ یار تلک راستے درمیاں

تم جہاں تھے وہاں کے تھے ہی نہیں Read More »

گلی گلی تری شہرت نہیں کروں گا میں

غزل گلی گلی تری شہرت نہیں کروں گا میں اب ایسی ہجر میں حالت نہیں کروں گا میں ہمیشہ کام بگاڑا ہے بے قراری نے وہ اب ملے گا تو عجلت نہیں کروں گا میں تو پاس بیٹھ مرے مجھ سے بات کر کوئی قسم خدا کی شرارت نہیں کروں گا میں دکھا دیا جو

گلی گلی تری شہرت نہیں کروں گا میں Read More »

مزاج شہر جو تحریر کرنے نکلے ہیں

غزل مزاج شہر جو تحریر کرنے نکلے ہیں ہم اپنے آپ کو دلگیر کرنے نکلے ہیں نکل کے خواب سرا سے بجھا کے چشم گماں خیال و خواب کو تعبیر کرنے نکلے ہیں سجا کے آنکھ میں وحشت بدن پہ ویرانی ترے جمال کی تشہیر کرنے نکلے ہیں جو دن کی بھیڑ میں ہم سے

مزاج شہر جو تحریر کرنے نکلے ہیں Read More »

کیفیت مآل محبت نہ پوچھیے

غزل کیفیت مآل محبت نہ پوچھیے یہ زندگی کی تلخ حقیقت نہ پوچھیے جلوہ فروز وہ ہیں بہ رعنائیٔ جمال اور انفعال ذوق طبیعت نہ پوچھیے جس کو بڑا خیال ہے دیوانگی میں بھی وارفتۂ جنوں کی فراست نہ پوچھیے کھو بیٹھتا ہے کوئی متاع دل و نظر آتی ہے اس طرح بھی قیامت نہ

کیفیت مآل محبت نہ پوچھیے Read More »

کیا لوگ تھے جو بزم جہاں سے گزر گئے

غزل کیا لوگ تھے جو بزم جہاں سے گزر گئے سرمایہ ہائے فکر و نظر چھوڑ کر گئے مسموم تر فضائے گلستاں نہیں تو پھر پھولوں کے کیوں بہار میں چہرے اتر گئے کھائے ہیں وہ فریب مسلسل کہ الاماں مہر و وفا کے نام سے بھی ہم تو ڈر گئے کیا کہیے ان کی

کیا لوگ تھے جو بزم جہاں سے گزر گئے Read More »

علم معرفت کا اڑاتا چلا ہوں

غزل علم معرفت کا اڑاتا چلا ہوں رموز حقیقت سجھاتا چلا ہوں ترے التزام محبت کی خاطر میں ہستی کو اپنی مٹاتا چلا ہوں کبھی آزمائش نے گھیرا ہے مجھ کو کبھی اس کو میں آزماتا چلا ہوں حسیں جلوۂ رخ کی تابانیوں سے رخ روح کو جگمگاتا چلا ہوں مصائب سے انعامؔ بے خوف

علم معرفت کا اڑاتا چلا ہوں Read More »

وہ انداز حسن نظر اول اول

غزل وہ انداز حسن نظر اول اول وہ جام مئے تیز تر اول اول درخشاں نگاہوں میں معصوم جلوے وہ تنویر لعل و گہر اول اول وہ چھایا ہوا نشۂ نوجوانی وہ اک عالم کر و فر اول اول وہ رعنائیٔ حسن سادہ و دل کش وہ اک جلوۂ کارگر اول اول دل و دیدہ

وہ انداز حسن نظر اول اول Read More »