MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جس طرح لوگ خسارے میں بہت سوچتے ہیں

غزل جس طرح لوگ خسارے میں بہت سوچتے ہیں آج کل ہم ترے بارے میں بہت سوچتے ہیں کون حالات کی سوچوں کے تموج میں نہیں ہم بھی بہہ کر اسی دھارے میں بہت سوچتے ہیں ہنر کوزہ گری نے انہیں بخشی ہے تراش یا یہ سب نقش تھے گارے میں بہت سوچتے ہیں دھیان […]

جس طرح لوگ خسارے میں بہت سوچتے ہیں Read More »

وفاداری پہ دے دی جان غداری نہیں آئی

غزل وفاداری پہ دے دی جان غداری نہیں آئی ہمارے خون میں اب تک یہ بیماری نہیں آئی خدا کا شکر صحبت کا اثر ہوتا نہیں ہم پر اداکاروں میں رہ کر بھی اداکاری نہیں آئی امیر شہر ہو کر بھی نہیں کوئی تری عزت ترے حصے میں غیرت اور خودداری نہیں آئی ہماری درس

وفاداری پہ دے دی جان غداری نہیں آئی Read More »

جو ہیں مظلوم ان کو تو تڑپتا چھوڑ دیتے ہیں

غزل جو ہیں مظلوم ان کو تو تڑپتا چھوڑ دیتے ہیں یہ کیسا شہر ہے ظالم کو زندہ چھوڑ دیتے ہیں انا کے سکے ہوتے ہیں فقیروں کی بھی جھولی میں جہاں ذلت ملے اس در پہ جانا چھوڑ دیتے ہیں ہوا کیسا اثر معصوم ذہنوں پر کہ بچوں کو اگر پیسے دکھاؤ تو کھلونا

جو ہیں مظلوم ان کو تو تڑپتا چھوڑ دیتے ہیں Read More »

یہ بات سچ ہے کہ تیرا مکان اونچا ہے

غزل یہ بات سچ ہے کہ تیرا مکان اونچا ہے تو یہ نہ سوچ ترا خاندان اونچا ہے کمال کچھ بھی نہیں اور شہرتوں کی طلب سنبھل کے تیر چلانا نشان اونچا ہے کہیں عذاب نہ بن جائے اس کا سایہ بھی ستون ٹوٹے ہوئے سائبان اونچا ہے مجھے یقین ہے تو شرط ہار جائے

یہ بات سچ ہے کہ تیرا مکان اونچا ہے Read More »

تماشا گھر  ( افسانہ) افسانہ نگار  اقبال مجید

تماشا گھر  ( افسانہ) افسانہ نگار  اقبال مجید جو کچھ ہوا، وہ آخر ہوا کیسے؟ میں اپنے باہری کمرے کے دروازے پر کرسی ڈالے بیٹھا تھا۔ سامنے کھلا میدان۔ وہ مشرق کی طرف سے آئی تھی۔ بس ایک پرچھائیں سی۔ کوئی چیز کب کیسی نظر آتی ہے یہ بات کیا دیکھنے والے کی خود اپنی

تماشا گھر  ( افسانہ) افسانہ نگار  اقبال مجید Read More »

کبھی تو اس آب و ہوا کو بدل کر

غزل کبھی تو اس آب و ہوا کو بدل کر مجھے دیکھ خود سے تو باہر نکل کر تماشا نہیں ہے فقط تیری دنیا کھلا بھید مجھ پر یہ گھر سے نکل کر یہ کم تو نہیں ہے کہ شہر سخن تک میں خود اپنے پیروں پہ آیا ہوں چل کر کہاں دیکھتا ہے ادھر

کبھی تو اس آب و ہوا کو بدل کر Read More »

عجب مرحلوں سے گزارا گیا میں

غزل عجب مرحلوں سے گزارا گیا میں پھر اس خاک داں پر اتارا گیا میں ضرورت نہیں تھا میں دن بھر کسی کی جہاں شام آئی پکارا گیا میں خبر ہی نہیں تھی سفر ہے کہاں تک جہاں تک گیا وہ ستارہ گیا میں محبت نہیں میں تماشا تھا جیسے گلی سے تری یوں گزارا

عجب مرحلوں سے گزارا گیا میں Read More »

اس خرابے میں کہیں ہیں ہم بھی

غزل اس خرابے میں کہیں ہیں ہم بھی بے خبر دیکھ یہیں ہیں ہم بھی تیرے ہونے سے تماشا سارا تو نہیں ہے تو نہیں ہیں ہم بھی حرف لکھے ہیں لہو سے اپنے ہو بشارت کہ کہیں ہیں ہم بھی وہ بھی آشفتہ سری کی زد پر اک طبیعت کے نہیں ہیں ہم بھی

اس خرابے میں کہیں ہیں ہم بھی Read More »

ذرا بدلا نہیں منظر وہی ہے

غزل ذرا بدلا نہیں منظر وہی ہے وہی ہے دشت یہ لشکر وہی ہے نئی ہے کچھ بدن میں بے قراری مگر کمرہ وہی بستر وہی ہے وہی وحشت جگاتی آنکھ اس کی یہاں بھی دل وہی ہے سر وہی ہے دھڑکتا کیوں نہیں ہے اس طرح دل اگر یہ وہ گلی ہے گھر وہی

ذرا بدلا نہیں منظر وہی ہے Read More »

یوں ہی کبھی مچل گئے یوں ہی کبھی بہل گئے

غزل یوں ہی کبھی مچل گئے یوں ہی کبھی بہل گئے ہم کو کہاں قرار تھا تم سے ملے سنبھل گئے دل کی کبھی سنی نہیں اور کبھی تو بے سبب آنکھ ذرا سی نم ہوئی اس کی طرف نکل گئے یوں ہی رہیں گے رات دن یوں ہی زمین و آسماں تم جو کبھی

یوں ہی کبھی مچل گئے یوں ہی کبھی بہل گئے Read More »