MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

قصۂ غم سنائے دیتے ہیں

غزل قصۂ غم سنائے دیتے ہیں دل کی حالت بتائے دیتے ہیں حسن کا بھی عجیب عالم ہے لوگ آنکھیں بچھائے دیتے ہیں بھول کر بھی نہ کیجیے الفت آپ کو ہم یہ رائے دیتے ہیں پوچھیے کیا فریب حسن کرم دام رنگیں بچھائے دیتے ہیں زندگانی کا ماحصل سمجھو رمز ہستی سجھائے دیتے ہیں […]

قصۂ غم سنائے دیتے ہیں Read More »

ہر سمت ہی سے کرب کے نرغے میں آ گیا

غزل ہر سمت ہی سے کرب کے نرغے میں آ گیا ماحول زیست ایسے قضیے میں آ گیا تھا ایک لفظ ہی تو کسی کے کلام میں وہ جس سے بال قلب کے شیشے میں آ گیا وہ علم و فن کہ جس کی کوئی انتہا نہیں سمٹا ہے جب تو دل کے صحیفے میں

ہر سمت ہی سے کرب کے نرغے میں آ گیا Read More »

وہ غم جو محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے

غزل وہ غم جو محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے پرکیف اذیت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے انسان کی معراج ترقی کی حکایت خالق کی عنایت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے سچ پوچھیے ان حسن کے جلوؤں کی حقیقت آداب محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے کیا کہیے کہ معیار عروج

وہ غم جو محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے Read More »

جو ہے کتاب دل کے حسیں اقتباس میں

غزل جو ہے کتاب دل کے حسیں اقتباس میں ہے تذکرہ اسی کا مری التماس میں آزاد ہے جو باغ وطن اور پر بہار شامل ہے میرا خون بھی اس کی اساس میں اس کا کوئی نصیب ہے جس کو خوشی میں بھی اک ابتلا ہے کلفت و امید و یاس میں کچھ ان میں

جو ہے کتاب دل کے حسیں اقتباس میں Read More »

جب خوشی بھی خوشی نہیں ہوتی

غزل جب خوشی بھی خوشی نہیں ہوتی زندگی زندگی نہیں ہوتی تیرے جلوے اگر نہ شامل ہوں چاندنی چاندنی نہیں ہوتی کبھی ہوتا بھی ہے نظر کا فریب آگہی آگہی نہیں ہوتی جو نہ پیدا ہو شان عبدیت بندگی بندگی نہیں ہوتی سب کرشمے ہیں عشق کے ورنہ دلبری دلبری نہیں ہوتی جو نہ پاکیزہ

جب خوشی بھی خوشی نہیں ہوتی Read More »

جلووں کے دل فریب نظارے نظر میں ہیں

غزل جلووں کے دل فریب نظارے نظر میں ہیں دریائے رنگ و نور کے دھارے نظر میں ہیں سب کچھ سمجھ کے بھی نہ جنہیں کچھ سمجھ سکیں مبہم سے ان کے وہ بھی اشارے نظر میں ہیں اعراض حسن دوست ہے با طرز التفات طوفاں کے ساتھ ساتھ کنارے نظر میں ہیں اعمال اپنے

جلووں کے دل فریب نظارے نظر میں ہیں Read More »

کہیں سکون کا نام و نشاں نہیں ملتا

غزل کہیں سکون کا نام و نشاں نہیں ملتا تھکن ہے اتنی کہ آرام جاں نہیں ملتا رہ تلاش میں لازم ہے دیدہ ور ہونا نگاہ شوق کو جلوہ کہاں نہیں ملتا بجھے ہوئے ہیں ہر اک سو بصیرتوں کے چراغ کوئی بھی دیدہ ور و نکتہ داں نہیں ملتا کسی کی دید کا اک

کہیں سکون کا نام و نشاں نہیں ملتا Read More »

آپ کا احترام کرتا ہوں

غزل آپ کا احترام کرتا ہوں دل سے یہ اہتمام کرتا ہوں دل کو اپنے ترے تصور سے رشک ماہ تمام کرتا ہوں جبر غم کی یہ بندشیں توبہ خود کو پابند دام کرتا ہوں ہو بہ ہر نفس جذبۂ ایثار اس قرینے کو عام کرتا ہوں اس کا کوچہ ہے اس لیے انعامؔ طوف

آپ کا احترام کرتا ہوں Read More »

اردو ہے مرا نام میں خسروؔ کی پہیلی

نظم اردو ہے مرا نام میں خسروؔ کی پہیلی میں میرؔ کی ہم راز ہوں غالبؔ کی سہیلی دکن کے ولیؔ نے مجھے گودی میں کھلایا سوداؔ کے قصیدوں نے مرا حسن بڑھایا ہے میرؔ کی عظمت کہ مجھے چلنا سکھایا میں داغ کے آنگن میں کھلی بن کے چنبیلی اردو ہے مرا نام میں

اردو ہے مرا نام میں خسروؔ کی پہیلی Read More »

خدا نے لاج رکھی میری بے نوائی کی

غزل خدا نے لاج رکھی میری بے نوائی کی بجھا چراغ تو جگنو نے رہنمائی کی ترے خیال نے تسخیر کر لیا ہے مجھے یہ قید بھی ہے بشارت بھی ہے رہائی کی قریب آ نہ سکی کوئی بے وضو خواہش بدن سرائے میں خوشبو تھی پارسائی کی متاع درد ہے دل میں تو آنکھ

خدا نے لاج رکھی میری بے نوائی کی Read More »