MOJ E SUKHAN

بڑی حسین تھی وہ رات کیسے نیند آتی

غزل

بڑی حسین تھی وہ رات کیسے نیند آتی
تو مجھ سے دور تھی دو ہاتھ کیسے نیند آتی

تری جدائی کے جیسے کئی جگوں کے بعد
مجھے ملی تھی وہ اک رات کیسے نیند آتی

نگاہیں بول رہی تھیں دلوں کے افسانے
یوں اپنی ہو رہی تھی بات کیسے نیند آتی

ترے لبوں کو کبھی تیرے گال چھوتا رہا
جب ایسے کٹ رہی تھی رات کیسے نیند آتی

وہ رات میرے لئے کوئی عام رات نہ تھی
ترے ملن کی تھی وہ رات کیسے نیند آتی

تمام رات ہم اک دوسرے کو تکتے رہے
ہمارے جاگے تھے جذبات کیسے نیند آتی

میں کیسے جاگ رہا تھا مجھے یہ حیرت تھی
مجھے تو یہ تھا بس اک رات کیسے نیند آتی

راکیش الفت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم