MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اردو کی شاعری ہے تو ہوگی یہ بات بھی

غزل اردو کی شاعری ہے تو ہوگی یہ بات بھی علم عروض بھی ہے رموز و نکات بھی یوں ہی گزر نہ جائے ملن کی یہ رات بھی آؤ کہ اب تو کر لیں کوئی اپنی بات بھی تم اپنی مسکراہٹیں کھونا نہیں کبھی گم گشتہ ہو نہ جائے مری کائنات بھی ہم پر کرم […]

اردو کی شاعری ہے تو ہوگی یہ بات بھی Read More »

اثر ہوتا نہیں ہے پتھروں پر

غزل اثر ہوتا نہیں ہے پتھروں پر ہمیں بھی ناز ہے اپنے سروں پر میں ہلتی شاخ سے ڈرتا نہیں ہوں بھروسا ہے مجھے اپنے پروں پر دعائیں مانگتی رہتی ہیں ندیاں امڈ آتے ہیں بادل ساگروں پر مجھے ان بستیوں کی آرزو ہے جہاں تالے نہیں ملتے گھروں پر قلم کمزور پڑتا جا رہا

اثر ہوتا نہیں ہے پتھروں پر Read More »

کیوں مجھے لوگ سمجھتے کم ہیں

غزل کیوں مجھے لوگ سمجھتے کم ہیں میرے دل میں تو سبھی کے غم ہیں پیار کی ایک ہی رت ہوتی ہے نفرتوں کے تو کئی موسم ہیں ہم انہیں جھیل رہے ہیں لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ بزدل ہم ہیں تیل بھی پورا ہے بتی بھی سہی جانے کیوں میرے دیے مدھم ہیں آپ

کیوں مجھے لوگ سمجھتے کم ہیں Read More »

تجھے ہے پیار تو یوں کرکے چل دکھا مجھ کو

غزل تجھے ہے پیار تو یوں کرکے چل دکھا مجھ کو سبھی کے سامنے اپنے گلے لگا مجھ کو میں جانتا ہوں کہ تو اک دہکتا شعلہ ہے تری تپش میں اگر دم ہے تو جلا مجھ کو ہر اک نظر کو پتا ہے میں ایک پتھر ہوں ہر ایک دل نے بنا رکھا ہے

تجھے ہے پیار تو یوں کرکے چل دکھا مجھ کو Read More »

میں جانتا ہوں کہ سارے برے نہیں ہوتے

غزل میں جانتا ہوں کہ سارے برے نہیں ہوتے مگر یہ سچ ہے کہ سب ایک سے نہیں ہوتے مرے پروں میں اگر حوصلے نہیں ہوتے یہ آسماں میرے آگے جھکے نہیں ہوتے مرے صنم جو مجھے تم ملے نہیں ہوتے سکون دل سے مرے رابطے نہیں ہوتے زمین پانی ہوا دیکھ بھلا سب کچھ

میں جانتا ہوں کہ سارے برے نہیں ہوتے Read More »

کہہ دو دل میں جو بات باقی ہے

غزل کہہ دو دل میں جو بات باقی ہے یہ نہ سوچو کہ رات باقی ہے عشق کی بات ہے ابھی کر لو بھول جاؤ حیات باقی ہے ساری دنیا ہے پھر بھی تنہا ہوں اک تمہارا ہی ساتھ باقی ہے آج کہتے ہیں بس شراب شراب کل کہیں گے نجات باقی ہے پہلے لازم

کہہ دو دل میں جو بات باقی ہے Read More »

چپ ہوں سب جانتا مگر ہوں میں

غزل چپ ہوں سب جانتا مگر ہوں میں یہ نہ سمجھو کہ بے خبر ہوں میں یوں تو کہنے کو اک شجر ہوں میں لیکن افسوس بے ثمر ہوں میں کوئی اپنا ہے میری کمزوری ورنہ سچی بڑا نڈر ہوں میں آج بے فکر ہو کے سو جاؤ میرے گھر والو آج گھر ہوں میں

چپ ہوں سب جانتا مگر ہوں میں Read More »

بڑے سوال ہوئے دوست رکھ رکھاؤ کے بیچ

غزل بڑے سوال ہوئے دوست رکھ رکھاؤ کے بیچکہ میرا سانس دبایا گیا بہاؤ کے بیچیہ فصل فصل ـ بہاراں ہے احتیاط کے ساتھبڑا کھٹن ہے گزرنا یہاں دباؤ کے بیچکہ میرے قتل میں شامل تمھارا ہاتھ نہیںیقین کیسے دلاؤں تمھیں الاؤ کے بیچخدا کرے کہ محبت سے جان بچ جائےخدا کرے وہ ہرا دے

بڑے سوال ہوئے دوست رکھ رکھاؤ کے بیچ Read More »

کہا یہ کس نے تجھے زندگی پڑی ہوئی ہے

غزل کہا یہ کس نے تجھے زندگی پڑی ہوئی ہےگزر بسر کو تو آوارگی پڑی ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادھر ادھر کے فسانوں کو سن کے آج مجھےپتہ چلا کہ یہاں موت بھی پڑی ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کواڑ کھول کے مت دیکھ مری جانب تویہاں چراغ نہیں دوستی پڑی ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ بدتمیز کہاں آگئے ہیں محفل میںیہ کس سبب سے

کہا یہ کس نے تجھے زندگی پڑی ہوئی ہے Read More »

بالکونی میں ہی مہتاب ہوا کرتا تھا

غزل بالکونی میں ہی مہتاب ہوا کرتا تھااپنا جب حلقہ ء احباب ہوا کرتا تھاچشمِ دنیا کی دلآویز محبت کے طفیلروزِ روشن کی طرح خواب ہوا کرتا تھاتیری آنکھوں سے گرا ہوں تو مجھے علم ہوادشت میں کونسا سیلاب ہوا کرتا تھااب جہاں خون کی ندیاں ہیں رواں شہر بہ شہرپہلے اس شہر میں تالاب

بالکونی میں ہی مہتاب ہوا کرتا تھا Read More »