MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اک دن خود کو اپنے پاس بٹھایا ہم نے

غزل اک دن خود کو اپنے پاس بٹھایا ہم نے پہلے یار بنایا پھر سمجھایا ہم نے خود بھی آخر کار انہی وعدوں سے بہلے جن سے ساری دنیا کو بہلایا ہم نے بھیڑ نے یوں ہی رہبر مان لیا ہے ورنہ اپنے علاوہ کس کو گھر پہنچایا ہم نے موت نے ساری رات ہماری […]

اک دن خود کو اپنے پاس بٹھایا ہم نے Read More »

ٹھہر کے دیکھ تو اس خاک سے کیا کیا نکل آیا

غزل ٹھہر کے دیکھ تو اس خاک سے کیا کیا نکل آیا مری پر گرد پیشانی سے بھی سجدہ نکل آیا کہیں پیپل اگے ہیں تیسری منزل کے چھجے پر کہیں کھڑکی کی چوکھٹ سے کوئی قبضہ نکل آیا ہمارا راستہ تو علم کا تھا جستجو کا تھا نہ جانے کون سے رستے سے یہ

ٹھہر کے دیکھ تو اس خاک سے کیا کیا نکل آیا Read More »

بہت آسان ہے دنیا میں رہنا

غزل بہت آسان ہے دنیا میں رہنا یہ جملہ پھر کبھی مجھ سے نہ کہنا فقط اپنے ہی غم میں گھل رہے ہو کبھی سیکھو کسی کا درد سہنا کسی دن لاؤں گا سونے کے کنگن مگر فی الحال یہ پھولوں کا گہنا بڑا سمجھایا اور دھمکایا سب نے مگر دریا کی فطرت میں ہے

بہت آسان ہے دنیا میں رہنا Read More »

تم نے یہ ماجرا سنا ہے کیا

غزل تم نے یہ ماجرا سنا ہے کیا جو بھی ہونا ہے ہو چکا ہے کیا وہ مسافر جو راستے میں تھا منزلوں سے گزر گیا ہے کیا کوئی ہوتا نہیں ہے آپ کے ساتھ آپ کے ساتھ مسئلہ ہے کیا یہ جو تدبیر کر رہا ہوں میں یہ بھی تقدیر میں لکھا ہے کیا

تم نے یہ ماجرا سنا ہے کیا Read More »

تیری مشکل کسی کو کیا معلوم

غزل تیری مشکل کسی کو کیا معلوم اے میرے دل کسی کو کیا معلوم تیرا رستہ جدا ہی ہے سب سے تیری منزل کسی کو کیا معلوم جو کسی دل میں چل رہی ہے ابھی ایسی محفل کسی کو کیا معلوم دوسروں کے کنارے جانتے ہیں اپنا ساحل کسی کو کیا معلوم یہ ریاضی کا

تیری مشکل کسی کو کیا معلوم Read More »

ڈھونڈئیے دن رات ہفتوں اور مہینوں کے بٹن

غزل ڈھونڈئیے دن رات ہفتوں اور مہینوں کے بٹن لا مکاں میں کھو گئے ہیں ان مکینوں کے بٹن صرف چھونے سے نظر آتا ہے منظر کا فریب دیکھنے میں خوش نما ہیں آبگینوں کے بٹن درس تقویٰ دینے والے کی قبا پر دیکھیے سونے چاندی اور چمکیلے نگینوں کے بٹن اب گریباں چاک کا

ڈھونڈئیے دن رات ہفتوں اور مہینوں کے بٹن Read More »

زندگی میں جو یہ روانی ہے

غزل زندگی میں جو یہ روانی ہے ایک کردار کی کہانی ہے میں نے اس سے کہا یہ آنسو ہیں اس نے مجھ سے کہا یہ پانی ہے تازہ تازہ ہے تیرا غم عمرانؔ یہ کہانی بڑی پرانی ہے ایک تو سرپھری ہوا کی چال اور کشتی بھی بادبانی ہے زخم جس وقت کی امانت

زندگی میں جو یہ روانی ہے Read More »

دل تو ہر چیز پہ بچہ سا مچل جاتا ہے

غزل دل تو ہر چیز پہ بچہ سا مچل جاتا ہے جیب جب ڈانٹنے لگتی ہے سنبھل جاتا ہے جب بھی میں سوچتا ہوں رات نہیں جانے کی دور اس گھر میں کوئی بلب سا جل جاتا ہے رات کے وقت ابھرتا ہے جنوں کا سورج دن نکلتے ہی کسی چاند میں ڈھل جاتا ہے

دل تو ہر چیز پہ بچہ سا مچل جاتا ہے Read More »

ان مکانوں سے بہت دور بہت دور کہیں

غزل ان مکانوں سے بہت دور بہت دور کہیں چل زمانوں سے بہت دور بہت دور کہیں خواب سا ایک جہاں ہے کہ جہاں سب کچھ ہے ان جہانوں سے بہت دور بہت دور کہیں میرے امکان نے دیکھی ہے کنارے کی جھلک بادبانوں سے بہت دور بہت دور کہیں قصہ گو اپنے تخیل میں

ان مکانوں سے بہت دور بہت دور کہیں Read More »

جل کر جس نے جل کو دیکھا

غزل جل کر جس نے جل کو دیکھا تم نے اس پاگل کو دیکھا خواب دیے اور آئینے میں آنے والے کل کو دیکھا وقت کے سب سے اونچے پل سے آتے جاتے پل کو دیکھا خواہش کے چنگل سے آگے حیرت کے جنگل کو دیکھا صحرا میں اک کرسی دیکھی کرسی پر سچل کو

جل کر جس نے جل کو دیکھا Read More »