کیا اس سے بڑھ کے اور بھی کوئی ہے امتحاں
غزل کچھ بھی تو اپنے پاس نہیں جز متاع دل کیا اس سے بڑھ کے اور بھی کوئی ہے امتحاں لکھنے کو لکھ رہے ہیں غضب کی کہانیاں لکھی نہ جا سکی مگر اپنی ہی داستاں دل سے دماغ و حلقۂ عرفاں سے دار تک ہم خود کو ڈھونڈتے ہوئے پہنچے کہاں کہاں اس بے […]
کیا اس سے بڑھ کے اور بھی کوئی ہے امتحاں Read More »