MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کیا اس سے بڑھ کے اور بھی کوئی ہے امتحاں

غزل کچھ بھی تو اپنے پاس نہیں جز متاع دل کیا اس سے بڑھ کے اور بھی کوئی ہے امتحاں لکھنے کو لکھ رہے ہیں غضب کی کہانیاں لکھی نہ جا سکی مگر اپنی ہی داستاں دل سے دماغ و حلقۂ عرفاں سے دار تک ہم خود کو ڈھونڈتے ہوئے پہنچے کہاں کہاں اس بے […]

کیا اس سے بڑھ کے اور بھی کوئی ہے امتحاں Read More »

بڑے غضب کا ہے یارو بڑے عذاب کا زخم

غزل بڑے غضب کا ہے یارو بڑے عذاب کا زخم اگر شباب ہی ٹھہرا مرے شباب کا زخم ذرا سی بات تھی کچھ آسماں نہ پھٹ پڑتا مگر ہرا ہے ابھی تک ترے جواب کا زخم زمیں کی کوکھ ہی زخمی نہیں اندھیروں سے ہے آسماں کے بھی سینے پہ آفتاب کا زخم میں سنگسار

بڑے غضب کا ہے یارو بڑے عذاب کا زخم Read More »

کچھ تو تعلق کچھ تو لگاؤ

غزل کچھ تو تعلق کچھ تو لگاؤ میرے دشمن ہی کہلاؤ دل سا کھلونا ہاتھ آیا ہے کھیلو توڑو جی بہلاؤ کل اغیار میں بیٹھے تھے تم ہاں ہاں کوئی بات بناؤ کون ہے ہم سا چاہنے والا اتنا بھی اب دل نہ دکھاؤ حسن تھا جب مستور حیا میں عشق تھا خون دل کا

کچھ تو تعلق کچھ تو لگاؤ Read More »

یوں ہی وابستگی نہیں ہوتی

غزل یوں ہی وابستگی نہیں ہوتی دور سے دوستی نہیں ہوتی جب دلوں میں غبار ہوتا ہے ڈھنگ سے بات بھی نہیں ہوتی چاند کا حسن بھی زمین سے ہے چاند پر چاندنی نہیں ہوتی جو نہ گزرے پری وشوں میں کبھی کام کی زندگی نہیں ہوتی دن کے بھولے کو رات ڈستی ہے شام

یوں ہی وابستگی نہیں ہوتی Read More »

راہ طلب میں کون کسی کا اپنے بھی بیگانے ہیں

غزل راہ طلب میں کون کسی کا اپنے بھی بیگانے ہیں چاند سے مکھڑے رشک غزالاں سب جانے پہچانے ہیں تنہائی سی تنہائی ہے کیسے کہیں کیسے سمجھائیں چشم و لب و رخسار کی تہ میں روحوں کے ویرانے ہیں اف یہ تلاش حسن و حقیقت کس جا ٹھہریں جائیں کہاں صحن چمن میں پھول

راہ طلب میں کون کسی کا اپنے بھی بیگانے ہیں Read More »

افسانہ  احساس محرومی ارم زہرا

افسانہ  احساس محرومی ارم زہرا کراچی آج پھر شبنم سے دھلی ہوئی صبح، سورج کا منہ تک رہی ہے۔ باہر باغیچے کی لمبی لمبی کیاریوں میں نوزائیدہ کلیاں زندگی کا پہلا سانس لینے کی کوشش کر رہی ہیں۔ گلابوں کی خشک ٹہنیاں بھی سرخ کنگن سے سج رہی ہیں۔ مارچ کا دبیز آنچل سب پر

افسانہ  احساس محرومی ارم زہرا Read More »

افسانہ آخری فلائٹ تحریر رابعہ الرباء

آخری فلائٹ رابعہ الرباء ماؤف ذہن میں صرف ایک سوچ تھی میں کیسے ان کا سامنا کروں گا۔ مجھ سے نہیں ہوگا یہ سب۔ میرے میں ہمت نہیں رہی۔۔۔ کیا کہوں گا، ان کو اور کیسے کہوں گا۔۔۔ ان سے نگاہیں کیسے ملاؤں گا، میں کر ہی کیا سکا ہوں ان کے لئے۔۔۔! وہ۔۔۔! انہوں

افسانہ آخری فلائٹ تحریر رابعہ الرباء Read More »

ایک سے سلسلے ہیں سب ہجر کی رت بتا گئی

غزل ایک سے سلسلے ہیں سب ہجر کی رت بتا گئی پھر وہی صبح آئے گی پھر وہی شام آ گئی میرے لہو میں جل اٹھے اتنے ہی تازہ دم چراغ وقت کی سازشی ہوا جتنے دیے بجھا گئی میں بھی بہ پاس دوستاں اپنے خلاف ہو گیا اب یہی رسم دوستی مجھ کو بھی

ایک سے سلسلے ہیں سب ہجر کی رت بتا گئی Read More »

درد ہے کہ نغمہ ہے فیصلہ کیا جائے

غزل درد ہے کہ نغمہ ہے فیصلہ کیا جائے یعنی دل کی دھڑکن پر غور کر لیا جائے آپ کتنے سادہ ہیں چاہتے ہیں بس اتنا ظلم کے اندھیرے کو رات کہہ دیا جائے آج سب ہیں بے قیمت گریہ بھی تبسم بھی دل میں ہنس لیا جائے دل میں رو لیا جائے بے حسی

درد ہے کہ نغمہ ہے فیصلہ کیا جائے Read More »

کبھی ہوا تو کبھی خاک رہ گزر ہونا

غزل کبھی ہوا تو کبھی خاک رہ گزر ہونا مرے نصیب میں لکھا ہے در بہ در ہونا اگر چلو تو مرے ساتھ ہی چلو لیکن کٹھن سفر سے زیادہ ہے ہم سفر ہونا اداس اداس یہ دیوار و در بتاتے ہیں کہ جیسے راس نہ ہو ان کو میرا گھر ہونا قدم اٹھے بھی

کبھی ہوا تو کبھی خاک رہ گزر ہونا Read More »