MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

تیرے ہونٹوں کی خیر مانگی ہے

غزل تیرے ہونٹوں کی خیر مانگی ہے یعنی پھولوں کی خیر مانگی ہے یہ خبر ہے کہ بادلوں نے ابھی تیری زلفوں کی خیر مانگی ہے سارے بجھتے ہوئے چراغوں نے جلتی آنکھوں کی خیر مانگی ہے کچھ فقیروں نے دان کے بدلے کج کلاہوں کی خیر مانگی ہے ڈولتے تخت اڑتے تاجوں نے بادشاہوں […]

تیرے ہونٹوں کی خیر مانگی ہے Read More »

ہوائے شام ذرا سا قیام ہوگا نا

غزل ہوائے شام ذرا سا قیام ہوگا نا چراغ جاں کو جلاؤں کلام ہوگا نا بس ایک بات ہی پوچھی بچھڑنے والے نے کبھی کہیں پہ ملے تو سلام ہوگا نا رخ جمال پہ شکنیں ہی جب سجی ہوں گی تو پھر ہمارا رویہ بھی خام ہوگا نا تری بہشت میں حور و قصور ہوں

ہوائے شام ذرا سا قیام ہوگا نا Read More »

یہ سوچا ہے کہ مر جائیں تمہارے وار سے پہلے

غزل یہ سوچا ہے کہ مر جائیں تمہارے وار سے پہلے تمہاری جیت ہو جائے ہماری ہار سے پہلے کسی لمحے تمہارا وار کاری ہو بھی سکتا ہے مگر یہ سر ہی جائے گا مری دستار سے پہلے بتا کتنا گرا سکتا ہوں خود کو تیری خواہش پر مرا معیار بھی تو ہے ترے معیار

یہ سوچا ہے کہ مر جائیں تمہارے وار سے پہلے Read More »

شام ہوتے ہی چراغوں کو جلانے والے

غزل شام ہوتے ہی چراغوں کو جلانے والے لوٹ کے آتے نہیں چھوڑ کے جانے والے تو مری آنکھ کو بھایا ہے مرے دل کو نہیں تیرے اطوار تو لگتے ہیں زمانے والے عمر بھر تجھ کو مرا خواب نہیں آئے گا وصل کی شام مرا ہجر منانے والے یعنی کچھ روز تجھے چھوڑ کے

شام ہوتے ہی چراغوں کو جلانے والے Read More »

ہم صد ہزار بار تجھے دیکھتے رہے

غزل ہم صد ہزار بار تجھے دیکھتے رہے تھا شوق بے مہار تجھے دیکھتے رہے کچھ نے تو مسکرا کے کہا الوداع مگر کچھ لوگ اشک بار تجھے دیکھتے رہے پھر یوں ہوا کہ سارے بدن پر نکل پڑیں آنکھیں کئی ہزار تجھے دیکھتے رہے دیوار جاں سے نقش تو تحلیل ہو گئے مژگاں کے

ہم صد ہزار بار تجھے دیکھتے رہے Read More »

کسی کی صدا نظم

کسی کی صدا رات کے پر کیف سناٹے میں بنسی کی صدا چاندنی کے سیم گوں شانے پہ لہراتی ہوئی گونجتی بڑھتی لرزتی کوہساروں کے قریب پھیلتی میداں میں پگڈنڈی پہ بل کھاتی ہوئی آ رہی ہے اس طرح جیسے کسی کی یاد آئے نیند میں ڈوبی ہوئی پلکوں کو اکساتی ہوئی آسمانوں میں زمیں

کسی کی صدا نظم Read More »

چھلکتی آئے کہ اپنی طلب سے بھی کم آئے

غزل چھلکتی آئے کہ اپنی طلب سے بھی کم آئے ہمارے سامنے ساقی بہ ساغر جم آئے فروغ آتش گل ہی چمن کی ٹھنڈک ہے سلگتی چیختی راتوں کو بھی تو شبنم آئے بس ایک ہم ہی لیے جائیں درس عجز و نیاز کبھی تو اکڑی ہوئی گردنوں میں بھی خم آئے جو کارواں میں

چھلکتی آئے کہ اپنی طلب سے بھی کم آئے Read More »

لب و رخسار و جبیں سے ملئے

غزل لب و رخسار و جبیں سے ملئے جی نہیں بھرتا کہیں سے ملئے یوں نہ اس دل کے مکیں سے ملئے آسماں بن کے زمیں سے ملئے گھٹ کے رہ جاتی ہے رسوائی تک کیا کسی پردہ نشیں سے ملئے کیوں حرم میں یہ خیال آتا ہے اب کسی دشمن دیں سے ملئے جی

لب و رخسار و جبیں سے ملئے Read More »

آج کی رات کٹے گی کیوں کر ساز نہ جام نہ تو مہمان

غزل آج کی رات کٹے گی کیوں کر ساز نہ جام نہ تو مہمان صبح تلک کیا جانئے کیا ہو آنکھ لگے یا جائے جان پچھلی رات کا سناٹا کہتا ہے اب کیا آئیں گے عقل یہ کہتی ہے سو جاؤ دل کہتا ہے ایک نہ مان ملک طرب کے رہنے والو یہ کیسی مجبوری

آج کی رات کٹے گی کیوں کر ساز نہ جام نہ تو مہمان Read More »

ذہن سے دل کا بار اترا ہے

غزل ذہن سے دل کا بار اترا ہے پیرہن تار تار اترا ہے ڈوب جانے کی لذتیں مت پوچھ کون ایسے میں پار اترا ہے ترک مے کر کے بھی بہت پچھتائے مدتوں میں خمار اترا ہے دیکھ کر میرا دشت تنہائی رنگ روئے بہار اترا ہے پچھلی شب چاند میرے ساغر میں پے بہ

ذہن سے دل کا بار اترا ہے Read More »