زخم دبے تو پھر نیا تیر چلا دیا کرو
غزل زخم دبے تو پھر نیا تیر چلا دیا کرو دوستو اپنا لطف خاص یاد دلا دیا کرو ایک علاج دائمی ہے تو برائے تشنگی پہلے ہی گھونٹ میں اگر زہر ملا دیا کرو شہر طلب کرے اگر تم سے علاج تیرگی صاحب اختیار ہو آگ لگا دیا کرو مقتل غم کی رونقیں ختم نہ […]
زخم دبے تو پھر نیا تیر چلا دیا کرو Read More »