MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

زخم دبے تو پھر نیا تیر چلا دیا کرو

غزل زخم دبے تو پھر نیا تیر چلا دیا کرو دوستو اپنا لطف خاص یاد دلا دیا کرو ایک علاج دائمی ہے تو برائے تشنگی پہلے ہی گھونٹ میں اگر زہر ملا دیا کرو شہر طلب کرے اگر تم سے علاج تیرگی صاحب اختیار ہو آگ لگا دیا کرو مقتل غم کی رونقیں ختم نہ […]

زخم دبے تو پھر نیا تیر چلا دیا کرو Read More »

اب حرف تمنا کو سماعت نہ ملے گی

غزل اب حرف تمنا کو سماعت نہ ملے گی بیچوگے اگر خواب تو قیمت نہ ملے گی تشہیر کے بازار میں اے تازہ خریدار زیبائشیں مل جائیں گی قامت نہ ملے گی لمحوں کے تعاقب میں گزر جائیں گی صدیاں یوں وقت تو مل جائے گا مہلت نہ ملے گی سوچا ہی نہ تھا یوں

اب حرف تمنا کو سماعت نہ ملے گی Read More »

ضبط اور احتیاط سے آگے

غزل ضبط اور احتیاط سے آگے عشق کرنا بساط سے آگے وہ بھلا عشق کس طرح کرتا نہ گیا انضباط سے آگے اس کے پہلو میں جو گزارا ہے ہر وہ پل انبساط سے آگے اس زمانے میں اب وفا کا چلن کم ہوا انحطاط سے آگے دل سے دل کا ملاپ ایسا ہو روح

ضبط اور احتیاط سے آگے Read More »

زندگی نے ستا کے حد کر دی

غزل زندگی نے ستا کے حد کر دی میں نے بھی مسکرا کے حد کر دی میں نے اس سے کہا، ‘چلے جاؤ’ اور اس نے بھی جا کے، حد کر دی شعر میں نے کہے تھے تیرے لیے تو نے سب کو سنا کے حد کر دی ایک وعدہ تھا یاد رکھنے کا تو

زندگی نے ستا کے حد کر دی Read More »

رنگ جو بےمثال رکھے ہیں

غزل رنگ جو بےمثال رکھے ہیں اپنی غزلوں میں ڈھال رکھے ہیں آپ کی قسمیں آپ کے وعدے میں نے بےحد سنبھال رکھے ہیں عشق راس آ بھی جاتا ہوگا مگر دل نے اندیشے پال رکھے ہیں میری آنکھوں کے بند کمرے میں خواب کچھ بےمثال رکھے ہیں خوف اس کو ہے میری آنکھوں میں

رنگ جو بےمثال رکھے ہیں Read More »

عشق کے نظم و ضبط قواعد اور رمزیں پیچیدہ ہیں

غزل عشق کے نظم و ضبط قواعد اور رمزیں پیچیدہ ہیں عشق سمجھ میں آ جائے تو, سب عاشق فہمیدہ ہیں ڈھلتی شام میں سر نیہوڑائے ہم آنگن میں بیٹھ گئے آجا آ کر دیکھ لے تجھ بن ہم کتنے رنجیدہ ہیں ایک زمانہ تھا جب ہم بھی ہنستے کھیلتے گاتے تھے اب تو ایک

عشق کے نظم و ضبط قواعد اور رمزیں پیچیدہ ہیں Read More »

خود اپنے نفس سے کچھ ایسے انحراف کریں

غزل خود اپنے نفس سے کچھ ایسے انحراف کریں کہ دل نہ مانے جسے اس کو بھی معاف کریں گزشتہ رنجشوں سے ایسے دل کو صاف کریں ہر انشقاق بھلا کر ہم ایتلاف کریں تمہارے وصل کی منت اتارنے کے لیے تمہارے حلقہءِ قربت میں اعتکاف کریں سماج ، رِیت، مقدر، گمان اور خدشات ترے

خود اپنے نفس سے کچھ ایسے انحراف کریں Read More »

قدم قدم پہ صبا, تتلیاں, دھنک, جگنو

غزل قدم قدم پہ صبا, تتلیاں, دھنک, جگنو تمہاری یاد سے ہر سُو بکھرنے لگتے ہیں کلی, بہار, شبِستاں, گلُاب اور خُوشبو تمہاری سوچ سے ہر سُو نکھرنے لگتے ہیں طلِسم, خواب, تخیّل, سِحر, فُسوں , جادو مرے خیال میں یکدم اُبھرنے لگتے ہیں زمین، آسماں، کُہسار، بحر، دشت و دمن تصورات میں منظر ٹھہرنے

قدم قدم پہ صبا, تتلیاں, دھنک, جگنو Read More »

ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺣﺴﻦ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﮬﮯ

غزل ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺣﺴﻦ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﮬﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟﻣﻞ ﮐﺮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﮬﮯ ﻃﻠﻮﻉ ﻭﺻﻞ ﮐﯽ ﺟﻮ ﺁﺱ ﻻﮰ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺲ ﻭﮦ ﺳﺘﺎﺭﮦ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﮬﮯ ﻭﮦ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺭﻧﮓ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺭ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﻧﻈﺮ ﮐﻮ ﻭﮦ ﻧﻈﺎﺭﮦ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﮬﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺑﺎﮨﻢ ﮨﻮﮞ ﺣﺴﻦ ﻭ ﻋﺸﻖ ﮨﻢ ﮐﻮ ﻭﮦﺳﺎﺣﻞ، ﻭﮦ ﮐﻨﺎﺭﺍ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﮬﮯ ﻓﺮﯾﺐ ﻭ ﻣﮑﺮ ﮐﯽ

ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺣﺴﻦ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﮬﮯ Read More »

اب ترے ملنے کا امکان کہاں باقی ہے

غزل اب ترے ملنے کا امکان کہاں باقی ہے جاں پہ بن آئی ہے پر جان کہاں باقی ہے وہ تو اک شخص تھا پہچان کا باعث ورنہ اب بھرے شہر میں پہچان کہاں باقی ہے درد کو ‘درد’ ہی اب کہنا پڑے گا شاید درد کا کوئی بھی عنوان کہاں باقی ہے چار سو

اب ترے ملنے کا امکان کہاں باقی ہے Read More »