MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

درد ہے کہ نغمہ ہے فیصلہ کیا جائے

غزل

درد ہے کہ نغمہ ہے فیصلہ کیا جائے
یعنی دل کی دھڑکن پر غور کر لیا جائے

آپ کتنے سادہ ہیں چاہتے ہیں بس اتنا
ظلم کے اندھیرے کو رات کہہ دیا جائے

آج سب ہیں بے قیمت گریہ بھی تبسم بھی
دل میں ہنس لیا جائے دل میں رو لیا جائے

بے حسی کی دنیا سے دو سوال میرے بھی
کب تلک جیا جائے اور کیوں جیا جائے

اب تو فقر و فاقہ کی آبرو اسی سے ہے
تار تار دامن کو کیوں بھلا سیا جائے

پیرزادہ قاسم رضا صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم