MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہم ترے غم کے پاس بیٹھے تھے

غزل ہم ترے غم کے پاس بیٹھے تھے دوسرے غم اداس بیٹھے تھے بس وہی امتحاں میں پاس ہوئے جو ترے آس پاس بیٹھے تھے شاہ کو بھا گئی تھی اک داسی سب مصاحب اداس بیٹھے تھے آندھی آئی تو انکشاف ہوا کرسیوں پر لباس بیٹھے تھے بام و در کو نہیں دکھائی دئے تم […]

ہم ترے غم کے پاس بیٹھے تھے Read More »

سمندر الٹا سیدھا بولتا ہے

غزل سمندر الٹا سیدھا بولتا ہے سلیقے سے تو پیاسا بولتا ہے یہاں تو اس کا پیسہ بولتا ہے وہاں دیکھیں گے وہ کیا بولتا ہے نگاہیں کرتی رہ جاتی ہیں ہجے وہ جب چہرے سے املا بولتا ہے میں چپ رہتا ہوں اتنا بول کر بھی وہ چپ رہ کر بھی کتنا بولتا ہے

سمندر الٹا سیدھا بولتا ہے Read More »

جاہلوں کو سلام کرنا ہے

غزل جاہلوں کو سلام کرنا ہے اور پھر جھوٹ موٹ ڈرنا ہے کاش وہ راستے میں مل جائے مجھ کو منہ پھیر کر گزرنا ہے پوچھتی ہے صدائے بال و پر کیا زمیں پر نہیں اترنا ہے سوچنا کچھ نہیں ہمیں فی الحال ان سے کوئی بھی بات کرنا ہے بھوک سے ڈگمگا رہے ہیں

جاہلوں کو سلام کرنا ہے Read More »

تمہیں بس یہ بتانا چاہتا ہوں

غزل تمہیں بس یہ بتانا چاہتا ہوں میں تم سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو میں ہاں میں ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے میں تمہارے یہاں میں در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بہت دکھ دے رہی ہے میں سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں میں

تمہیں بس یہ بتانا چاہتا ہوں Read More »

نمک کی روز مالش کر رہے ہیں

غزل نمک کی روز مالش کر رہے ہیں ہمارے زخم ورزش کر رہے ہیں سنو لوگوں کو یہ شک ہو گیا ہے کہ ہم جینے کی سازش کر رہے ہیں ہماری پیاس کو رانی بنا لیں کئی دریا یہ کوشش کر رہے ہیں مرے صحرا سے جو بادل اٹھے تھے کسی دریا پہ بارش کر

نمک کی روز مالش کر رہے ہیں Read More »

پوچھ لیتے وہ بس مزاج مرا

غزل پوچھ لیتے وہ بس مزاج مرا کتنا آسان تھا علاج مرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج مرا میں تو رہتا ہوں دشت میں مصروف قیس کرتا ہے کام کاج مرا کوئی کاسہ مدد کو بھیج اللہ میرے بس میں نہیں ہے تاج مرا میں محبت کی بادشاہت ہوں

پوچھ لیتے وہ بس مزاج مرا Read More »

تیرے جیسا کوئی ملا ہی نہیں

غزل تیرے جیسا کوئی ملا ہی نہیں کیسے ملتا کہیں پہ تھا ہی نہیں گھر کے ملبے سے گھر بنا ہی نہیں زلزلے کا اثر گیا ہی نہیں مجھ پہ ہو کر گزر گئی دنیا میں تری راہ سے ہٹا ہی نہیں کل سے مصروف خیریت میں ہوں شعر تازہ کوئی ہوا ہی نہیں رات

تیرے جیسا کوئی ملا ہی نہیں Read More »

میں نفرتوں کی وہ حد کروں گی

غزل میں نفرتوں کی وہ حد کروں گی کچھ ایسے تم کو میں رد کروں گی بھلا کے رکھ دوں گی تجھ کو دل سے دوانگی کی وہ حد کروں گی ترے ستم سے یہ طے کیا ہے جدائی تیری سند کروں گی میں دفن کر دوں گی تیری یادیں تجھے میں یوں مسترد کروں

میں نفرتوں کی وہ حد کروں گی Read More »

تیری نظروں میں معتبر نہ ہوئی

غزل تیری نظروں میں معتبر نہ ہوئی میں معطر ہوئی مگر نہ ہوئی حال دنیا پہ کھل گیا میرا ایک بس آپ کو خبر نہ ہوئی زندگی ریزہ ریزہ ہو کر بھی آج تک گرد رہ گزر نہ ہوئی تو سفر کار تھا سفر میں رہا میں ترے پاؤں میں ڈگر نہ ہوئی تیرے دل

تیری نظروں میں معتبر نہ ہوئی Read More »

مرے دل سے ترے دل تک سفر ہے

غزل مرے دل سے ترے دل تک سفر ہے محبت کی کہانی مختصر ہے کہو گے کیا اسے اے بخیہ گر تم یہ اک آنسو ہے یا تار نظر ہے رگیں پیروں کی جیسے منجمد ہیں تماشائی بنی اک رہ گزر ہے اداسی مستقل مہماں ہے دل کی خبر خوشیوں کی اس پر بے اثر

مرے دل سے ترے دل تک سفر ہے Read More »