MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

وہ بچھڑ کر نڈھال تھا ہی نہیں

غزل وہ بچھڑ کر نڈھال تھا ہی نہیں یعنی اس کو ملال تھا ہی نہیں وہ تو پاؤں ہی پڑ گیا تھا مرے جس سفر میں ملال تھا ہی نہیں میری تصدیق کیا بھلا کرتا؟ وہ کبھی میری ڈھال تھا ہی نہیں سرمئی ہجر کو ہرا کرتا اس میں ایسا کمال تھا ہی نہیں اور […]

وہ بچھڑ کر نڈھال تھا ہی نہیں Read More »

کوئی وظیفہ مجھے بھی بتا مرے درویش

غزل کوئی وظیفہ مجھے بھی بتا مرے درویش تجھے ہوئی ہے فقیری عطا مرے درویش مری خطا تو بس اتنی ہے اس تعلق میں یہی کہ ہونی کو ہونے دیا مرے درویش اسے میں پیار محبت کا نام کیسے دوں یہ اور طرح کا ہے تجربہ مرے درویش کہ جس نے باندھ دیا تیری ذات

کوئی وظیفہ مجھے بھی بتا مرے درویش Read More »

اب کہاں اس کی ضرورت ہے ہمیں

غزل اب کہاں اس کی ضرورت ہے ہمیں اب اکیلے پن کی عادت ہے ہمیں دیکھیے جا کر کہاں رکتے ہیں اب تیری قربت سے تو ہجرت ہے ہمیں سانس لیتی ایک خوشبو ہے جسے ورد کرنے کی اجازت ہے ہمیں دل جزیرے پر ہے اس کی روشنی اک ستارے سے محبت ہے ہمیں اب

اب کہاں اس کی ضرورت ہے ہمیں Read More »

تیری راہ میں رکھ کر اپنی شام کی آہٹ

غزل تیری راہ میں رکھ کر اپنی شام کی آہٹ دم بخود سی بیٹھی ہے میرے بام کی آہٹ ہاتھ کی لکیروں سے کس طرح نکالوں میں تیری یاد کے موسم، تیرے نام کی آہٹ جب یہ دل رفاقت کی کچی نیند سے جاگا ہر طرف سنائی دی اختتام کی آہٹ رات کے اترتے ہی

تیری راہ میں رکھ کر اپنی شام کی آہٹ Read More »

کوئی ایسا کمال ہو جائے

غزل کوئی ایسا کمال ہو جائے ہجر سارا وصال ہو جائے ایک اک لمحہ تیری قربت کا زندگی کا جمال ہو جائے آیتوں کی طرح خیال ترا اترے اور مجھ پہ ڈھال ہو جائے باندھ لوں خود کو دھیان سے تیرے اور بچاؤ محال ہو جائے آنکھ بیداریوں میں کھو جائے رت جگوں کی مثال

کوئی ایسا کمال ہو جائے Read More »

عذاب ہجر سے انجان تھوڑی ہوتا ہے

غزل عذاب ہجر سے انجان تھوڑی ہوتا ہے یہ دل اب اتنا بھی نادان تھوڑی ہوتا ہے یہ زندگی ہے بہت کچھ یہاں پہ ممکن ہے کہ کچھ نہ ہونے کا امکان تھوڑی ہوتا ہے یہ دل کے زخم چھپا کر جو مسکراتے ہیں تو میرے دوست یہ آسان تھوڑی ہوتا ہے کبھی کبھار تو

عذاب ہجر سے انجان تھوڑی ہوتا ہے Read More »

چچا بھتیجے تحریر یوسف ناظم

چچا بھتیجے تحریر یوسف ناظم ہمارے چچاجان اچھا کھاتے ہیں، اچھا پہنتے ہیں۔ یوں دیکھنے میں انہیں کوئی پریشانی یا کسی قسم کی تکلیف نہیں، لیکن اس کے باوجود وہ ہمیشہ رنجیدہ اور پریشان رہتے ہیں۔ ہم نے تو کبھی انہیں خوش نہیں دیکھا۔ جب دیکھو ان کامنہ پھولا ہوا ہے۔ بھویں تنی ہوئی ہیں۔

چچا بھتیجے تحریر یوسف ناظم Read More »

خدا کو بھولنا آسان ہے

غزل خدا کو بھولنا آسان ہے ہمارا مسئلہ انسان ہے بتا دو اپنے دل سے پوچھ کر مرے جینے کا کیا امکان ہے یہاں تو کرشن بھی ہیں کنس بھی ہمارا عشق ہندستان ہے ضرورت ہی نہیں ہے نام کی تری خوشبو مری پہچان ہے ادھر بھی پھینکیے خنجر کوئی ہمارے جسم میں بھی جان

خدا کو بھولنا آسان ہے Read More »

سانپ بھی بین بھی مداری بھی

غزل سانپ بھی بین بھی مداری بھی ہائے کیا بات ہے تمہاری بھی کیسے کرتے ہو یار مائک پر شاعری بھی دکان داری بھی ہم ولی تو نہیں خدا سے مگر جان پہچان ہے ہماری بھی صرف دل کا معاملہ ہی نہیں عشق ہے ایک ذمہ داری بھی ہار کر پھول تیری خوشبو سے ڈھونڈ

سانپ بھی بین بھی مداری بھی Read More »

نہیں آتے ہیں ہم اپنی سمجھ میں

غزل نہیں آتے ہیں ہم اپنی سمجھ میں تو کیسے آئیں گے سب کی سمجھ میں جسے آتا نہ ہو پانی سمجھ میں اسے کیا آئے گی مچھلی سمجھ میں میں اپنے نام کی تختی نہیں ہوں کہ جو آ جائے پڑھتے ہی سمجھ میں تمہیں چاند اور تاروں کی پڑی ہے ہمیں آتی نہیں

نہیں آتے ہیں ہم اپنی سمجھ میں Read More »