MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جاہلوں کو سلام کرنا ہے

غزل

جاہلوں کو سلام کرنا ہے
اور پھر جھوٹ موٹ ڈرنا ہے

کاش وہ راستے میں مل جائے
مجھ کو منہ پھیر کر گزرنا ہے

پوچھتی ہے صدائے بال و پر
کیا زمیں پر نہیں اترنا ہے

سوچنا کچھ نہیں ہمیں فی الحال
ان سے کوئی بھی بات کرنا ہے

بھوک سے ڈگمگا رہے ہیں پاؤں
اور بازار سے گزرنا ہے

فہمی بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم