MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کہے یہ کون مکاں اپنا لا مکاں اپنا

غزل کہے یہ کون مکاں اپنا لا مکاں اپنا ازل کے بعد سے ملتا ہے کچھ نشاں اپنا ہے کچھ تو بات کہ دعویٰ ہے اک جہاں کا یہی کہ تو ہے اپنا زمیں اپنی آسماں اپنا ہر ایک گام پہ ہر سمت ہے سجود نیاز دیار یار کو جاتا ہے کارواں اپنا نظر بھی […]

کہے یہ کون مکاں اپنا لا مکاں اپنا Read More »

آنکھوں پر آہ یاس کا پردہ سا پڑ گیا

غزل آنکھوں پر آہ یاس کا پردہ سا پڑ گیا دنیا اجڑ گئی کہ مرا دل اجڑ گیا اللہ کیسا تفرقہ مرنے سے پڑ گیا میں ایک ساتھ سارے جہاں سے بچھڑ گیا اب سوز دل کے ناز اٹھائے نہ جائیں گے آنسو جہاں گرا وہیں ناسور پڑ گیا مرنا پڑا کسے ترے ذوق گناہ

آنکھوں پر آہ یاس کا پردہ سا پڑ گیا Read More »

ازل کیا ابتدا حسن و محبت کے ترانے کی

غزل ازل کیا ابتدا حسن و محبت کے ترانے کی ابد کیا صرف اک بدلی ہوئی سرخی فسانے کی تڑپتی بجلیاں پھر خانہ‌ بربادی کے درپئے ہیں قفس کی خیر یا رب ہو چکی خیر آشیانے کی ہماری زندگی بھی ایک فرصت تھی مگر کتنی فقط رنگ تمنا کے چڑھانے یا اڑانے کی قفس اک

ازل کیا ابتدا حسن و محبت کے ترانے کی Read More »

امتحان و صبر کی حد کیوں پڑے تاخیر میں

غزل امتحان و صبر کی حد کیوں پڑے تاخیر میں جو نہ لکھوائے کوئی لکھ دے مری تقدیر میں خواب ہستی دیکھنے والے تھے کیسے بد نصیب خواب کا عالم بھی گزرا دہشت تعبیر میں حشر میں ہلچل ہوئی قاتل کو غش آنے لگے آئے وہ کچھ بے گنہ جکڑے ہوئے زنجیر میں ان نصیبوں

امتحان و صبر کی حد کیوں پڑے تاخیر میں Read More »

اف انتہائے شوق میں اب کیا کرے کوئی

غزل اف انتہائے شوق میں اب کیا کرے کوئی کہتے ہیں پہلے اپنی تمنا کرے کوئی بیداد حسن یہ ہے تو پھر کیا کرے کوئی رسوائیوں کے بعد بھی پردہ کرے کوئی تم بھی کہو تو دل کو بتا دیں اب اس کا حال اب وقت وہ نہیں ہے کہ پردہ کرے کوئی کھل جائیں

اف انتہائے شوق میں اب کیا کرے کوئی Read More »

جگر کو دیکھ کے زخم جگر کو دیکھتے ہیں

غزل جگر کو دیکھ کے زخم جگر کو دیکھتے ہیں مرے عزیز مرے چارہ گر کو دیکھتے ہیں پڑی ہے سامنے جیسے کسی عزیز کی لاش ہم اس نظر سے دل بے خبر کو دیکھتے ہیں کٹیں گی موت کے ہاتھوں یہ بیڑیاں اک دن اس ایک آس کو اور عمر بھر کو دیکھتے ہیں

جگر کو دیکھ کے زخم جگر کو دیکھتے ہیں Read More »

کیوں اے خیال یار تجھے کیا خبر نہیں

غزل کیوں اے خیال یار تجھے کیا خبر نہیں میں کیوں بتاؤں درد کدھر ہے کدھر نہیں نشتر کا کام کیا ہے اب اچھا ہے درد دل صدقے ترے نہیں نہیں اے چارہ گر نہیں کہتی ہے اہل ذوق سے بیتابیٔ خیال جس میں یہ اضطراب کی خو ہو بشر نہیں ہستی کا قافلہ سر

کیوں اے خیال یار تجھے کیا خبر نہیں Read More »

مجھ سے پہلے مری تصویر ترے ہاتھ میں ہے

غزل مجھ سے پہلے مری تصویر ترے ہاتھ میں ہے اور مرے خوابوں کی تعبیر ترے ہاتھ میں ہے دور ہرگز نہ سمجھنا مرے ہمدم مجھ کو یہ تصور نہیں تنویر تیرے ہاتھ میں ہے سوچتے رہتے ہیں ہر گام پہ یہ طرز حیات اور اثبات کی زنجیر ترے ہاتھ میں ہے کس طرح سے

مجھ سے پہلے مری تصویر ترے ہاتھ میں ہے Read More »

جانے کیا جادو الٰہی قبضۂ قاتل میں ہے

غزل جانے کیا جادو الٰہی قبضۂ قاتل میں ہے تیر اس کے ہاتھ میں ہے زخم میرے دل میں ہے جس نگاہ ناز سے تڑپا دیا تھا آپ نے آج تک محفوظ وہ منظر ہمارے دل میں ہے چارہ گر پوچھا ہے تو سن لے ٹھکانہ درد کا آنکھ میں سینے میں پہلو میں جگر

جانے کیا جادو الٰہی قبضۂ قاتل میں ہے Read More »

درد دل کا عیاں نہیں ہوتا

غزل درد دل کا عیاں نہیں ہوتا ہم سے غم کا بیاں نہیں ہوتا کیسے سمجھائیں اہل محفل کو ہر جگہ امتحاں نہیں ہوتا گزری باتوں کو یاد کرنے سے وہ فسانہ بیاں نہیں ہوتا غم زدوں کو تسلیاں دے کر کوئی جانان جاں نہیں ہوتا کہنے والے تو بات کہہ کے گئے دل سے

درد دل کا عیاں نہیں ہوتا Read More »