MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کریں ان سے شکایت اور گلہ کیا

غزل کریں ان سے شکایت اور گلہ کیا انہیں ہم کو ستانے سے ملا کیا ہمارے قصۂ غم کو سنا کر اسی غم سے کسی کا دل جلا کیا کیا بدنام ہے سارے جہاں میں تمہیں مل جائے گا اس کا صلہ کیا کبھی نظر عنایت سے نہ دیکھا سکون دل ہمیں ملتا بھلا کیا […]

کریں ان سے شکایت اور گلہ کیا Read More »

کبھی میری ہر خوشی کو مرے مہرباں نے لوٹا

غزل کبھی میری ہر خوشی کو مرے مہرباں نے لوٹا کبھی میری انجمن کو مرے پاسباں نے لوٹا کبھی بجلیاں تڑپ کے گریں میرے آشیاں پر جو بچے تھے چار تنکے انہیں رازداں نے لوٹا تھے بچا بچا کے رکھے کچھ گل رہ چمن سے مجھے ڈال کر قفس میں انہیں باغباں نے لوٹا جو

کبھی میری ہر خوشی کو مرے مہرباں نے لوٹا Read More »

دوش صبا پہ کیا کوئی پیغام آ گیا

غزل دوش صبا پہ کیا کوئی پیغام آ گیا کیا ماہتاب آج سر شام آ گیا ہر شاخ گل لچکتی ہے گلشن کی آج کل ہر پھول کی زباں پہ ترا نام آ گیا کھلتے رہے ہیں پھول ہر اک شاخ گل کے آج شاید چمن میں آج وہ گلفام آ گیا کیسی مہک ہے

دوش صبا پہ کیا کوئی پیغام آ گیا Read More »

اپنی تنہائیوں پہ روتے ہیں

غزل اپنی تنہائیوں پہ روتے ہیں زخم دل روز اپنے دھوتے ہیں یاد ماضی کو ضبط کرتے ہیں اور کبھی حال غم سموتے ہیں وہ تصور میں میرے ہیں ہر دم جو مرے پاس بھی نہ ہوتے ہیں لمحے گن گن کے دن گزرتا ہے رات بھر ہم کبھی نہ سوتے ہیں گر رہے ہیں

اپنی تنہائیوں پہ روتے ہیں Read More »

اس طرح اعتبار کرتے رہے

غزل اس طرح اعتبار کرتے رہے ساری ہستی نثار کرتے رہے دل جلایا کیے دیے کی جگہ رنج و غم آشکار کرتے رہے میری چاہت کو آزمایا کیے بے رخی اختیار کرتے رہے ہم تو عہد وفا نبھایا کیے وہ ہمیں شرمسار کرتے رہے ان سے اظہار غم گنہ ہی سہی ہم اسے بار بار

اس طرح اعتبار کرتے رہے Read More »

زندگی تیرا اعتبار نہیں

غزل زندگی تیرا اعتبار نہیں اس لیے تیرا انتظار نہیں تجھ کو مطلب نہیں زمانے سے آرزو تیری پر بہار نہیں تیری چاہت میں گم ہوئی دنیا پھر بھی تجھ کو کسی سے پیار نہیں تیرے آنے پہ شاد ہوتے ہیں جن کا جانے پر اختیار نہیں تو نے رسم وفا نہ جانی کبھی بے

زندگی تیرا اعتبار نہیں Read More »

کون ہے کس کا یہ پیغام ہے کیا عرض کروں

غزل کون ہے کس کا یہ پیغام ہے کیا عرض کروں زندگی نامۂ گمنام ہے کیا عرض کروں دے کے وہ دعوت نظارہ جہاں پھر نہ ملا یہ وہی جلوہ گہ عام ہے کیا عرض کروں زندگی اس نے بدل کر مری رکھ دی ایسی نہ مجھے چین نہ آرام ہے کیا عرض کروں حسرت

کون ہے کس کا یہ پیغام ہے کیا عرض کروں Read More »

نہ سمجھے کوئی اس سے دشمنی ہے

غزل نہ سمجھے کوئی اس سے دشمنی ہے مری اک کم سخن سے دوستی ہے سبھی کے کام آئے ابن آدم یہی دراصل حسن زندگی ہے جسے پڑھنا ہو اس میں پڑھ لے سب کچھ کھلی میری کتاب زندگی ہے مرے کس کام کا ایسا سمندر لب ساحل بھی جس کے تشنگی ہے ہو روداد

نہ سمجھے کوئی اس سے دشمنی ہے Read More »

روز وحشت ہے مرے شہر میں ویرانی کی

غزل روز وحشت ہے مرے شہر میں ویرانی کی اب کوئی بات نہیں بات پریشانی کی میرے دریا کبھی دریا بھی ہوا کرتے تھے اب بھی آواز سی آتی ہے مجھے پانی کی آئنہ خانے کے باہر وہ مجھے پوچھتے ہیں آئنہ خانے میں کیا بات تھی حیرانی کی اب غزالاں سے کہو چھپ کے

روز وحشت ہے مرے شہر میں ویرانی کی Read More »

اداس بام ہے در کاٹنے کو آتا ہے

غزل اداس بام ہے در کاٹنے کو آتا ہے ترے بغیر یہ گھر کاٹنے کو آتا ہے خیال موسم گل بھی نہیں ستم گر کو بہار میں بھی شجر کاٹنے کو آتا ہے فقیہ شہر سے انصاف کون مانگے گا فقیہ شہر تو سر کاٹنے کو آتا ہے اسی لیے تو کسانوں نے کھیت چھوڑ

اداس بام ہے در کاٹنے کو آتا ہے Read More »