MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

تو نہیں تو تیرا درد جاں فزا مل جائے گا

غزل تو نہیں تو تیرا درد جاں فزا مل جائے گا زندہ رہنے کا کوئی تو آسرا مل جائے گا اے مری چشم پشیماں اپنے آنسو روک لے رات کی تنہائی میں رونے سے کیا مل جائے گا زندگی کے کارواں پر کچھ اثر پڑتا نہیں اک مسافر کھو گیا تو دوسرا مل جائے گا […]

تو نہیں تو تیرا درد جاں فزا مل جائے گا Read More »

دشت و دریا کے یہ اس پار کہاں تک جاتی

غزل دشت و دریا کے یہ اس پار کہاں تک جاتی گھر کی دیوار تھی دیوار کہاں تک جاتی مٹ گئی حسرت دیدار بھی رفتہ رفتہ ہجر میں حسرت دیدار کہاں تک جاتی تھک گئے ہونٹ ترا نام بھی لیتے لیتے ایک ہی لفظ کی تکرار کہاں تک جاتی لاج رکھنا تھی مسیحائی کی ہم

دشت و دریا کے یہ اس پار کہاں تک جاتی Read More »

یوں ستم گر نہیں ہوتے جاناں

غزل یوں ستم گر نہیں ہوتے جاناں پھول پتھر نہیں ہوتے جاناں کیوں مرے دل سے کہیں جاتے ہو گھر سے بے گھر نہیں ہوتے جاناں وصل کی شب جو کرم تم نے کیے کیوں مکرر نہیں ہوتے جاناں ہم تمہیں بت کی طرح پوجتے ہیں پھر بھی کافر نہیں ہوتے جاناں غم کے دیپک

یوں ستم گر نہیں ہوتے جاناں Read More »

اڑے نہیں ہیں اڑائے ہوئے پرندے ہیں

غزل اڑے نہیں ہیں اڑائے ہوئے پرندے ہیں ہمیں نہ چھیڑ ستائے ہوئے پرندے ہیں قفس میں قید کرو یا ہمارے پر کاٹو تمہارے جال میں آئے ہوئے پرندے ہیں ہوا چلے گی تو بچے اڑائیں گے ان کو یہ کاغذوں سے بنائے ہوئے پرندے ہیں جمے ہوئے ہیں یہ شاخوں پہ اس طرح جیسے

اڑے نہیں ہیں اڑائے ہوئے پرندے ہیں Read More »

تیری طرح ملال مجھے بھی نہیں رہا

غزل تیری طرح ملال مجھے بھی نہیں رہا جا اب ترا خیال مجھے بھی نہیں رہا تو نے بھی موسموں کی پذیرائی چھوڑ دی اب شوق ماہ و سال مجھے بھی نہیں رہا میرا جواب کیا تھا تجھے بھی خبر نہیں یاد اب ترا سوال مجھے بھی نہیں رہا جس بات کا خیال نہ تو

تیری طرح ملال مجھے بھی نہیں رہا Read More »

سامنے سب کے نہ بولیں گے ہمارا کیا ہے

غزل سامنے سب کے نہ بولیں گے ہمارا کیا ہے چھپ کے تنہائی میں رو لیں گے ہمارا کیا ہے گلشن عشق میں ہر پھول تمہارا ہی سہی ہم کوئی خار چبھو لیں گے ہمارا کیا ہے عمر بھر کون رہے ابر کرم کا محتاج داغ دل اشکوں سے دھو لیں گے ہمارا کیا ہے

سامنے سب کے نہ بولیں گے ہمارا کیا ہے Read More »

مجھ سے بچھڑ کے وہ بھی پریشان تھا بہت

غزل مجھ سے بچھڑ کے وہ بھی پریشان تھا بہت جس کی نظر میں کام یہ آسان تھا بہت سوچا تو بے خلوص تھیں سب اس کی قربتیں جس کے بغیر گھر مرا ویران تھا بہت بے خواب سرخ آنکھوں نے سب کچھ بتا دیا کل رات دل میں درد کا طوفان تھا بہت یہ

مجھ سے بچھڑ کے وہ بھی پریشان تھا بہت Read More »

بلبل

بلبل میں ہوں چہکنے والی بلبل میرے لیے ہی کھلتے ہیں گل گیت سناتی ہوں پھولوں کو گلے لگاتی ہوں پھولوں کو آواز ایسی سریلی پائی میری بولی سب کو بھائی دم پھولوں کا بھرتی ہوں میں پھولوں پر ہی مرتی ہوں میں میرے لے ہر اک کو بھائی خوش ہے مجھ سے ساری خدائی

بلبل Read More »

گھوڑا

گھوڑا تم نے دیکھا ہوگا گھوڑا کیا سینا اس کا ہے چوڑا شکل ہے پیاری وہ ہے بانکا کاٹھی اچھی رنگ بھی اچھا بال اس کی دم اور گردن کے کیا ہیں ملائم اور چمکیلے گول قدم ہیں ٹانگیں پتلی رانیں طاقت ور اور چپٹی نعل اگر ہوں سم نہیں گھستے دوڑتے ہیں آرام سے

گھوڑا Read More »

سچائی

سچائی آؤ بچو سامنے بیٹھو قصہ ایک سناؤں تم کو جنگل میں اک بھوک کا مارا لکڑی لانے گیا بیچارہ جنگل میں تھی ندی گہری گر گئی بے چارے کی کلہاڑی کیا کروں دل میں سوچ رہا تھا اتنے میں اک آدمی آیا کہنے لگا کیوں تم ہو فسردہ کچھ تو بتاؤ کیا ہے صدمہ

سچائی Read More »