MOJ E SUKHAN

کبھی میری ہر خوشی کو مرے مہرباں نے لوٹا

غزل

کبھی میری ہر خوشی کو مرے مہرباں نے لوٹا
کبھی میری انجمن کو مرے پاسباں نے لوٹا

کبھی بجلیاں تڑپ کے گریں میرے آشیاں پر
جو بچے تھے چار تنکے انہیں رازداں نے لوٹا

تھے بچا بچا کے رکھے کچھ گل رہ چمن سے
مجھے ڈال کر قفس میں انہیں باغباں نے لوٹا

جو بہار بن کے آئے وہ غبار بن کے بھٹکے
کبھی تو صبا نے چھیڑا کبھی ہے خزاں نے لوٹا

مری پائے جستجو کو مری خوئے آرزو کو
مرے راستے میں آ کر نئے امتحاں نے لوٹا

نہ ملا سکون آخر جو جہان رنگ و بو میں
نہ مجھے کسی نے جانا مجھے ہے جہاں نے لوٹا

نہیں ہے گلہ کسی سے نہ اداؔ کوئی شکایت
مجھے ضبط غم نے روکا غم ناگہاں نے لوٹا

بیگم سلطانہ ذاکر ادا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم