غزل
کبھی میری ہر خوشی کو مرے مہرباں نے لوٹا
کبھی میری انجمن کو مرے پاسباں نے لوٹا
کبھی بجلیاں تڑپ کے گریں میرے آشیاں پر
جو بچے تھے چار تنکے انہیں رازداں نے لوٹا
تھے بچا بچا کے رکھے کچھ گل رہ چمن سے
مجھے ڈال کر قفس میں انہیں باغباں نے لوٹا
جو بہار بن کے آئے وہ غبار بن کے بھٹکے
کبھی تو صبا نے چھیڑا کبھی ہے خزاں نے لوٹا
مری پائے جستجو کو مری خوئے آرزو کو
مرے راستے میں آ کر نئے امتحاں نے لوٹا
نہ ملا سکون آخر جو جہان رنگ و بو میں
نہ مجھے کسی نے جانا مجھے ہے جہاں نے لوٹا
نہیں ہے گلہ کسی سے نہ اداؔ کوئی شکایت
مجھے ضبط غم نے روکا غم ناگہاں نے لوٹا
بیگم سلطانہ ذاکر ادا