MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

خیال آبرو

خیال آبرو اب کیا خیال آبرو بھیڑ میں آن بیٹھے اب کیا سوال دید اور کیسا حجاب بس جناب جاتی ہوا سے کس لیے سر کی ردا بچایئے دیکھیے مسکرائی ہے ایک نگاہ اشتیاق ہوش میں آئیے حضور آپ بھی مسکرائیے دیکھ کے یاں برہنہ سر کون ہے جو ملول ہو حیف ہے اب بھی […]

خیال آبرو Read More »

نصف شب

نصف شب تیس سال زندگی کی نصف شب نصف شب جس سے وابستہ ہے خوابوں کی نمود خواب جن کی کوکھ میں سانس لیتے اور بھی کچھ خوابچے محفوظ ہیں اپنے ہونے کی خبر دیتے ہوئے درد کی مہمیز کر دیتے ہوئے نو شگفتہ خوابچے کچھ جاں بہ لب خواب و خیال تیس سال زندگی

نصف شب Read More »

تنہائی کی ایک نظم

تنہائی کی ایک نظم بہت چھوٹی سی اک تقریب رکھی ہے یہ دنیا ہے لہٰذا حسب خواہش کچھ یہاں ہو کر نہیں دیتا سو یہ تقریب جانے ہو نہ ہو پر تم ضرور آنا تم آنا آرزو کی بات ہوگی زندگی پر تبصرے ہوں گے وہاں رکنا جہاں پھولوں کی سنگت میں روش پر دل

تنہائی کی ایک نظم Read More »

تاک تازہ پر ادائے تازہ تر رکھ دیجیے

غزل تاک تازہ پر ادائے تازہ تر رکھ دیجیے کچھ نہ کچھ بخشش صبا کے ہاتھ پر رکھ دیجیے دیجیے مت گفتگو کی راہ اس بے راہ کو ان کہی کی تیغ عریاں پر سپر رکھ دیجیے کانپنے لگتا ہے اس لاچار کا نیلا بدن شب کے زانو پر اگر گھبرا کے سر رکھ دیجیے

تاک تازہ پر ادائے تازہ تر رکھ دیجیے Read More »

کبھی تو دست ہمہ گیر میں سبو ہو جائے

غزل کبھی تو دست ہمہ گیر میں سبو ہو جائے یہ خاک بھی کبھی آسودۂ نمو ہو جائے بیاض دل پہ ترا نقش آشکارا ہو پھر اس کے بعد تری دید کو بہ کو ہو جائے نہیں کہ رنگ حنا میرے ہاتھ پر نہ کھلا ہتھیلیوں کو یہ ضد تھی کہ دل لہو ہو جائے

کبھی تو دست ہمہ گیر میں سبو ہو جائے Read More »

اک دیے کی لو کف صد آئینہ چمکا گئی

غزل اک دیے کی لو کف صد آئینہ چمکا گئی روشنی کی اک کرن مہتاب کو شرما گئی ہاتھ ملتا دن کسی امید پر منتج ہوا خستگی بڑھتی ہوئی دیوار شب تک آ گئی اشک شوئی کے لیے تیری حمایت چاہئے دیکھ تیری ہم سبوئی میں یہ نوبت آ گئی عذر خواہانہ نگاہیں حرف چنتی

اک دیے کی لو کف صد آئینہ چمکا گئی Read More »

رابطہ بن نہیں رہا راستہ بن نہیں رہا

غزل رابطہ بن نہیں رہا راستہ بن نہیں رہا بھیڑ کے ساتھ ہوں مگر قافلہ بن نہیں رہا ناقۂ جاں کو روکئے دور تلک سراب ہے اور یہ دل کہ اب تلک پیشوا بن نہیں رہا زاد سفر نہ پوچھیے زاد سفر کے نام پر بے نمو ایک زخم ہے آبلہ بن نہیں رہا اتنا

رابطہ بن نہیں رہا راستہ بن نہیں رہا Read More »

کوئی ملال اب بھی آشکار ہو تو معذرت

غزل کوئی ملال اب بھی آشکار ہو تو معذرت نگاہ آپ سے گلہ گزار ہو تو معذرت سر مژہ عجب عجب چراغ جل اٹھیں اگر نواح چشم جشن نو بہار ہو تو معذرت یہ نخل بے نمو جو برگ و بار لا نہیں سکا بہ فیض دست غیر شاخسار ہو تو معذرت شکستگی کے بعد

کوئی ملال اب بھی آشکار ہو تو معذرت Read More »

سحاب سبز نہ طاؤس نیلمیں لایا

غزل سحاب سبز نہ طاؤس نیلمیں لایا وہ شخص لوٹ کے اک اور سر زمیں لایا عطا اسی کی ہے یہ شہد و شور کی توفیق وہی گلیم میں یہ نان بے جویں لایا اسی کی چاپ ہے اکھڑے ہوئے کھڑنجے پر وہ خشت و خواب کو بیرون ازمگیں لایا وہ پیش برش شمشیر بھی

سحاب سبز نہ طاؤس نیلمیں لایا Read More »

کچھ اور رنگ میں ترتیب خشک و تر کرتا

غزل کچھ اور رنگ میں ترتیب خشک و تر کرتا زمیں بچھا کے ہوا اوڑھ کے بسر کرتا گل و شگفت کو آپس میں دسترس دیتا اور آئنے کے لیے آئنہ سپر کرتا چراغ کہنہ ہٹاتا فصیل مردہ سے گیاہ خام پہ شبنم دبیز تر کرتا وہ نیم نان خنک آب اور سگ ہم نام

کچھ اور رنگ میں ترتیب خشک و تر کرتا Read More »