MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

وہ کرتے عذر تو یہ اور بھی گراں ہوتا

غزل زمیں ہوتی نہیں اور نہ آسماں ہوتا مرے بغیر یہ سونا بھرا جہاں ہوتا ہمی نے ان کی طرف سے منا لیا دل کو وہ کرتے عذر تو یہ اور بھی گراں ہوتا سمجھ تو یہ کہ نہ سمجھے خود اپنا رنگ جنوں مزاج یہ کہ زمانہ مزاج داں ہوتا بھری بہار کے دن […]

وہ کرتے عذر تو یہ اور بھی گراں ہوتا Read More »

حسن کی فطرت میں دل آزاریاں

غزل حسن کی فطرت میں دل آزاریاں اس پہ ظالم نت نئی تیاریاں متصل طفلی سے آغاز شباب خواب کے آغوش میں بیداریاں سوچ کر ان کی گلی میں جائے کون بے ارادہ ہوتی ہیں تیاریاں درد دل اور جان لیوا پرسشیں ایک بیماری کی سو بیماریاں اور دیوانے کو دیوانہ بناؤ اللہ اللہ اتنی

حسن کی فطرت میں دل آزاریاں Read More »

اللہ نظر کوئی ٹھکانہ نہیں آتا

غزل اللہ نظر کوئی ٹھکانہ نہیں آتا آنے کو چلے آتے ہیں جانا نہیں آتا کہہ دوں تو مزے پر یہ فسانہ نہیں آتا ٹھہروں تو پلٹ کر یہ زمانہ نہیں آتا یوں روز ہوا کرتے تھے بے ساختہ چکر اب آج بلایا ہے تو جانا نہیں آتا تدبیر سی تدبیر دعاؤں سی دعائیں سب

اللہ نظر کوئی ٹھکانہ نہیں آتا Read More »

جو چاہتے ہو سو کہتے ہو چپ رہنے کی لذت کیا جانو

غزل جو چاہتے ہو سو کہتے ہو چپ رہنے کی لذت کیا جانو یہ راز محبت ہے پیارے تم راز محبت کیا جانو الفاظ کہاں سے لاؤں چھالے کی ٹپک کو سمجھاؤں اظہار محبت کرتے ہو احساس محبت کیا جانو کیا حسن کی بھیک بھی ہوتی ہے جب چٹکی چٹکی جڑتی ہے ہم اہل غرض

جو چاہتے ہو سو کہتے ہو چپ رہنے کی لذت کیا جانو Read More »

کتنے خیال رات کی پلکوں میں آئے تھے

غزل کتنے خیال رات کی پلکوں میں آئے تھے کرنوں نے سب چراغ سویرے بجھائے تھے چلنا پڑا ہوا کو بھی دامن سنبھال کر پھولوں کے ساتھ راہ میں کانٹے بچھائے تھے پانی بچا کے رکھ لیا ویرانیوں کے بیچ کس نے ہزاروں کوس سے پنچھی بلائے تھے سرسبز وہ ہی پیڑ ہوا موڑ کی

کتنے خیال رات کی پلکوں میں آئے تھے Read More »

سلونی شام کے آنگن میں جب دو وقت ملتے ہیں

غزل سلونی شام کے آنگن میں جب دو وقت ملتے ہیں بھٹکتے ہم سے ان سایوں میں کچھ آدھے ادھورے ہیں سمندر ہے ہمارے سامنے مغرور و خود سر سا ہمیں اک پل بنا کر فاصلے سب پار کرنے ہیں اندھیروں سے اجالوں تک اجالوں سے اندھیروں تک سدا گردش ہی گردش ہے کہاں جانے

سلونی شام کے آنگن میں جب دو وقت ملتے ہیں Read More »

آیا کبھی خیال تو دل سے لپٹ گیا

غزل آیا کبھی خیال تو دل سے لپٹ گیا کیسے سما کے پھر کوئی جیون سے ہٹ گیا پروا چلی تھی گانٹھ کو آنچل سے باندھنے دامن گھٹا کا ہاتھ میں آتے ہی پھٹ گیا بیٹھے ہیں شام اوڑھ کے تنہائیوں میں ہم اک ہنس اپنی ڈار سے جیسے ہو کٹ گیا بدلا نگر نے

آیا کبھی خیال تو دل سے لپٹ گیا Read More »

نظر آیا نہ کوئی بھی ادھر دیکھا ادھر دیکھا

غزل نظر آیا نہ کوئی بھی ادھر دیکھا ادھر دیکھا وہاں پہنچے تو اپنے آپ کو بھی بے نظر دیکھا یہ دھوکا تھا نظر کا یا فرشتہ سبز چادر میں کہیں صحرا میں لہراتا ہوا اس نے شجر دیکھا کہیں پہ جسم اور پہچان دونوں راہ میں چھوڑے خود اپنے آپ کو ہم نے نہ

نظر آیا نہ کوئی بھی ادھر دیکھا ادھر دیکھا Read More »

آگ کے پھول پہ شبنم کے نشاں ڈھونڈو گے

غزل آگ کے پھول پہ شبنم کے نشاں ڈھونڈو گے تم حقیقت کے لیے وہم و گماں ڈھونڈو گے کون سی آس میں یہ سارا جہاں ڈھونڈو گے ایک آوارہ سی خوشبو کو کہاں ڈھونڈو گے ساتھ کچھ روز کا ہے راستہ چلتے لوگو ہم چلے جائیں گے قدموں کے نشاں ڈھونڈو گے تیر ترکش

آگ کے پھول پہ شبنم کے نشاں ڈھونڈو گے Read More »

رات دن چلتا ہے چرچا کیا کہیں

غزل رات دن چلتا ہے چرچا کیا کہیں دیکھتے ہیں سب تماشا کیا کہیں سخت پھندا ہے ہزاروں سال کا کس نے بن گانٹھوں کے باندھا کیا کہیں جگنوؤں کا جھنڈ من میں آ بسا ہے اجالا یا اندھیرا کیا کہیں لینے دینے سے ہوئے کتنے وہ خوش کھا گئے دونوں ہی دھوکا کیا کہیں

رات دن چلتا ہے چرچا کیا کہیں Read More »