وہ کرتے عذر تو یہ اور بھی گراں ہوتا
غزل زمیں ہوتی نہیں اور نہ آسماں ہوتا مرے بغیر یہ سونا بھرا جہاں ہوتا ہمی نے ان کی طرف سے منا لیا دل کو وہ کرتے عذر تو یہ اور بھی گراں ہوتا سمجھ تو یہ کہ نہ سمجھے خود اپنا رنگ جنوں مزاج یہ کہ زمانہ مزاج داں ہوتا بھری بہار کے دن […]
وہ کرتے عذر تو یہ اور بھی گراں ہوتا Read More »