MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

زندگی کتنی خوش گوار ہے آج

غزل زندگی کتنی خوش گوار ہے آج ہر طرف موسم بہار ہے آج نگہ شوق کو قرار ہے آج جلوۂ حسن آشکار ہے آج دل کا ہر زخم آج روشن ہے کتنا پر سوز انتظار ہے آج ان کی تصویر بات کرتی ہے ہجر کی شب بھی سازگار ہے آج کیفیت دل کی پوچھتے ہو […]

زندگی کتنی خوش گوار ہے آج Read More »

وہ ناز محبت دکھانا کسی کا

غزل وہ ناز محبت دکھانا کسی کا منانا مرا روٹھ جانا کسی کا ستم پر ستم روز ڈھانا کسی کا مجھے سو طرح آزمانا کسی کا وہ رسوا ہوا کوچۂ عاشقی میں جو کہنا کسی نے نہ مانا کسی کا جو ہم پر بھی گرتی وہ برق تجلی تو ہم بھی سناتے فسانہ کسی کا

وہ ناز محبت دکھانا کسی کا Read More »

مقدر آزمانا چاہتا ہوں

غزل مقدر آزمانا چاہتا ہوں تمہارا آستانا چاہتا ہوں شب فرقت مسلسل آنسوؤں سے لگی دل کی بجھانا چاہتا ہوں خدا جانے وہ کس کا آستاں ہے جہاں میں سر جھکانا چاہتا ہوں مجھے بخشا ہے جس نے غم اسی کو شریک غم بنانا چاہتا ہوں تری مخمور آنکھوں کے تصدق یہیں اب ڈوب جانا

مقدر آزمانا چاہتا ہوں Read More »

تری سوکھے ہوئے ہونٹوں پہ آ جانے سے کیا ہوگا

غزل تری سوکھے ہوئے ہونٹوں پہ آ جانے سے کیا ہوگا بہت ترسے ہیں ساقی ایک پیمانے سے کیا ہوگا جو آنکھیں دیکھتی رہتی ہیں جھٹلانے سے کیا ہوگا نظر تڑپا رہی ہے دل کو بہلانے سے کیا ہوگا نشیمن کی بنا رکھی ہے کچھ تو سوچ کر ہم نے چما چم بجلیاں ہر سو

تری سوکھے ہوئے ہونٹوں پہ آ جانے سے کیا ہوگا Read More »

رات گزری پھر اندھیرا چھا گیا

غزل رات گزری پھر اندھیرا چھا گیا اپنا سورج دن چڑھے گہنا گیا ہم نہ جانے کون عالم میں رہے وقت کاٹا جی نہ بہلایا گیا بس یہی تھا ان کو پتھر دل پہ ناز ظلم فرمائیں ترس کیوں آ گیا معرکہ آرا ہوئے تھے حسن و عشق بیچ میں دل آ گیا مارا گیا

رات گزری پھر اندھیرا چھا گیا Read More »

اک چاہ کی نگاہ کا افسانہ بن گیا

غزل اک چاہ کی نگاہ کا افسانہ بن گیا وہ انگلیاں اٹھیں کہ میں دیوانہ بن گیا اپنے ہی دل کی بات ہے اپنے کئے کی لاج کعبہ بنا رہا تھا میں بت خانہ بن گیا اللہ رے بزم ناز تری ناشناسیاں جس کو کیا سلام وہ بیگانہ بن گیا چپکے سے ان کا نام

اک چاہ کی نگاہ کا افسانہ بن گیا Read More »

اب ہم کو کسی سے کوئی شکوہ نہ رہے گا

غزل اب ہم کو کسی سے کوئی شکوہ نہ رہے گا جب تم نہ رہے کوئی ہمارا نہ رہے گا دنیا میں رہے سلسلۂ حسن مجھے کیا اے وقت مرا عہد تمنا نہ رہے گا شاید کوئی حد سیل تمنا کی ہو لیکن دھارا تو یہ کہتا ہے کنارا نہ رہے گا بیٹھے تھے گھنی

اب ہم کو کسی سے کوئی شکوہ نہ رہے گا Read More »

تم کو تو کبھی دل سے بلانا نہیں آتا

غزل تم کو تو کبھی دل سے بلانا نہیں آتا ہم آ کے جو بیٹھے ہیں تو جانا نہیں آتا کہہ دوں تو مزے پر یہ فسانہ نہیں آتا ٹھہروں تو پلٹ کر یہ زمانہ نہیں آتا کاہے کو یہ پھر ہوش میں لانے کے ٹھہوکے جاؤ تمہیں دیوانہ بنانا نہیں آتا آتی ہے بہار

تم کو تو کبھی دل سے بلانا نہیں آتا Read More »

قسمت میں خوشی جتنی تھی ہوئی اور غم بھی ہے جتنا ہونا ہے

غزل قسمت میں خوشی جتنی تھی ہوئی اور غم بھی ہے جتنا ہونا ہے گھر پھونک تماشا دیکھ چکے اب جنگل جنگل رونا ہے ہستی کے بھیانک نظارے ساتھ اپنے چلے ہیں دنیا سے یہ خواب پریشاں اور ہم کو تا صبح قیامت سونا ہے دم ہے کہ ہے اکھڑا اکھڑا سا اور وہ بھی

قسمت میں خوشی جتنی تھی ہوئی اور غم بھی ہے جتنا ہونا ہے Read More »

آج یوں دل نے ان کا نام لیا

غزل آج یوں دل نے ان کا نام لیا جیسے گرتے ہوئے کو تھام لیا ہم نے بے انتہا وفا کر کے بے وفاؤں سے انتقام لیا مجھ کو کہنا تھا تم سے کیا کیا کچھ تم نے بھی کس نظر سے کام لیا بات پوری نہ کر سکے ان سے جب لیا عہد ناتمام

آج یوں دل نے ان کا نام لیا Read More »