MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہر پرندے کی بات سنتا ہے

غزل ہر پرندے کی بات سنتا ہے بے زباں پیڑ سب سے اچھا ہے جس قدر ہم نے بھید سمجھا ہے کوئی منزل نہ کوئی رستہ ہے ان اندھیروں کو کس لئے کوسیں روشنی بن کے پھول کھلتا ہے چلنے والا نکل گیا آگے قافلہ راستے میں ٹھہرا ہے جس کی خاطر ہیں جاگتے رہے […]

ہر پرندے کی بات سنتا ہے Read More »

سن رہے ہیں کوئی تارہ سیر کرتا آئے گا

غزل سن رہے ہیں کوئی تارہ سیر کرتا آئے گا جانے کیا پیغام دھرتی کے لئے وہ لائے گا پھول اک دن خواہشوں کا دھوپ میں کمہلائے گا پتیاں بکھریں گی اس کی بیج ہی رہ جائے گا بانٹ کر آئے گا سب کچھ شہر کے بازار میں ہر مہینے خالی جیبیں گھر کو وہ

سن رہے ہیں کوئی تارہ سیر کرتا آئے گا Read More »

اندھیرے میں بلا سی

غزل اندھیرے میں بلا سی اداسی ہی اداسی کسی کے تن کی خوشبو پھرے اڑتی ہوا سی محبت کو زباں دی خموشی کی دعا سی وہی انساں درندہ مگر صورت جدا سی یہ بے قابو طبیعت لگے پیاری خطا سی چڑھی امڑی جوانی نئی رت کی گھٹا سی کھلی خواہش کی کونپل بہت کمسن ذرا

اندھیرے میں بلا سی Read More »

کاجل بھرا ہے نین میں اور منہ میں پان بھی

غزل کاجل بھرا ہے نین میں اور منہ میں پان بھی ملتا نہیں ہے روپ کا لیکن نشان بھی اب کیا کہیں وہ جھانکنے والے نہیں رہے نٹکھٹ گلی وہی ہے اور بانکا مکان بھی دل کی پرانی بانسری لے کر کہیں چلیں ترکش کے ساتھ توڑ دیں تیر و کمان بھی اس تنگ دل

کاجل بھرا ہے نین میں اور منہ میں پان بھی Read More »

شہرِ بصارت میں نابینا پن (نسیم شیخ کی شاعری اور تقاضا ہائے زبان و بیان) تحریر دامن انصاری

شہرِ بصارت میں نابینا پن (نسیم شیخ کی شاعری اور تقاضا ہائے زبان و بیان) تحریر دامن انصاری نازِ آفرین ادب کم کوش ھی نہیں تضحیک آمیز بھی ھے – اندیشہء فکر کا ہیولہ دل ریز ھی نہیں بلا خیز بھی ھے – ماوراءے ادراک ہیں سب افکار کہ نشیب و فرازِ تعمیرِ ہست و

شہرِ بصارت میں نابینا پن (نسیم شیخ کی شاعری اور تقاضا ہائے زبان و بیان) تحریر دامن انصاری Read More »

تو مرے عکس تصور سے جدا لگتا نہیں

غزل تو مرے عکس تصور سے جدا لگتا نہیں فاصلہ جو درمیاں ہے فاصلہ لگتا نہیں کالی راتیں دیکھ لوں تو خوف آتا ہے مجھے خواب کیا پھر نیند سے بھی رابطہ لگتا نہیں آئنے نے مجھ سے پوچھا تو بتا یہ کون ہے میں نے دیکھا اور کہا کچھ بھی پتہ لگتا نہیں کیا

تو مرے عکس تصور سے جدا لگتا نہیں Read More »

ہجوم یاس نے گھیرا تو کیسے مسکراؤ گے

غزل ہجوم یاس نے گھیرا تو کیسے مسکراؤ گے جو ابر اشک آ برسا کہاں اس کو چھپاؤ گے مری باتیں مری چاہت مری سرگوشیاں جاناں چلے گی جب ہوا تھم تھم تو آہٹ میری پاؤ گے یہ جگنو اور ستارے چاندنی راتیں سبھی ہوں گے یہ سب موسم ہمارے ہیں ہمیں کیونکر بھلاؤ گے

ہجوم یاس نے گھیرا تو کیسے مسکراؤ گے Read More »

امید کا دامن تو مرا چاک نہ کرنا

غزل امید کا دامن تو مرا چاک نہ کرنا یوں مجھ پہ ستم اے دل سفاک نہ کرنا تاریکئ شب ہے مرا پہلے سے مقدر اور تم بھی اندھیرے مری املاک نہ کرنا یہ زخم انا کافی ہے اے یوسف دوراں اب چشم زلیخا کو تو نمناک نہ کرنا جب نیندیں بچھڑ جائیں تو آ

امید کا دامن تو مرا چاک نہ کرنا Read More »

لاکھ چاہا رک نہ پایا خواہشوں کا سلسلہ

غزل لاکھ چاہا رک نہ پایا خواہشوں کا سلسلہ ناتواں دل نے اٹھایا آنسوؤں کا سلسلہ کیسے خواہش میں کروں پرواز کی تو ہی بتا دل میں گھٹ کر رہ گیا جب حسرتوں کا سلسلہ گھر سے گھر کو یوں ملانا کام تو آساں نہ تھا اپنے ہاتھوں سے بڑھایا نفرتوں کا سلسلہ تجھ کو

لاکھ چاہا رک نہ پایا خواہشوں کا سلسلہ Read More »

بند آنکھوں کی جب کھڑکیاں کھل گئیں

غزل بند آنکھوں کی جب کھڑکیاں کھل گئیں ہو گئی شاعری کاپیاں کھل گئیں ساحل دل پہ ارماں کی کشتی چلی یوں تلاطم اٹھا رسیاں کھل گئیں شعر و نغمے کی محفل جہاں بھی سجی موسم حبس کی مٹھیاں کھل گئیں آنکھ میچے ہی پہچانا میں نے تجھے پھر گلابوں سی دو پتیاں کھل گئیں

بند آنکھوں کی جب کھڑکیاں کھل گئیں Read More »