MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

بساط رنگ و بو آتش فشاں معلوم ہوتی ہے

غزل بساط رنگ و بو آتش فشاں معلوم ہوتی ہے رگ گل میں نہاں برق تپاں معلوم ہوتی ہے تمنا ہی سے قائم ہے وقار‌ نوجوانی بھی تمنا گرچہ جنس رائیگاں معلوم ہوتی ہے کنارہ ہے کوئی اس کا نہ اس کا کوئی ساحل ہے محبت ایک بحر بیکراں معلوم ہوتی ہے گذشتہ وارداتوں پر […]

بساط رنگ و بو آتش فشاں معلوم ہوتی ہے Read More »

خطا انجام ہو کر رہ گیا ہے

غزل خطا انجام ہو کر رہ گیا ہے بشر ناکام ہو کر رہ گیا ہے ترا ملنا بقید زندگانی خیال خام ہو کر رہ گیا ہے فریب اعتبار‌ سعیٔ پیہم مرا انجام ہو کر رہ گیا ہے ہر اک عنواں بیاض آرزو کا ترا پیغام ہو کر رہ گیا ہے دل ناکام کا ہر داغ

خطا انجام ہو کر رہ گیا ہے Read More »

اعتبار آرزو کا کر و فر جاتا رہا

غزل اعتبار آرزو کا کر و فر جاتا رہا دل سے عرفان محبت کا اثر جاتا رہا شمع سوز غم کا قصہ رات بھر کہتی رہی دے کے پروانہ پیام مختصر جاتا رہا عہد رفتہ کو نہ دیکھا لوٹ کر آتے ہوئے اعتبار گردش شام و سحر جاتا رہا ہو سکے گا پھر نہ صیقل

اعتبار آرزو کا کر و فر جاتا رہا Read More »

مری جدائی میں آنسو بہائے جاتے ہیں

غزل مری جدائی میں آنسو بہائے جاتے ہیں یہ فتنہ میری لحد پر جگائے جاتے ہیں ضیائے حسن کو درگاہ دل ترستی ہے چراغ دیر و حرم میں جلائے جاتے ہیں نہیں ستاتے کسی کو بھی جو زمانے میں وہی زمانے میں اکثر ستائے جاتے ہیں ضیائے حسن سے ہوتا ہے جن کا دل معمور

مری جدائی میں آنسو بہائے جاتے ہیں Read More »

نقاب بزم تصور اٹھائی جاتی ہے

غزل نقاب بزم تصور اٹھائی جاتی ہے شکست خوردوں کی ہمت بڑھائی جاتی ہے بھٹکنے لگتا ہے راہ وفا سے جب عالم حدیث عشق ہماری سنائی جاتی ہے متاع ہوش و خرد بے بہا سہی لیکن در حبیب پہ یہ بھی لٹائی جاتی ہے نظر سے ہوتی ہے لطف و کرم کی بارش بھی نظر

نقاب بزم تصور اٹھائی جاتی ہے Read More »

رہ حیات میں وہ بھی مقام آئے گا

غزل رہ حیات میں وہ بھی مقام آئے گا یگانہ کام نہ بیگانہ کام آئے گا سرور بادۂ رنج و غم حیات کبھی نہ کام آیا کسی کے نہ کام آئے گا ہماری زندگیٔ مختصر کا سرمایہ ہمارے بعد زمانے کے کام آئے گا بدل چکی ہے فضا اب نظام عالم کی نہ کام دانہ

رہ حیات میں وہ بھی مقام آئے گا Read More »

درد جب دل میں سما جاتا ہے

غزل درد جب دل میں سما جاتا ہے لذت‌ زیست بڑھا جاتا ہے خون معصوم سے دیواروں پر غم کا افسانہ لکھا جاتا ہے اب تو ہر جذبۂ بیباک کا بھی حوصلہ پست ہوا جاتا ہے جانے کیوں مجھ کو حیا آتی ہے وار جب ان کا خطا جاتا ہے غم ایام کا ہر اک

درد جب دل میں سما جاتا ہے Read More »

خواب میں بھی نہ کبھی ان سے ملاقات ہوئی

غزل خواب میں بھی نہ کبھی ان سے ملاقات ہوئی ہمیں حاصل نہ کبھی وجہ مباہات ہوئی فکر فردا ہے کبھی رنج و غم دوش کبھی کس قدر روح بشر مورد آفات ہوئی خستہ حالی پہ مری ان کو بھی رونا آیا بعد مدت مرے ویرانے میں برسات ہوئی وجہ آشوب تمنا ہوا فکر جنت

خواب میں بھی نہ کبھی ان سے ملاقات ہوئی Read More »

جبیں نواز کسی کی فسوں گری کیوں ہے

غزل جبیں نواز کسی کی فسوں گری کیوں ہے سرشت حسن میں اس درجہ دل کشی کیوں ہے کسی کی سادہ جبیں کیوں بنی ہے سحر طراز کسی کی بات میں اعجاز عیسوی کیوں ہے کسی کی زلف معنبر میں کیوں ہے گیرائی فدائے گیسوئے مشکیں یہ زندگی کیوں ہے ترے شعار تغافل پہ زندگی

جبیں نواز کسی کی فسوں گری کیوں ہے Read More »

جو درد میں راحت پا نہ سکے الفت کی حقیقت کیا جانے

غزل جو درد میں راحت پا نہ سکے الفت کی حقیقت کیا جانے پروانہ صفت جو جل نہ سکے سرشاریٔ الفت کیا جانے ہر وقت ہے کوئی پیش نظر یکساں ہے کسی کی شام و سحر محرومیٔ قربت کے صدمے ناکام محبت کیا جانے شکوہ بھی کریں تو کس سے کریں معصوم نظر معصوم ادا

جو درد میں راحت پا نہ سکے الفت کی حقیقت کیا جانے Read More »