MOJ E SUKHAN

رہ حیات میں وہ بھی مقام آئے گا

غزل

رہ حیات میں وہ بھی مقام آئے گا
یگانہ کام نہ بیگانہ کام آئے گا

سرور بادۂ رنج و غم حیات کبھی
نہ کام آیا کسی کے نہ کام آئے گا

ہماری زندگیٔ مختصر کا سرمایہ
ہمارے بعد زمانے کے کام آئے گا

بدل چکی ہے فضا اب نظام عالم کی
نہ کام دانہ کسی کے نہ دام آئے گا

یقیں ہے تشنہ لبوں کو کہ ان کی محفل میں
وہ جب بھی آئے گا بادہ بہ جام آئے گا

وہ جس کی یاد ستاتی ہے رات دن فارغؔ
نہ قبل صبح نہ وہ بعد شام آئے گا

لکشمی نارائن فارغ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم