MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

نہ بیتابی نہ آشفتہ سری ہے

غزل نہ بیتابی نہ آشفتہ سری ہے ہماری زندگی کیا زندگی ہے فریب آرزو کھائیں تو کیوں کر تغافل ہے نہ بیگانہ وشی ہے فروغ عشق ہے محرومیوں سے وفا کیشی بہ قدر نا رسی ہے مرے قصر تمنا کی نگہباں نگاہ ناز کی بیگانگی ہے محبت کے سوا جادہ نہ منزل محبت کے سوا […]

نہ بیتابی نہ آشفتہ سری ہے Read More »

جب کبھی اس کی یاد آئی ہے

غزل جب کبھی اس کی یاد آئی ہے سو بہاریں جلو میں لائی ہے ہو نہ ہو اس کی یاد آئی ہے عمر رفتہ کو ساتھ لائی ہے بادۂ عشق کا سرور نہ پوچھ اس نے پی کر مجھے پلائی ہے کاش مل جائے پھر گنوانے کو زندگی ہم نے جو گنوائی ہے مجھ کو

جب کبھی اس کی یاد آئی ہے Read More »

ان نگاہوں کو عجب طرز کلام آتا ہے

غزل ان نگاہوں کو عجب طرز کلام آتا ہے ایسا لگتا ہے بہاروں کا پیام آتا ہے مرحلہ ہوتا ہے جب دار و رسن کا درپیش قرعۂ فال ہم ایسوں ہی کے نام آتا ہے اے مرے ناصح مشفق کبھی یہ بھی سوچا کون دنیا میں خوشی سے تہہ دام آتا ہے بادہ نوشی میں

ان نگاہوں کو عجب طرز کلام آتا ہے Read More »

دل ہے تو مگر دل میں وہ جذبات نہیں اب

غزل دل ہے تو مگر دل میں وہ جذبات نہیں اب اک ساز ہے جو حامل نغمات نہیں اب وہ سلسلۂ حرف و حکایات نہیں اب ملتے ہیں مگر لطف ملاقات نہیں اب در پردہ اشارات و کنایات نہیں اب یعنی نظر افروز حجابات نہیں اب ملنے کو تو ملتی ہیں نگاہوں سے نگاہیں وہ

دل ہے تو مگر دل میں وہ جذبات نہیں اب Read More »

اور اے چشم طرب بادۂ گلفام ابھی

غزل اور اے چشم طرب بادۂ گلفام ابھی دل ہے بیگانۂ اندیشۂ انجام ابھی بادہ و ساقی و مطرب کا نہ لو نام ابھی گرد آلود ہے آئینۂ ایام ابھی دل ہے مجروح پر و بال شکستہ ہمدم دام سے چھوٹ کے بھی ہوں میں تہہ دام ابھی معنی و مقصد ہستی کا سمجھنا معلوم

اور اے چشم طرب بادۂ گلفام ابھی Read More »

فیض پہنچے ہیں جو بہاروں سے

غزل فیض پہنچے ہیں جو بہاروں سے پوچھتے کیا ہو دل نگاروں سے آشیاں تو جلا مگر ہم کو کھیلنا آ گیا شراروں سے کیا ہوا یہ کہ خوں میں ڈوبی ہوئی لپٹیں آتی ہیں لالہ زاروں سے ان میں ہوتے ہیں قافلے پنہاں دل شکستہ نہ ہو غباروں سے ہے یہاں کوئی حوصلے والا

فیض پہنچے ہیں جو بہاروں سے Read More »

نوید آمد فصل بہار بھی تو نہیں

غزل نوید آمد فصل بہار بھی تو نہیں یہ بے دلی ہے کہ اب انتظار بھی تو نہیں جو بھول جائے کوئی شغل جام و مینا میں غم حبیب غم روزگار بھی تو نہیں مریض بادۂ عشرت یہ اک جہاں کیوں ہے سرور بادہ بقدر خمار بھی تو نہیں متاع صبر و سکوں جس نے

نوید آمد فصل بہار بھی تو نہیں Read More »

یہ غم نہیں ہے کہ اب آہ نارسا بھی نہیں

غزل یہ غم نہیں ہے کہ اب آہ نارسا بھی نہیں یہ کیا ہوا کہ مرے لب پہ التجا بھی نہیں ستم ہے اب بھی امید وفا پہ جیتا ہے وہ کم نصیب کہ شائستۂ جفا بھی نہیں نگاہ ناز عبارت ہے زندگی جس سے شریک درد تو کیا درد آشنا بھی نہیں سمجھ رہا

یہ غم نہیں ہے کہ اب آہ نارسا بھی نہیں Read More »

دنیا کو روشناس حقیقت نہ کر سکے

غزل دنیا کو روشناس حقیقت نہ کر سکے ہم جتنا چاہتے تھے محبت نہ کر سکے سامان گل فروشیٔ راحت نہ کر سکے راحت کو ہم شریک محبت نہ کر سکے یوں کثرت جمال نے لوٹی متاع دید تسکین تشنہ کامئ حیرت نہ کر سکے اب عشق خام کار ہی ارماں کو دے جواب ہم

دنیا کو روشناس حقیقت نہ کر سکے Read More »

کچھ بھی دشوار نہیں عزم جواں کے آگے

غزل کچھ بھی دشوار نہیں عزم جواں کے آگے آشیاں بنتے گئے برق تپاں کے آگے زندگی نغمۂ دلکش ہے مگر اے ناداں تو نے سیکھا ہی نہیں آہ و فغاں کے آگے قصۂ بزم طرب تذکرۂ موسم گل خوب ہیں یوں تو مگر سوختہ جاں کے آگے ہم ہیں اور فصل خزاں فصل خزاں

کچھ بھی دشوار نہیں عزم جواں کے آگے Read More »