MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جان جان تجھ سے اگر مجھ کو محبت ہے تو ہے

جان جان تجھ سے اگر مجھ کو محبت ہے تو ہے اور دنیا کے لیے گر یہ قیامت ہے تو ہے کوئی اس کو جان جان کہہ کر بلا سکتا نہیں ساری دنیا میں بس اک مجھ کو اجازت ہے تو ہے جل رہا ہے سارا عالم یہ نگاہیں دیکھ کر اس کی نظروں کی […]

جان جان تجھ سے اگر مجھ کو محبت ہے تو ہے Read More »

مجھ سے اونچی اڑان ہے صاحب

مجھ سے اونچی اڑان ہے صاحب آپ کا یہ گمان ہے صاحب بارشیں آپ کو مبارک ہوں میرا کچا مکان ہے صاحب کم سے کم خواب دیکھ سکتا ہوں اتنی انکھوں میں جان ہے صاحب دوستوں کو بھلا نہیں سکتا پیٹ پر اک نشان ہے صاحب جو بھی بولوں گا سچ ہی بولوں گامنہ میں

مجھ سے اونچی اڑان ہے صاحب Read More »

اپنے اجڑے ہوئے گھر کو میں سجا کر دیکھوں

اپنے اجڑے ہوئے گھر کو میں سجا کر دیکھوں تری تصویر میں کمرے میں لگا کر دیکھوں یہ تو طے ہے کہ تو روٹھا ہوا ہوگا اب تک آ ذرا پاس تجھے پھر سے منا کر دیکھوں اس سے ملنے تو کئی بار گیا ہوں ویسے اس دفعہ گھر پہ اسے اپنے بلا کر دیکھوں

اپنے اجڑے ہوئے گھر کو میں سجا کر دیکھوں Read More »

اب تک تمہارے جیسا سہارا نہیں ملا Ub Tak Tumhare Jaisa Sahara Nahi Mila

اب تک تمہارے جیسا سہارا نہیں ملا دریا بہت ملے ہیں کنارہ نہیں ملا ایسا نہیں کہ میں ہی انا کا اسیر تھا وہ بھی تو پھر پلٹ کے دوبارہ نہیں ملا وہ گاؤں جس کو چھوڑ کے ہم شہر آگئے جب لوٹ کر گئے تو ہمارا نہیں ملا اک سمت پورا چاند تھا اور

اب تک تمہارے جیسا سہارا نہیں ملا Ub Tak Tumhare Jaisa Sahara Nahi Mila Read More »

خود اپنے واسطے یہ قیمتی سوغات مانگوں گا

خود اپنے واسطے یہ قیمتی سوغات مانگوں گا میں جنت میں ملوں گا تو تمہارا ہاتھ مانگوں گا محبت سے بھرے دو بول دامن میں گرا دینا میں تم سے جب بھی مانگوں گا یہی خیرات مانگوں گا ہراک قطرے میں تم شامل ہو اور کھل کے برس جاؤ خدا کی ذات سے ایسی میں

خود اپنے واسطے یہ قیمتی سوغات مانگوں گا Read More »

ہاتھوں سے ہر لکیر کھرچ کر مٹائی ہے

ہاتھوں سے ہر لکیر کھرچ کر مٹائی ہے تب جا کے وہ حسیں مری قسمت میں آئی ہے یہ زندگی تلاش محبت میں میں نے بھی ایسے گنوائی ہے کبھی ویسے گنوائی ہے ماتھے پہ لے کے پھرتا ہوں اس بے وفا کا غم میں نے بھی کس سلیقے سے تہمت سجائی ہے پہلے پہل

ہاتھوں سے ہر لکیر کھرچ کر مٹائی ہے Read More »

کرو یہ سرد الاؤ کہ کھیل ختم ہوا

کرو یہ سرد الاؤ کہ کھیل ختم ہوا تم اپنے سر کو جھکاؤ کہ کھیل ختم ہوا سرورِ عشق خمارِ وفا تمام ہوا چلو یہ جام اٹھاؤ کہ کھیل ختم ہوا میں خود ہی ٹوٹ کے بکھرا ہوا ہوں قدموں میں مجھے نہ پھر سے بناؤ کہ کھیل ختم ہوا فصیلِ شہر پہ لکھ دو

کرو یہ سرد الاؤ کہ کھیل ختم ہوا Read More »

پتھر بنا دیا کبھی شیشہ بنا دیا

پتھر بنا دیا کبھی شیشہ بنا دیا لوگوں نے مجھ غریب کو کیا کیا بنا دیا پھر ریت میری انکھ میں آ کر ٹھہر گئی اس کی جدائی نے مجھے صحرا بنا دیا حالت بہت خراب تھی پھر یوں ہوا کہ بس اس نے لگایا ہاتھ اور اچھا بنا دیا تم سے کہا تھا کوئی

پتھر بنا دیا کبھی شیشہ بنا دیا Read More »

جب کیا اس نے دل کا دیا مسترد

جب کیا اس نے دل کا دیا مسترد ہو گئی شہر جاں کی ہوا مسترد تم نے جو کچھ کہا میں نے سن تو لیا اچھا پھر سے کہو کیا کہا مسترد بے وفا بے وفا مجھ کو اتنا کہا میں نے غصے میں کر دی وفا مسترد پھر وہ جھوٹی تسلی وہی سلسلے اے

جب کیا اس نے دل کا دیا مسترد Read More »

پھولوں کے مرجھانے تک

پھولوں کے مرجھانے تک عشق کیا مر جانے تک تاریکی کی سانسیں ہیں ایک دیا جل جانے تک میں بوڑھا ہو جاؤں گا تیرے لوٹ کے آنے تک سیدھا سیدھا رستہ ہے مسجد سے میخانے تک کون تمہیں لے آیا ہے مجھ جیسے دیوانے تک مت پوچھو کیا گزری ہے آنسو انکھ میں آنے تک

پھولوں کے مرجھانے تک Read More »