MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

فیض پہنچے ہیں جو بہاروں سے

غزل

فیض پہنچے ہیں جو بہاروں سے
پوچھتے کیا ہو دل نگاروں سے

آشیاں تو جلا مگر ہم کو
کھیلنا آ گیا شراروں سے

کیا ہوا یہ کہ خوں میں ڈوبی ہوئی
لپٹیں آتی ہیں لالہ زاروں سے

ان میں ہوتے ہیں قافلے پنہاں
دل شکستہ نہ ہو غباروں سے

ہے یہاں کوئی حوصلے والا
کچھ پیام آئے ہیں ستاروں سے

ہم سے مہر و وفا کی بات کرو
ہوش کی بات ہوشیاروں سے

کوئے جاناں ہو دیر ہو کہ حرم
کب مفر ہے یہاں سہاروں سے

حبیب احمد صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم