MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

وہ کیا طلب جو بقدر عطائے یار نہ ہو

غزل خزاں نصیب کی حسرت بروئے کار نہ ہو بہار شعبدۂ چشم انتظار نہ ہو فریب خوردۂ الفت سے پوچھئے کیا ہے وہ ایک عہد محبت کہ استوار نہ ہو نظر کو تاب نظارہ نہ دل کو جرأت دید جمال یار سے یوں کوئی شرمسار نہ ہو قبا دریدہ و دامان و آستیں خونیں گلوں […]

وہ کیا طلب جو بقدر عطائے یار نہ ہو Read More »

تیری صدا کی آس میں اک شخص روئے گا

غزل تیری صدا کی آس میں اک شخص روئے گا چہرہ اندھیری رات کا اشکوں سے دھوئے گا شعلے ستم کے لائے گی اب رات چاندنی سورج بدن میں دھوپ کے خنجر چبھوئے گا اے شہر نا مراد تجھے کچھ خبر بھی ہے دریا دکھوں کے زہر کا تجھ کو ڈبوئے گا پربت گرے گا

تیری صدا کی آس میں اک شخص روئے گا Read More »

مجھے تو یوں بھی اسی راہ سے گزرنا تھا

غزل مجھے تو یوں بھی اسی راہ سے گزرنا تھا دل تباہ کا کچھ تو علاج کرنا تھا مری نوا سے تری نیند بھی سلگ اٹھتی ذرا سا اس میں شراروں کا رنگ بھرنا تھا سلگتی ریت پہ یادوں کے نقش کیوں چھوڑے تجھے بھی گہرے سمندر میں جب اترنا تھا ملا نہ مجھ کو

مجھے تو یوں بھی اسی راہ سے گزرنا تھا Read More »

پتھر کی ہتھیلی پہ کوئی پھول اگا دے

غزل پتھر کی ہتھیلی پہ کوئی پھول اگا دے ذروں کی تب و تاب سے سورج کو جلا دے الفاظ کے سینے میں ہمکتے ہوئے خوں سے کاغذ پہ کسی خواب کی تصویر بنا دے اترا ہے پہاڑوں سے غضب ناک اندھیرا ایسے میں کوئی چیخ کے مجھ کو نہ ڈرا دے گلیوں میں ہوا

پتھر کی ہتھیلی پہ کوئی پھول اگا دے Read More »

آندھیاں آتی ہیں اور پیڑ گرا کرتے ہیں

غزل آندھیاں آتی ہیں اور پیڑ گرا کرتے ہیں حادثے یہ تو یہاں روز ہوا کرتے ہیں ان کے دل میں بھی کوئی کھوج تو پنہاں ہوگی یہ پرندے جو ہواؤں میں اڑا کرتے ہیں خون کا رنگ لئے گرم دھوئیں کے بادل سرد اخبار کے سینے سے اٹھا کرتے ہیں ان اندھیروں میں کوئی

آندھیاں آتی ہیں اور پیڑ گرا کرتے ہیں Read More »

عجیب رت ہے درختوں کو بے زباں دیکھوں

غزل عجیب رت ہے درختوں کو بے زباں دیکھوں دیار شام میں آہوں کا میں دھواں دیکھوں چہار سمت سے آئی تھی برف کی آندھی کہیں نہ پھول نہ رنگوں کی تتلیاں دیکھوں یقین ان کو دلاؤں چمکتے سورج کا حصار شب میں جو سہمے ہوئے مکاں دیکھوں زمیں کو تو نے ڈرایا سدا مصائب

عجیب رت ہے درختوں کو بے زباں دیکھوں Read More »

دشمنی کی اس ہوا کو تیز ہونا چاہئے

غزل دشمنی کی اس ہوا کو تیز ہونا چاہئے اس کی کشتی کو سر ساحل ڈبونا چاہئے چھین کر ساری امیدیں مجھ سے وہ کہتا ہے اب کشت دل میں آرزو کا بیج بونا چاہئے اس سمندر کی کثافت آنکھ میں چبھنے لگی اس کا چہرہ اور ہی پانی سے دھونا چاہئے سونپ جائیں ان

دشمنی کی اس ہوا کو تیز ہونا چاہئے Read More »

آنکھ پتھر کی طرح عکس سے خالی ہوگی

غزل آنکھ پتھر کی طرح عکس سے خالی ہوگی خون ناحق کی مگر جسم پہ لالی ہوگی مل کے بیٹھیں گے وہی لوگ ادھورے آدھے پھر وہی میز وہی سرد پیالی ہوگی ایسے موسم میں وہ چپ چاپ نظر جو آیا اس نے آنکھوں میں کوئی شکل بسا لی ہوگی میں نے جو چیز گنوا

آنکھ پتھر کی طرح عکس سے خالی ہوگی Read More »

ساتھ دریا کے ہم بھی جائیں کیا

غزل ساتھ دریا کے ہم بھی جائیں کیا زور لہروں کا آزمائیں کیا پیڑ سارے اجڑ چکے کب کے شور کرتی ہیں پھر ہوائیں کیا کب وہ گزرے گی اس خرابے سے فصل گل سے یہ پوچھ آئیں کیا پھول باغوں میں جب نہیں کھلتے پھول گملوں میں ہم کھلائیں کیا رات جنگل کی شہر

ساتھ دریا کے ہم بھی جائیں کیا Read More »

جس کا بدن گلاب تھا وہ یار بھی نہیں

غزل جس کا بدن گلاب تھا وہ یار بھی نہیں اب کے برس بہار کے آثار بھی نہیں پیڑوں پہ اب بھی چھائی ہیں ٹھنڈی اداسیاں امکان جشن رنگ کا اس بار بھی نہیں دریا کے التفات سے اتنا ہی بس ہوا تشنہ نہیں ہیں ہونٹ تو سرشار بھی نہیں راہوں کے پیچ و خم

جس کا بدن گلاب تھا وہ یار بھی نہیں Read More »